ندال حسن کو فائرنگ سکواڈ سے سزائے موت دینے کا عمل براہ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

ندال حسن
،تصویر کا کیپشنندال حسن نے 2013 میں اپنے فوجی مقدمے کے دوران کہا تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا تحفظ کر رہا ہے
    • مصنف, سرین حبیشیان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ عوام سابق امریکی فوجی میجر ندال حسن کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہ راست ٹی وی پر دیکھ سکیں گے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ندال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی، جس نے 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں پہلی عوامی سزائے موت ہو گی۔

سزائے موت کے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اسے براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے ’غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔‘

ہیگستھ نے اپنے فیصلے کے دفاع میں کہا تھا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘

ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے براہِ راست نشریات دکھانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی یاد دلاتا ہے۔‘

پینٹاگون نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ ندل حسن کو 60 برس سے زیادہ عرصے میں پہلی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے پر سزائے موت دی جائے گی۔

ورجینیا سے تعلق رکھنے والے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے فورٹ ہڈ عمارت میں 13 غیر مسلح فوجیوں کو ہلاک کیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس حملے میں سابق امریکی فوجی سارجنٹ الانزو لنسفورڈ کو سات گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ اس کے فعل کے مطابق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ہر کسی کو براہِ راست نشریات دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ وہ اس کے نوجوانوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، تاہم ان کے مطابق حملے سے متاثرہ افراد کو یہ موقع ملنا چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’جہاں تک ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں، زندہ بچ جانے والوں کے خاندانوں اور خود بچ جانے والوں کا تعلق ہے، ہاں، میرا خیال ہے کہ ہمیں اسے بغیر کسی سنسرشپ کے دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

لنسفورڈ کا کہنا ہے کہ وہ پھانسی کے وقت موجود ہوں گے اور گولی چلانے سے پہلے چاہتے ہیں کہ حسن ان کی آنکھوں میں دیکھے۔

’میں چاہتا ہوں کہ وہ جان لے کہ وہ ناکام ہوا۔ میں اب بھی یہاں موجود ہوں۔‘

ہیگستھ نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ حسن کو ’فوجیوں کا فائرنگ سکواڈ ملے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے تو ہیگستھ نے جواب دیا: ’مجھے پرواہ نہیں۔ 3 دسمبر کو ہم اسے دیکھیں گے۔‘

پیٹ ہیگسیتھ

پینٹاگون کے ترجمان نے پیر کے روز کہا تھا کہ ٹرمپ نے وزیرِ دفاع کی سفارش کی منظوری دے دی ہے۔

بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے پوچھا ہے کہ آیا ٹرمپ براہِ راست نشر کی جانے والی اس سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں۔

اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زیادہ سزائے موت پر عمل درآمد ہوا، لیکن صرف دو ممالک میں یہ کارروائیاں عوامی طور پر کی گئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں 11 اور افغانستان میں چھ عوامی پھانسیاں دیے جانے کا علم ہوا ہے۔

سیکرٹری امریکی فوج کے مطابق 3 دسمبر کو ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا اور یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہو گا کہ فوجی سطح پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔

عدالت میں حسن نے ’غلطی‘ پر معذرت کی۔

اس نے 2013 میں اپنے فوجی مقدمے کے دوران کہا تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا تحفظ کر رہا ہے۔

ملز نے کہا کہ حسن کے مقدمے میں اپیل کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور غالب امکان ہے کہ وہ وفاقی عدالت میں اپنی سزا اور فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست کرے گا، جس سے ممکنہ طور پر سزا مؤخر ہو جائے گی۔

ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت عمل میں آتی ہے تو انھیں حیرت ہو گی۔

انھوں نے مزید کہا: ’اسے براہِ راست نشر کرنا، فائرنگ سکواڈ کا استعمال ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش سے زیادہ کچھ نہیں، اور اس کا امکان کم ہے، انصاف کی کسی صورت کے حصول کی بات تو دور رہی۔‘

ییل لا اسکول میں وزٹنگ لیکچرر یوجین آر فائیڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’واقعی ایک افسوسناک فیصلہ‘ ہے۔

انھوں نے کہا: ’کسی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنا قرونِ وسطیٰ کی بات معلوم ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے ہم بطور معاشرہ اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے تھے، کم از کم میں آج تک یہی سمجھتا تھا۔‘

فائیڈل نے کہا کہ اگر حسن قانونی کارروائی کرتا ہے تو ’یہ کارروائیاں برسوں جاری رہیں گی‘ اور ’صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں مدت سے کہیں زیادہ طویل ہوں گی۔‘

امریکہ کی کچھ ریاستوں میں سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہوا دیکھنا ممکن ہے۔ بہت سی ریاستوں میں صحافیوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے اور جس شخص کو سزا دی جانی ہو وہ بھی لوگوں کو مدعو کر سکتا ہے۔

بعض ریاستیں عام شہریوں کو بھی رضاکارانہ طور پر گواہ بننے کی اجازت دیتی ہیں۔

تاہم فورڈہم یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر ڈیبورا ڈینو کہتی ہیں کہ ’کبھی بھی کسی سزائے موت کی براہِ راست نشریات نہیں ہوئی۔‘

ان کے مطابق براہِ راست نشریات ’شفافیت کی ایسی سطح کو لازمی بنا دے گی جو شاید اس ملک میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سزائے موت کی حامی ہے، اگرچہ اس حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اگر آپ سزائے موت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو دکھائیں گے کہ اس ملک میں یہ کیسے نافذ کی جاتی ہے۔ اور پھر لوگوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جسے بہت سے لوگ نظر انداز کرتے ہیں۔‘

ڈینو کے مطابق براہِ راست نشریات کے حوالے سے اہم سوالات موجود ہیں، مثلاً آیا اس پر عمر کی پابندی ہو گی یا نہیں، اور آیا یہ اس آن لائن پلیٹ فارم کی پالیسیوں سے متصادم ہو گی جو نشریات کی میزبانی کرے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ پھانسیاں چین، ایران، سعودی عرب، یمن اور امریکہ میں دی گئیں۔

امریکی حکومت نے 17 سال تک کسی شخص کو پھانسی نہیں دی تھی، یہاں تک کہ بطور صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے آخری سال میں 13 سزاؤں پر تیزی سے عمل درآمد کیا گیا۔

اقتدار میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے فوری طور پر اپنے پیش رو جو بائیڈن کی وفاقی سزائے موت پر عائد پابندی ختم کر دی۔

ملک میں آخری بار 1961 میں امریکی فوج کے ایک اہلکار کو 11 سالہ آسٹرین بچی سے ریپ کے جرم میں سزا یافتہ قرار دیے جانے کے بعد موت کی سزا دی گئی۔

اس سزا کی منظوری اُس وقت کے صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے دی تھی اگرچہ متاثرہ بچی کے خاندان نے جان ایف کینیڈی سے رحم کی اپیل کی تھی۔

فائرنگ سکواڈ کے ذریعے آخری فوجی سزائے موت جنوری 1945 میں دی گئی تھی، جب امریکی فوج کے ایک نوجوان مفرور سپاہی ایڈی سلووِک کو دوسری عالمی جنگ کے آخری مہینوں میں گولی مار دی گئی تھی۔

اضافی رپورٹنگ: کواسی گیامفی آسیئدو اور کالی ہیز