ارشاد بھٹی کی معافی اور میرا کی وضاحت: ’اکیلی عورت ہوں اور میرا سفر سب کے سامنے ہے‘

،تصویر کا ذریعہYoutube/Irshad Bhatti
’میں مریم نواز کی طرح ہی کام کرتی ہوں، میں لالی وڈ کوئین ہوں، پوڈ کاسٹ میں جو کچھ ہوا میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گی۔ بس میں ارشاد بھٹی صاحب کو معاف کرتی ہوں، وہ میرے دل کے اب بھی قریب ہیں۔‘
یہ کہنا ہے اداکارہ میرا کا جو ایک پوڈ کاسٹ میں میزبان اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے رویے اور ان کی جانب سے پوچھے گئے متنازع سوالات پر اپنے نپے تلے ردعمل کی وجہ سے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔
سوشل میڈیا پر جب سے اس پوڈ کاسٹ کا ٹیزر جاری کیا گیا تب سے ہی ارشاد بھٹی کی جانب سے پاکستانی اداکارہ سے کیے گئے ’قابلِ اعتراض‘ سوالات اور ان کے انٹرویو کے طریقے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
شدید عوامی تنقید کے بعد ارشاد بھٹی نے منگل کے روز ایکس پر اپنی پوسٹ میں اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے معذرت کرتے ہوئے اداکارہ میرا سے بھی معافی مانگ لی تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ ہر کوئی ہر لمحے کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے اور اگر بے دھیانی میں کچھ غلط ہو جائے تو معذرت کر لینی چاہیے، ان سب افراد کا شکریہ جنھوں نے مجھے یہ احساس دلایا۔‘

’میں عورت کارڈ نہیں کھیل رہی، جدوجہد کرنے والی ورکنگ ویمن ہوں‘
ارشاد بھٹی کے ساتھ پوڈ کاسٹ کے دوران متنازع سوالات اور اس سے اُٹھ کر جانے پر بی بی سی نے اداکارہ میرا سے رابطہ کیا جنھوں نے پہلے تو ارشاد بھٹی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وہ پوڈکاسٹ میرا کی آنے والی فلم کی تشہیر کے لیے نہیں تھی۔
خیال رہے کہ میرا سے معذرت سے قبل ارشاد بھٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ادکارہ میرا معاوضہ لے کر اس پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئیں اور ایک ایجنسی کمپنی کے ذریعے اُنھیں ادائیگی کی گئی۔
ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ ’یہ میری دوست کا انٹرویو تھا اور یہ پوڈ کاسٹ کسی فلم کی پروموشن کے لیے نہیں تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارشاد بھٹی نے اپنے اُوپر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’میں نے اپنی دوست (میرا) سے جن موضوعات کے بارے میں پوچھا، ان پر درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سوالات ہو چکے ہیں، عدالتی مقدمات درج ہو چکے ہیں، ٹی وی چینلز اور اخبارات میں سب کچھ چھپ چکا ہے۔‘
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'صرف پوڈ کاسٹ کا پرومو نہ دیکھیں بلکہ پوری پوڈ کاسٹ دیکھیں۔ پوڈ کاسٹ سے پہلے ہم ملے تھے اور ہم نے تمام معاملات پر بات کی تھی۔'
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی کے اسد صہیب سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ میرا نے ارشاد بھٹی کے ان دعوؤں پر کسی بھی قسم کے ردعمل سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اس معاملے میں کچھ نہیں کہوں گی۔ مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔‘
’اس سوال کا جواب بہت لمبا ہے، اس سوال کا جواب اتنا ہی لمبا ہے جتنا لاہور سے راولپنڈی کے درمیان ٹرین کے سفر کے دوران وقت لگتا ہے۔ تو میں فون پر یہ کیسے بتا سکتی ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اکیلی عورت ہوں اور جدوجہد کر رہی ہوں اور میرا سفر سب کے سامنے ہے۔ میں عورت کارڈ نہیں کھیل رہی لیکن میں عورت ہوں۔ ارشاد بھٹی صاحب ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ میں ارشاد بھٹی کی معذرت قبول کرتی ہوں۔‘
پوڈ کاسٹ سے اُٹھ کر جانے کے سوال پر اداکارہ میرا کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی مرضی سے پوڈ کاسٹ سے اُٹھ کر گئی اور میں نے بہت اچھی طرح انھیں خدا حافظ کیا۔ بہت اخلاق سے، بہت پیار سے اُن کو میں نے ڈیل کیا۔‘
’پوڈ کاسٹ کے دوران میں نے کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کی، اُن سے میں نے درخواست کی کہ میں فلم کے بعد آپ سے بات کروں گی اور سب کو نظر آ رہا ہے کہ میں کس طرح ان سے درخواست کر رہی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہARY FILMS
میرا نے کہا کہ ’میں اپنی فلم ’سائیکو‘ کی پروموشن میں مصروف ہوں اور لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس میں میرے ساتھ تعاون کریں۔ میں اپنی فلم پروموٹ کر رہی ہوں، میں اس فلم کی پروڈیوسر ہوں۔ یہ میرا بزنس ہے اور میرا کام ہے۔ میرے کام کا احترام کریں۔‘
میرا کا کہنا تھا کہ ’میں ایک بزنس ویمن اور انجیلنا جولی، مادھوری ڈکشٹ اور عالیہ بھٹ کی طرح اداکارہ ہوں اور لالی وڈ کی کوئین ہوں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’جس طرح مریم نواز ایک ورکنگ ویمن ہیں، اسی طرح میں فلموں میں کام کرتی ہوں۔ یہ کوئی نیا کام تو نہیں ہے۔ کئی برسوں سے میں یہ کام کر رہی ہوں۔‘
’ان سوالات کا جواب آپ کس کو سنانا چاہتے تھے‘
ارشاد بھٹی کی اس پوڈ کاسٹ پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے اور بہت سے صارفین اُنھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
بابر نامی صارف نے لکھا کہ اگراس پوڈ کاسٹ کے لیے رقم بھی دی گئی تھی تو ’پھر بھی ایسے سوالات اخلاقی قدروں کے منافی تھے اور اس سے خود پوڈ کاسٹر کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔‘
شامل خان نامی صارف نے لکھا کہ ’ایک سادہ سا سوال ہے کہ آپ اس طرح کے سوالات کے جوابات کس کو سنانا چاہتے ہیں؟‘
سعدیہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’میں ارشاد بھٹی کی مداح رہی ہوں، جب وہ بدعنوان سیاست دانوں سے تلخ سوالات پوچھتے ہیں، لیکن جہاں کسی عورت کی عزت کا معاملہ ہو تو اسے خدا پر چھوڑ دینا چاہیے۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ میرا ان سوالات سے خوش نہیں تھیں۔‘
مدثر نامی صارف نے ایکس پر ارشاد بھٹی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں آپ کا پرستار ہوں، لیکن اس معاملے پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہوئے میں اتنا ہی کہوں گا، عورت چاہے کوئی بھی ہو ایک سمجھدار مرد کو بھری محفل میں یا کسی آن لائن پلیٹ فارم میں اس کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔‘
بعض صارفین ارشاد بھٹی کی معذرت پر اُن کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔
عمر فاروق نامی صارف نے لکھا کہ ’جناب آپ نے دل جیت لیے۔ معافی مانگنا انسان کو عظیم بناتا ہے۔‘
شام نامی صارف نے لکھا کہ ’دیر آِید درست آید۔ یہ اچھا قدم ہے جب کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اسے کھلے دل سے اس کا اعتراف کرنا چاہیے اور معافی مانگنی چاہیے۔ یہ انسان کو چھوٹا نہیں بناتا۔‘



























