تھرپارکر میں ایمبولینس میں آگ لگنے اور دھماکے سے 10 ہلاکتیں: ’میری آنکھوں کے سامنے میرا خاندان ختم ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہNanadlal
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
سندھ کے ضلع تھرپارکر کے گاؤں ڈانو داندل میں بنیادی صحت مرکز کے باہر کھڑی ایک ایمبولینس میں آگ لگنے اور دھماکے کے واقعے میں اب تک ایک خاندان کے پانچ افراد سمیت 10 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک نومولود بچی بھی شامل ہے۔
پولیس اور محکمہ صحت کے حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون کو ڈلیوری کے بعد پیچیدگی کے باعث نومولود بچی سمیت مٹھی کے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آکسیجن سلینڈر تبدیل کرتے وقت آگ بھڑک اٹھی۔
’چاچو باہر کھڑے تھے، مگر بچ نہ سکے‘
’جسونت چاچا ہماری چاچی کو چھوڑنے کے لیے ڈسپینسری گئے تھے، جن کی وہاں نائٹ ڈیوٹی تھی۔ جس وقت ایمبولینس میں دھماکہ ہوا اس وقت چاچو وہیں باہر کھڑے تھے۔ مدد آنے پر انھیں ہسپتال لے جایا گیا مگر ان کے اتنے زخم تھے کہ وہ بچ نہ سکے، تب سے ہی چاچی بار بار بے ہوش ہو رہی ہیں۔‘
یہ الفاظ عارفہ کے ہیں، جو ڈانو داندل میں پیش آنے والے واقعے میں مرنے والے اپنے چاچا اور غم سے نڈھال خاندان سے متعلق بی بی سی کو آگاہ کر رہی تھیں۔
جسونت میگھواڑ کو 28 اکتوبر کی رات ایمبولینس میں لگنے والی آگ اور دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد مٹھی منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ تقریباً ساڑھے 11 بجے مٹھی دم توڑ گئے۔

،تصویر کا ذریعہNandlal
اس واقعے کی تفصیل جاننے کے لیے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ایس ایس پی مٹھی عارف عزیز نے بتایا کہ ’ڈانو داندل کی ڈسپینسری کے باہر موجود ایمبولینس میں مبینہ طور پر آکسیجن سلنڈر کے پھٹنے سے آگ لگی۔ تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘
ایمبولینس میں آگ لگنے اور دھماکہ ہونے کے اس حادثے میں سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک نومولود بچی، جسونت اور راجو نامی خاتون کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سلینڈر بدلتے وقت آگ بھڑک اٹھی‘

،تصویر کا ذریعہPolice
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج کے مطابق ایمبولینس میں آگ لگنے کا یہ واقعہ بدھ کی رات اس وقت پیش آیا جب ایک خاتون کو ڈلیوری کے بعد پیچیدگی کے باعث نومولود بچی سمیت مٹھی کے ہسپتال شفٹ کیا جا رہا تھا۔
ڈاکٹر لیکھراج کے مطابق ’خاتون کے ہاں بچی کی ڈلیوری تو نارمل ہوئی تاہم ان کو غیر معمولی بلیڈنگ شروع ہو گئی، جس کے باعث انھیں مٹھی کے ضلعی ہسپتال منتقل کرنا تھا۔ تاہم اس وقت آکسیجن سلینڈر میں آکسیجن کم محسوس ہوئی جس کے باعث ڈرائیور اور دیگر عملے نے سلینڈر بدلنے کا کام کیا جس دوران شدید دھماکہ ہو گیا۔‘
جسونت کی اہلیہ سکور اس بنیادی صحت کے مرکز میں بدھ کی رات اپنے شوہر کے ہمراہ پہنچیں تھیں۔ وہ اندر چلی گئیں تھیں جبکہ ان کے شوہر کچھ دیر باہر ٹھہرے۔
جسونت کی بھتیجی عارفہ کے مطابق ’جب دھماکہ ہوا تو ہمیں گھر پر تقریباً ایک گھنٹہ بعد پتا چلا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہاں دھماکہ ہو گیا ہے۔ وہاں نہ کوئی دوسری ایمبولینس تھی نہ کوئی فوری مدد کے لیے تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہاں لوگ مدد کے لیے پہنچ سکے۔‘
ان کے مطابق ’چاچا کو شدید زخمی حالت میں دیکھ کر چاچی صدمے میں چلی گئیں۔ وہ بار بار بے ہوش ہو رہی ہیں اور ان کو ڈاکٹر کی جانب سے مسلسل دوائیاں دی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جسونت ننگر پارکر میں کام کیا کرتے تھے۔ ان کے تین بچے ہیں، جن میں سے سب سے بڑا بیٹا نویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ جبکہ دو بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ چاچو سب سے چھوٹے بیٹے سے بہت پیار کرتے تھے اور اس کو اپنے جگر کا ٹکڑا کہتے تھے۔‘
ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہNandlal
اس سانحے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، مرنے والوں میں ایک نومولود بچی بھی شامل ہے۔
امولک نے اس واقعہ میں اپنی ماں، بہن، چاچی، بھائی اور نوزائیدہ بھانجی کھو دی ہے۔
پولیس کے مطابق سریش میگھواڑ کی کمسن بیٹی کو زخمی حالت میں پہلے ننگرپارکر اور پھر مٹھی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے انھیں کراچی ریفر کیا گیا تھا۔
وہ کراچی کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج تھیں تاہم 29 اکتوبر کی شام موت کے منہ میں چلی گئیں۔
امولک اس واقعہ کے عینی شاہد بھی ہیں، جنھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں، بہن، چاچی، بھائی اور نومولود بھانجی کو آگ کے شعلوں میں گھرا پایا۔

،تصویر کا ذریعہFaheem
وہ اس وقت ایمبولینس کے پاس کھڑے ہوئے تھے جب دھماکہ ہوا۔ ان کے مطابق 20 سے 25 منٹ تک کوئی مدد نہیں پہنچ سکی جبکہ دھماکے سے امولک کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا اور وہ خود بھی کچھ دیر کو ہوش کھو بیٹھے۔
امولک کے مطابق ایمبولینس میں ان کی ماں، بہن، نوزائیدہ بھانجی اور ایک چاچی موجود تھیں۔
ان کے مطابق ’میری بہن لاڈو ڈلیوری کے بعد مسئلے کے باعث والدہ، بھائی لچھمن اور چاچی کے ساتھ ہسپتال جانے کے لیے ایمبولینس میں تھیں۔ سب جانے کے لیے تیار تھے اور سلینڈر بدلا جا رہا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے آگ لگ گئی، میرا خاندان ہی ختم ہو گیا۔‘
امولک سب بتاتے ہوئے بار بار ہچکیوں سے رو رہے تھے، جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کو صدمے سے نکلنے میں وقت لگے گا۔
امولک کے کزن پون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گاؤں میں اس وقت سب افسوس کے لیے آ رہے ہیں، تاہم گھر کے تمام بڑے گھر کو چلانے والے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ لاڈو باجی کی موت کے بعد اب ان کے شوہر اپنی دو چھوٹی بچیوں کو سنبھال رہے ہیں۔‘
پون نے بتایا ’دوسری جانب لچھمن بھائی کی بھی موقع پر موت ہو گئی تھی۔ ان کے بھی دو بچے ہیں اور ان کی بیوہ دو روز سے صدمے سے بے حال ہیں۔ ایسا گھر جو ہمارا اجڑا کسی اور کا نہ اجڑے۔‘
21 سال سے خدمات انجام دینے والے ڈرائیور کی موت

،تصویر کا ذریعہPolice
حاجی پاندی راجن ڈانو داندل بی ایچ یو پلس میں گذشتہ 21 سال سے بطور ڈرائیور وابستہ تھے، جو اس حادثے میں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
حاجی پاندی نے اپنے لواحقین میں بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
حاجی پاندی راجن کے قریبی رشتہ دار فہیم نے جائے وقوع پر جا کر ان کی لاش کی شناخت بھی کی تھی۔
فہیم کے مطابق ’بدھ کی رات پاندی کے بیٹے عارف نے بتایا کہ اس کے پاس فون آیا ہے کہ ڈسپینسری میں گاڑی کو آگ لگی ہے اور بابا کا نمبر بند جا رہا ہے۔ ہم ان کو دیکھنے فوری نکلے، تقریباً 20 منٹ بعد وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لاشیں جلی ہوئی حالت میں بکھری ہوئی تھیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا چکا تھا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فہیم نے بتایا کہ ’میں نے ٹارچ کی روشنی میں اپنے کزن کو پہچان لیا، لیکن ان کے بیٹے کو میں نے دور کھڑے رہنے دیا۔ وہاں پولیس والے بھی تھے جن کے پاس جا کے میں نے پہچان کروائی اور شناخت بتائی پھر ان کے چہرے پر چادر ڈالی اور بیٹے کو اطلاع دی۔‘
ان کے مطابق ’دھماکے کی آواز اس قدر زوردار تھی کہ ہمیں اپنے گاؤں تک اس کی گونج سنائی دی۔ جمعے کی صبح کے وقت ان کی نماز جنازہ ہم نے ادا کی۔ ان کی بیٹیاں اور بیوہ غم سے نڈھال بیٹھی ہیں۔‘
فہیم کے مطابق ’وہ اپنی ملازمت سے اتنے مخلص تھے کہ کئی کئی دن گھر آنے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ آخری بار وہ ایک دن پہلے گھر آئے اور اپنے پوتے کو چپس اور کھانے کی چیزیں دے کر باہر سے ہی واپس ڈیوٹی پر چلے گئے تھے۔‘
تحقیقات میں اب تک کیا سامنے آیا؟
ڈی ایچ او تھرپارکر ڈاکٹر لیکھراج نے اس حادثے سے متعلق بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ڈانو داندل تعلقہ ننگر کے اس بنیادی مرکز صحت کا انتظام سندھ حکومت نے پی پی ایچ آئی کے سپرد کر رکھا ہے۔
ان کے مطابق وہاں او پی ڈی تو صبح آٹھ سے دن دو بجے تک ہوتی ہے تاہم باقی ایمرجنسی سروسز، ڈلیوری وغیرہ 24 گھنٹے جاری رہتی ہیں۔
ڈی ایچ او کے مطابق ’اس رات خاتون کے ہاں بچی کی ڈلیوری تو نارمل طریقے سے ہو گئی تاہم ان کو غیر معمولی بلیڈنگ شروع ہو گئی جس کے باعث انھیں مٹھی کے ہسپتال منتقل کرنا تھا۔ تاہم اس وقت آکسیجن سلینڈر کو بدلنے کا کام کیا گیا تاکہ راستے میں مسئلہ نہ ہو تو اس سلینڈر کو تبدیل کرتے ہوئے دھماکہ ہو گیا۔‘
ان کے مطابق عملے میں ڈرائیور، ڈسپنسر اور دو مڈ وائف مل کر اس مریض کی منتقلی کے دوران ایمبولینس میں موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہDHO
بنیادی ہیلتھ یونٹ میں عموماً کیا سہولیات میسر ہوتی ہیں؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر لیکھراج نے بتایا کہ بی ایچ یو میں عموماً ایک ڈاکٹر کے ساتھ ٹیکنیشن اور ڈسپنسر ہوتے ہیں جبکہ لیب ٹیکنیشن بھی موجود ہوتا ہے۔
ایس ایس پی سٹی مٹھی عارف عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی اور دیگر تفتیشی ادارے بھی شامل رہے ہیں اور انھوں نے اپنی رپورٹ میں دہشت گردی کے کسی بھی امکان کو رد کیا ہے۔
ایس ایس پی عارف عزیز نے دعویٰ کیا کہ ’تفتیش میں اب تک سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق دھماکہ آکسیجن سلینڈر کی لیکیج کے باعث ہوا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس واقعہ پر سیکریٹری ہیلتھ نے کمیٹی تشکیل دی ہے جو کسی بھی ممکنہ غفلت کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر انکوائری میں کوئی بھی غفلت سامنے آئی تو پھر اس کی ایف آئی آر کی جا سکے گی تاہم ابھی تک ممکنہ طور پر یہ دھماکہ گیس کی لیکیج کے باعث ہوا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آکسیجن سلینڈر پھٹا نہیں تاہم چونکہ آکسیجن کی لیکیج کی کوئی بو نہیں ہوتی اور محسوس نہیں کیا جا سکتا، ممکنہ طور پر اس دوران اگر کوئی سگریٹ پیے تو وہ شعلہ دھماکے کا سبب بن سکتا ہے تاہم ان خطوط پر ابھی کام جاری ہے۔‘
اس حوالے سے بات کرنے کے لیے بی بی سی اردو نے پی پی ایچ ائی سندھ کے سربراہ جاوید جاکھرانی سے متعدد بار رابطہ کیا، مگر تاحال انھوں نے جواب نہیں دیا۔
تاہم جیو نیوز سے گفتگو میں جاوید جاگیرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایمبولینس میں ایس او پی کے مطابق آکسیجن سلینڈر تھا اور اس میں ایل پی جی سلینڈر فٹ نہیں تھا گاڑی پیٹرول پر چل رہی تھی‘
زخمی مڈ وائف کا آنکھوں دیکھا احوال
ثمینہ اس مرکز صحت میں کمیونٹی مڈ وائف کے طور پر کام کرتی ہیں اور اس واقعہ میں وہ بھی زخمی ہوئی ہیں۔
مٹھی کے ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد اس وقت وہ مزید علاج کے لیے کراچی کے لیاقت نیشنل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ثمینہ کے شوہر سلیمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ ڈسپینسری سے ملحقہ اپنے کوارٹر میں تھے اور ثمینہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھیں۔
’دھماکے کی آواز سنتے ہی میں ڈسپینسری کی جانب بھاگا تو ایمبولینس کے ہر طرف وہاں آگ ہی آگ دکھائی دی۔ ثمینہ، آیا اور دیگر عملہ گیٹ پر کھڑے تھے اور یہ دھماکہ ہوتے ہی گیٹ کے اندر کی جانب بھاگے۔‘

،تصویر کا ذریعہDHO
ان کے مطابق ’تقریباً 20 سے 25 منٹ تک آگ کی شدت کی وجہ سے ہم آگے نہیں جا سکے۔ ایک آیا، نورجہاں (مڈ وائف) معمولی زخمی تھیں جبکہ ثمینہ کے پیٹ پر زخم آیا۔ پھر پولیس اور ایمبولینس کے عملے نے مٹھی کے ہسپتال پہنچایا۔ ان کا خون بہت بہہ رہا تھا۔ بچہ گھر پر پریشان ہیں لیکن شکر اس بات کا ہے کہ میری بیوی کی جان بچ گئی۔‘
بی ایچ یو پلس میں کیا سہولیات موجود ہوتی ہیں؟
ڈاکٹر آکاش ڈانو ڈاندل کے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو پلس) میں تعینات ہیں۔
جب ہم نے ان سے مرکز صحت پر موجود سہولیات کے حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مرکز صحت میں او پی ڈی کے علاوہ ویکسینیشن اور دیگر بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں، تاہم خواتین کی ڈلیوری کے لیے کمیونٹی مڈ وائف موجود ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق گائنی کی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتیں اس لیے نارمل ڈلیوری کمیونٹی مڈ وائف کی مدد سے کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق ’جس مرکز صحت پر حادثہ ہوا ہے وہ بی ایچ یو پلس ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہاں عام مراکز کی نسبت مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اس میں اتنی سہولت ہوتی ہے کہ وہ ماہانہ سو سے زائد ڈلیوری کروا سکتا ہے۔‘
دوسری جانب ڈی ایچ او نے بی بی سی کے سوال پر بتایا کہ ضلع مٹھی اور تحصیل ننگر پارکر کے بڑے ہسپتال کے سیٹ اپ سمیت پورے ضلع بھر میں بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریوں کی کل تعداد 310 ہے۔




















