سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟

سعودی عرب، شہباز شریف، محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کے بعد ملک اپنے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب سے تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس حاصل کرے گا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید تین ارب ڈالرز کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی ترسیل آئندہ ہفتے کے دوران متوقع ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس اب سالانہ رول اور کی بنیاد کے تحت نہیں رہیں گے بلکہ انھیں طویل مدت کے لیے تین سال تک کی توسیع دی جائے گی، یعنی 2028 تک۔

اپریل کے اوائل میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالیاتی ڈپازٹس کی واپسی کا اعلان کیا تھا اور اسے ’معمول کا مالیاتی لین دین‘ قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے قبل جمعہ کی شب سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔

اس سے اگلے ہی روز، سنیچر کو، سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے جس میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کیا بتایا؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

،تصویر کا کیپشنواشنگٹن: پاکستانی وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک سعودی وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ کے ہمراہ

محمد اورنگزیب نے یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ’سپرنگ میٹنگز 2026‘ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مالی معاونت اور حکومت کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی سے متعلق اہم تفصیلات بھی شیئر کیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’یہ مالی تعاون پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک نہایت اہم وقت پر سامنے آیا ہے، جس سے ملک زرِمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی اور ملک کے بیرونی کھاتے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔‘

اس موقع پر اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگرام کے تحت اپنی ذمے داریوں کے مطابق زرِمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق حکومت کا ہدف موجودہ مالی سال کے اختتام تک تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر کے ذخائر حاصل کرنا ہے، جو کہ تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے برابر ہوں گے۔

وفاقی وزیر اس موقع پر بتایا کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے 1.4 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی کی ہے اور اسے انھوں نے ایک ’نان ایونٹ‘ قرار دیا۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت آئندہ تمام بیرونی واجبات اور ادائیگیوں کو بروقت پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انھوں نے گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر کے ہمراہ سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے تفصیلی ملاقات کی۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اس موقع پر سعودی عرب کی قیادت، بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اور سعودی نائب وزیرِ خزانہ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے لیے مسلسل تعاون اور قریبی اشتراک پر اُن کی کاوشوں کو سراہا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی بروقت مالی معاونت پاکستان کے لیے معاشی اور بیرونی کھاتے، بشمول تجارتی پہلوؤں، کے حوالے سے ایک اہم مثبت رفتار اور اعتماد فراہم کر رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کو قرض کی واپسی اور پاکستان کے ذخائر پر دباؤ

سعودی عرب، شہباز شریف، محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہReuters

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق تین اپریل 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جن میں سے 16 ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پانچ ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔

مرکزی بینک کے پاس موجود 16 ارب ڈالر میں سے بارہ ارب ڈالر کے ڈپازٹس چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تھے تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔

ان ڈپازٹس میں سے دو ارب ڈالر متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رکھوائے تھے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرضہ بھی دیا تھا جس میں 45 کروڑ کا قرضہ گذشتہ صدی میں نوے کی دہائی میں پاکستان کو دیا گیا تھا، اسی طرح مجموعی پاکستان کے پاس متحدہ عرب امارات کا تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ تھا۔

صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے تین ارب ڈالر قرض ملنے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ نہ ملتا تو شاید آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کی اگلی قسط کی منظوری ملنے میں کافی مشکلات ہوتیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اس لیے پیدا ہوا کیونکہ متحدہ عرب امارات نے، جو آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ستمبر 2027 سے پہلے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس رکھے گئے اپنے ساڑھے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس نہیں نکلوائے گا۔ مگر ’متحدہ عرب امارات نے یہ پیسہ نکلوایا جس کی وجہ (ذخائر میں) خلا پیدا ہوا۔ اسے پُر کرنے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان کو پیسے دیے ہیں۔‘

شہباز رانا کا کہنا ہے کہ سعودی ڈپازٹس کے بعد اب یہ خدشات دور ہوئے ہیں کہ پاکستان کی درآمدات دباؤ میں آئیں گی اور روپے پر بھی اضافی بوجھ نہیں آئے گا۔

انھوں نے کہا کہ رواں مہینے پاکستان کو مجموعی طور پر قریب پانچ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی تھیں جن میں 1.3 ارب ڈالر کی یورو بانڈز کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق ’متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ 45 کروڑ ڈالر واپس کیا جا چکا ہے جبکہ رواں ہفتے مزید دو ارب ڈالر واپس کیے جا رہے ہیں۔‘

پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جو مشرق وسطیٰ کے تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ملک اپنی توانائی کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد اسی خطے سے حاصل کرتا ہے۔ جبکہ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی بھی کی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے منگل کو کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث پاکستان کی معاشی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان میں معاشی شرحِ نمو کا تخمینہ کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا ہے جبکہ ملک میں افراط زر بڑھ کر 8.4 فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے ملنے والا قرض واپس کیوں کرنا پڑا؟

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو سنہ 2018 میں دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس دیے گئے تھے جو گذشتہ آٹھ سالوں سے پاکستان کے پاس موجود ہیں اور وہ کئی بار رول اوور ہوئے تاہم گذشتہ سال دسمبر میں اسے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرنے کی بجائے متحدہ عرب امارات نے اسے قلیل مدت پر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

موجودہ سال فروری میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر کو دو مہینوں کے لیے رول اوور کیا گیا جس کی مدت اپریل میں پوری ہو رہی ہے اور اب پاکستان کی جانب سے اسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ جاری تھی اور جس نے خلیجی ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

مبصرین کی رائے ہے کہ پاکستان نے ان ڈپازٹس پر بلند شرح سود کو کم کرنے اور طویل عرصے تک کے لیے رول اوور کا مطالبہ کیا تھا تاہم ایسا نہ ہوسکا۔