آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خیبر پختونخوا کے ’غیرفعال‘ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور ’شاہی مہمان خانہ‘ کیا ہے؟
- مصنف, عزیز اللہ خان اور روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اُردو، پشاور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پشاور ہائیکورٹ نے دو روز قبل خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو صوبے کے غیرفعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کے معاملے پر 22 اکتوبر (آج) تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
11 اکتوبر کی صبح خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے سہیل آفریدی منظرِ عام سے غائب ہیں اور 12 اکتوبر کو پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ سہیل آفریدی اور اُن کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔
13 اکتوبر کو سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی صوبے کے حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ اُن کے بھائی (سہیل آفریدی) کا سراغ لگانے اور انھیں بازیاب کروانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے، اور اگر وہ سرکاری تحویل میں ہیں تو انھیں پشاور ہائیکورٹ کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ آئین کے تحت اُن کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اپنے درخواست میں محمد عامر نے الزام عائد کیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے والی رات سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے ’اغوا‘ کر لیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے مطابق مسلح اور نقاب پوش افراد وزیراعلیٰ ہاؤس سے سہیل آفریدی کو لے گئے اور اس کے بعد اُن کے مقام کے بارے میں اہلخانہ کو واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی رہنما بھی اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ حفاظتی تحویل میں لیے جانے کے بعد سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اگرچہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) تھری کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔ تاہم اب تک صوبے کی موجودہ حکومت کی جانب سے یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ غیرفعال وزیر اعلیٰ کو کس قانون کے تحت حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔
19 اکتوبر (منگل) کو سہیل آفریدی کے بھائی کی درخواست پر سماعت کے دوران پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا تھا کہ وزیراعلیٰ کو کہاں رکھا گیا ہے؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا تھا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق انھیں دو مقامات پر رکھا گیا ہے، جن میں پشاور کا شاہی مہمان خانہ بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’شاہی مہمان خانہ‘ کیا ہے؟
شاہی مہمان خانہ پشاور کے گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس کے قریب چھاؤنی کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ ایک تاریخی سرکاری عمارت ہے، جسے ’رائل گیسٹ ہاؤس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ برطانوی دور میں تعمیر کی گئی اس عمارت کو سرکاری مہمانوں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اگست 2019 میں صوبائی حکومت نے اسے قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی رہائش کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کیا تھا۔
اس کیس کی 20 اکتوبر کو ہونے والی مختصر سماعت کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
اس سماعت میں عدالت نے ابھی درخواست گزار کی اس استدعا پر حتمی فیصلہ نہیں دیا کہ سہیل آفریدی کی تحویل قانونی ہے یا غیر قانونی۔
اس بارے میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنماؤں سے رابطہ کیا گیا ان میں بیشتر نے اس معاملے پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا کہ سہیل آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کے ایک صوبائی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ ان کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی کو پشاور کے شاہی مہمان خانے کے ہی ایک کمرے میں رکھا گیا تھا، تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر ، بابر سلیم سواتی اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلی خالد خورشید کو پشاور ہی سے تحویل میں لیا گیا تھا۔
اُن کے مطابق خالد خورشید کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ سہیل آفریدی سمیت دیگر تینوں افراد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں عدالت سے رجوع کیا گیا ہے اب دیکھتے ہیں کہ عدالت میں حکومت کیا بتاتی ہے۔
حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
خیبر پختونخوا میں گونر راج کے نفاذ کے بعد ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس میں وزارت اطلاعات کا محکمہ پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما ثمر ہارون بلور کو دیا گیا ہے۔
اُن سے جب سہیل آفریدی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں اور محفوظ ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کا اپنے اہلخانہ سے رابطہ بھی ہے۔
ثمر ہارون بلور کے مطابق جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے انھیں منظر عام پر لایا جائے گا اور اگر اُن پر کوئی مقدمات ہوئے تو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اُن کے مطابق اُن پر اگر پہلے سے کوئی مقدمات ہیں، جیسا کہ ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے کا کیس، تو اُس کا سامنا انھیں کرنا پڑے گا۔
ایک سوال کے جواب میں ثمر بلور کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی سیاسی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا لیکن اگر کہیں کوئی بےضابطگی ہو گی اس پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حفاظتی تحویل کی قانونی حدود کیا ہیں؟
سہیل آفریدی کو کس قانون کے تحت حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے؟ ثمر ہارون بلور نے بی بی سی کو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’احتیاطی تحویل سے مراد ریاست کی جانب سے کسی شخص کو قانون کے تحت اس خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لینا ہے کہ وہ مستقبل میں امنِ عامہ، قومی سلامتی یا قانون میں بیان کردہ کسی دوسرے مفاد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کا مقصد کسی ایسے جرم کی سزا دینا نہیں ہوتا جو عدالت میں ثابت ہو چکا ہو، بلکہ کسی ممکنہ خطرے کو روکنا ہوتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عام فوجداری گرفتاری سے مختلف ہے، جس میں کسی شخص کو مبینہ جرم کے سلسلے میں گرفتار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد فوجداری نظامِ انصاف کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔‘
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی کو 'حفاظتی تحویل' میں لینے کے لیے ایم پی او تھری کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہر قانون عبدالمعیز جعفری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'میرے علم میں ایم پی او کے علاوہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں' جس کے تحت کسی کو حفاظتی تحویل میں لیا جا سکے۔
ماہر قانون عثمان وڑائچ بھی کہتے ہیں کہ ملک میں کسی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لیے ایم پی او تھری کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او اور اس کی دفعہ تین ڈپٹی کمشنر یا صوبائی محکمۂ داخلہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ 'عوامی تحفظ یا امن عامہ کے قیام کے لیے' کسی فرد کو بغیر مقدمہ چلائے تحویل میں رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
ماہر قانون عبدالمعیز جعفری کے مطابق حفاظتی تحویل میں چھ ماہ تک کی توسیع ہو سکتی ہے، تاہم 'اس کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے اس حوالے سےعدالت کو مطلع کرنا ہوتا ہے۔'
'تاہم اگر آپ ایم پی او کا استعمال دیکھیں تو آپ کو نظر آتا ہے کہ اس میں خودکار طریقے سے ہر تین ماہ یا چھ ماہ بعد کی توسیع ہو جاتی ہے۔ کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی، بس یہ کہا جاتا ہے کہ امن عامہ کا معاملہ ہے۔'
قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت گرفتاری اور حراست سے متعلق بنیادی تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ عام گرفتاری کی صورت میں گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
اُن کے مطابق آئین میں دی گئی استثنائی صورتوں کے علاوہ گرفتار شخص کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا بھی لازم ہے اور اس کے بعد حراست جاری رکھنے کے لیے متعلقہ قانونی اختیار درکار ہوتا ہے۔
احتیاطی حراست کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 10 کی ذیلی شق 4 اور ذیلی شق 5 کی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر تین ماہ سے زیادہ احتیاطی حراست جاری رکھنے کے لیے متعلقہ نظرثانی بورڈ کی آئینی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ حراست کی وجوہات بتانے اور دیگر قانونی تحفظات کے لیے بھی آئینی شرائط موجود ہیں۔ تاہم، کسی مخصوص حراست کی زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ قانون، اس کی دفعات اور آئینی استثناؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سہیل آفریدی کے معاملے میں اس لیے ضروری ہے کہ حکومت عدالت کے سامنے واضح کرے کہ آیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا حراستی حکم موجود ہے، اس کی قانونی بنیاد کیا ہے، اور ان کی تحویل کے دوران آئینی تقاضوں پر عمل کیا گیا ہے یا نہیں۔