سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا مطالبہ: پاکستان کو ایک سال کے دوران کتنا نقصان ہوا اور کیا سلامتی کونسل انڈیا پر دباؤ ڈال سکتی ہے

Indus water treaty

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, اسد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انڈیا کے یکطرفہ فیصلے کا نوٹس لے کیونکہ اس معاہدے کی معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

جمعرات کو اقوامِِ متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب عاصم افتخار نے اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے ایک خط اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر کے حوالے کیا۔

واضح رہے کہ انڈیا نے گذشتہ برس اس کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط محدود کرنے کے علاوہ دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق سنہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کر دیا تھا۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں انڈیا کی سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مشن نے جمعرات کو ایکس پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ انڈیا کی جانب سے ایک سال سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی وجہ سے امن و سلامتی کے علاوہ انسانی بنیادوں پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ اس خطرناک صورتحال کا نوٹس لے اور انڈیا سے کہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کو بحال کرے۔

خط میں سلامی کونسل کے ایجنڈے میں موجود جموں و کشمیر کے تنازع اور اس سے متعلق قراردادوں پر بھی توجہ دلائی گئی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہX/@PakistanUN_NY

یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم اِن تینوں دریاؤں (سندھ، چناب، جہلم) کے بھی 20 فیصد پانی پر انڈیا کا حق ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے سابق ایڈیشنل کمشنر شیراز میمن کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی بنیادی ذمہ داریوں میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کا اجلاس ہونا، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنا اور دونوں اطراف دریاؤں پر جاری پراجیکٹس پر دوسرے ممالک کی معائنہ ٹیموں کے دورے کرنا شامل ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنرز عموماً مئی کے مہینے میں یہ اجلاس کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس کی سالانہ رپورٹ یکم جون کو پیش کی جاتی ہے۔ شیراز میمن کے مطابق عملدرآمد کی معطلی کا مطلب یہ ہے یہ اجلاس، معائنہ دورے یا دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی ڈیٹا شیئرنگ نہیں ہو گی۔

ایک سال سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوا اور کیا اس کے معطل رہنے سے پاکستان کو مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور اس کے زراعت پر کیا اثرات پڑیں گے؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے آبی ماہرین سے بات کی۔

Indus water treaty

،تصویر کا ذریعہPMO

معاہدے کی معطلی سے ایک برس کے دوران پاکستان کو کتنا نقصان ہوا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کہتے ہیں کہ اگر ایک فریق کسی بھی معاہدے سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو یہ اس کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر پورے ایک سال پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے پاکستان کو زیادہ نقصان تو نہیں ہوا تاہم آگے چل کر اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ اگر ایک فریق کسی دہائیوں پرانے معاہدے کو معطل رکھتا ہے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے فریق کی تشویش تو بڑھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر سلامتی کونسل سے رُجوع کیا۔

جماعت علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کوئی رعایت نہیں تھی بلکہ اس میں ہم نے تین دریا انڈیا کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

’ہر معاہدے کا ایک تقدس ہوتا ہے اور وہ بحال رہنی چاہیے، ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم اس معاہدے کی ساکھ ہے۔ ‘

اُن کے بقول ’میں نہیں سمجھتا کہ انڈیا میں کوئی صلاحیت یا اتنی سکت ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے لیکن مستقبل میں اگر اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس کے اثرات پاکستان پر لازمی پڑیں گے۔‘

سابق رُکن قومی اسمبلی اور آبی اُمور کے ماہر محسن لغاری کہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا بہتے ہوئے پانی میں ذخیرہ بنا سکتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان کی جانب بہنے والے دریائے چناب کی بات کریں تو انڈیا شرارت یہ کرتا ہے کہ وہاں وہ اپنے ڈیم اچانک بھرنا شروع کر دیتا ہے جس سے پاکستان کی جانب پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔‘

اُن کے بقول اسی طرح انڈیا کی جانب سے اچانک ان ذخیروں کو خالی کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بہت زیادہ پانی پاکستان کی جانب آ جاتا ہے۔

محسن لغاری کہتے ہیں کہ پاکستان کا زرعی نظام ’وارہ بندی‘ پر مبنی ہے، یعنی کسان کو اس کی باری پر پانی ملتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ایک مخصوص وقت میں اگر دریا یا نہر میں پانی نہیں تو پھر کسان کو اس کی باری پر پانی نہیں ملتا۔

اُن کے بقول سندھ طاس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے حکام پانی کے بہاؤ سے متعلق معاملات پر رابطے میں رہتے تھے لیکن ایک سال سے یہ رابطہ نہ ہونے سے دونوں ممالک ان اعداد و شمار کو شیئر نہیں کر رہے۔

محسن لغاری کہتے ہیں کہ فصل کے لیے وقت بہت اہم ہوتا ہے اور اگر مقررہ وقت پر پانی نہ ملے تو نقصان تو کسان کو ہی ہوتا ہے۔

’فوری خطرہ نہیں لیکن خطرے کا الارم ضرور ہے‘

جماعت علی شاہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا آگے چل کر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی میں رکاوٹ ڈالنے والے منصوبے بناتا ہے تو پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ میں فرق پڑے گا۔

’یہ ہو سکتا ہے کہ جب ہمیں پانی چاہیے ہو تو نہ ملے اور جب پانی کی طلب کم ہو تو ضرورت سے زیادہ پانی ہمارے پاس ہو۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اگر آج انڈیا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی منصوبہ شروع کرتا ہے تو اگلے پانچ سے 10 برسوں کے دوران پاکستان کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔

جماعت علی شاہ کہتے ہیں کہ موسم سرما اور اس سے قبل گذشتہ برس آنے والے سیلاب کے دوران انڈیا نے پانی کے اخراج میں ردوبدل کی کوشش کی تھی لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ اس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچ رہا ہے تو فی الحال ایسا نہیں۔

محسن لغاری کہتے ہیں کہ گذشتہ برس سیلاب کے دوران انڈیا اور پاکستان نے انڈس واٹرز کمشنرز کی سطح پر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار شیئر نہیں کیے تھے اور بعد ازاں رضاکارانہ طور پر سفارتی چینلز سے پاکستان کو بتایا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر انڈیا کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق آگاہ نہیں کیا جاتا تو اس سے منصوبہ بندی پر فرق پڑ سکتا ہے۔ ’کبھی ضرورت سے کم پانی ملے گا تو کبھی بہت زیادہ پانی سیلاب کے خدشات بڑھا دے گا۔‘

Dam Pakistan

،تصویر کا ذریعہAFP

کیا سلامتی کونسل انڈیا پر دباؤ ڈال سکتی ہے؟

پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط کے معاملے پر جماعت علی شاہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کا علامتی اقدام ہی ہے۔

اُن کے بقول پاکستان اس معاملے پر عالمی عدالت انصاف سے رُجوع کر سکتا ہے، اگر عالمی عدالت انصاف پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو پھر پاکستان اقوام متحدہ کے پاس جائے کہ انڈیا یہ فیصلہ نہیں مان رہا، لہذا اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس یہ فورم بھی ہے کہ وہ یورپی کمیشن اور امریکہ کو بھی یہ باور کرائے کہ انڈیا ایک عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لہذا اس پر ایکشن لیا جائے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

انڈیا اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔

اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہو گا۔

دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 65 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔

اس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

انڈیا کو مغربی دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن وہ پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے منصوبے نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اسے مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر کسی بھی قسم کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔

معاہدے کے تحت ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جو کسی متنازع منصوبے کے حل کے لیے بھی کام کرتا ہے تاہم اگر کمیشن مسئلے کا حل نہیں نکال سکتا تو معاہدے کے مطابق حکومتیں اسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ، معاہدے میں ماہرین کی مدد لینے یا تنازعات کا حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی عدالت میں جانے کا طریقہ بھی تجویز کیا گیا تھا۔