برطانیہ پہنچنے کے خواہشمند 300 نوجوان جنھیں اغوا کرنے کے بعد گردے نکالنے کی دھمکی دے کر تاوان وصول کیا گیا

،تصویر کا ذریعہKurdish Regional Government
- مصنف, سو مچل اور بین ملنی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ سال غیر قانونی طریقے سے برطانیہ میں داخل ہونے کے خواہشمند 300 تارکین وطن کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے جسمانی اعضا نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
یہ نوجوان، جن کا تعلق عراقی کردستان سے تھا، لیبیا میں ایک عسکری گروہ کے ہاتھوں اغوا ہوئے تھے جس نے بعد میں ہر فرد کے خاندان سے رہائی کے عوض پانچ ہزار امریکی ڈالر تاوان طلب کیا تھا۔ اغواکاروں نے دھمکی دی تھی کہ اگر تاوان کی رقم فوری ادا نہ کی گئی تو ان کے جسم سے گردے زبردستی نکال لیے جائیں گے۔
بی بی سی نے چند ایسے نوجوانوں سے بات چیت کی جو اغوا ہونے والوں میں شامل تھے اور بعد میں رہا ہوئے اور ایسے تصویری شواہد بھی دیکھے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چند جبری آپریشن واقعی میں کیے گئے۔
ان نوجوانوں نے خود پر ہونے والے تشدد کے شواہد بھی دکھائے اور بتایا کہ ان کو بہت مشکل حالات میں قید رکھا گیا جہاں 180 افراد ایک ہی کوٹھڑی نما کمرے میں موجود تھے۔ کم از کم ایک مغوی کی موت واقع ہوئی اور اس وقت یہ واضح نہیں کہ کتنے لوگ اب بھی قید میں ہیں۔
اس عسکری گروہ نے بظاہر ان نوجوانوں کو لیبیا کے راستے سفر میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن ادائیگی کے معاملے پر سمگلر نوح ہارون سے تنازع شروع ہو گیا۔ ہارون اس وقت فرانس میں منی لانڈرنگ اور سمگلنگ کے جرائم میں سزا پانے کے بعد 10 سال قید کاٹ رہا ہے۔
اغوا کی تفصیلات حال ہی میں اس وقت سامنے آئیں جب بی بی سی کاردو جاف نامی ایک اور سمگلر کے حوالے سے تفتیش کر رہا تھا۔ کاردو بھی گزشتہ ماہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ دونوں سمگلر، ہارون اور کاردو، ماضی میں اکھٹے کام کر چکے ہیں اور دونوں کا تعلق عراقی کردستان میں رانیہ نامی قصبے سے ہے جہاں برطانوی چیٹھم ہاؤس نامی تھنک ٹینک کے مطابق سمگلنگ گروہ کثرت سے موجود ہیں۔
فروری میں بی بی سی کی ایک تحقیقاتی ٹیم رانیہ میں کاردو کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی تھی جہاں ایک مقامی شخص نے انھیں بتایا کہ اس کا بیٹا مغویوں میں شامل تھا۔ اس شخص نے بتایا تھا کہ ہارون کے گروہ نے برطانیہ جانے کے لیے ہزاروں ڈالر لیے تھے اور اس سفر کے دوران شمالی افریقہ سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچایا جانا تھا۔

انتھونی ڈنکرلی اقوام متحدہ کے لیے کام کرتے ہیں اور انسانی سمگلنگ پر بات کرتے ہوئَے انھوں نے بتایا کہ اسی راستے میں لیبیا سے بھی گزر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ لیبیا کے بڑے حصے پر عسکری گروہ کنٹرول رکھتے ہیں اور سمگلر ان کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی کو معلوم ہوا کہ سنہ 2025 کے موسم گرما میں متعدد تارکین وطن کے گروہ لیبیا پہنچے تھے جنھیں ایک کمپاؤنڈ میں قید کر دیا گیا اور ان کے اہلخانہ سے فی فرد پانچ ہزار ڈالر طلب کیے گئے۔ عسکری گروہ نے دعویٰ کیا کہ ہارون نے ایک پرانے معاہدے کے تحت معاوضہ ادا نہیں کیا تھا اور اگر یہ رقم جلدی ادا نہیں ہوئی تو معاوضہ گردے کی شکل میں وصول کر لیا جائے گا۔
لیبیا کے عسکری گروہ نے مغویوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی اہلخانہ کو بھیجیں جن میں پرتشدد مناظر دکھائی دیے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان کو بتایا جا رہا تھا کہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا جا رہا ہے تاکہ اس کا گردہ نکالا جا سکے۔
رانیہ میں جس مقامی شخص نے بی بی سی سے رابطہ کیا اس نے دعویٰ کیا کہ وہ تاوان کی رقم ادا کر چکا ہے۔ اس کا بیٹا ان 110 مغویوں میں شامل تھا جنھیں عراقی حکومت نے جنوری میں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے واپس لانے میں مدد فراہم کی تھی۔ اس شخص نے اپنے بیٹے کی قید کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر دکھائی جس میں ایک زخم نظر آ رہا تھا اور انھیں یہ خدشہ تھا کہ اس کا گردہ نکالا جا چکا ہے۔
اس شخص سے گفتگو کے بعد درجنوں لوگ اور بھی آئے اور ایسی ہی تصاویر بی بی سی کو دکھائیں۔ ہم نے ایک تصویر برطانیہ میں ایک ماہر کو دکھائی جن کا کہنا تھا کہ یہ زخم ایسے ہی ہیں جو گردے کے آپریشن کے دوران لگتے ہیں۔ تاہم ہم اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کر سکے کہ گردہ واقعی نکالا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM
یاد رہے کہ لیبیا کے راستے سفر کرنے والے تارکین وطن کے اغوا کی وارداتیں اکثر پیش آتی ہیں۔ انتھونی ڈنکرلی کہتے ہیں کہ ’مجرم ریاست کے محدود کنٹرول کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسی وجہ سے تفتیش بھی مشکل ہوتی ہے۔‘
ان مغویوں میں سے بہت سے رہا ہو چکے ہیں جن کے اہلخانہ نے تاوان کی رقم ادا کر دی تھی تاہم کرد حکام کو شک ہے کہ کئی مغویوں کے گردے یا جسمانی اعضا نکالے جا چکے ہیں۔ بی بی سی نے رانیہ لوٹنے والے چند افراد سے بات چیت کی۔
ایک نوجوان نے بتایا کہ اس کی ٹانگ کو جلا کر اس پر تشدد کیا گیا۔ انھوں نے اپنے زخموں کے نشان بھی دکھائے۔ ایک 16 سالہ نوجوان نے بتایا کہ ’ہم نے چھ ماہ تک سورج نہیں دیکھا۔‘
اس نوجوان کا کہنا تھا کہ قید خانہ اتنا تنگ تھا کہ 170 لوگ بیٹھ کر سوتے تھے۔ ’قیدیوں کو ایک ہی بیت الخلا میسر تھا اور اگر کوئی زیادہ وقت لیتا تو اس کو پیٹا جاتا تھا۔‘ مغویوں کے اہلخانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دن میں کھانے کے لیے ایک روٹی کا ٹکڑا دیا جاتا تھا لیکن وہ بھی پیسوں کے عوض۔
ان تمام خطرات کے باوجود عراقی کردستان سے برطانیہ اور یورپ کی جانب غیر قانونی سفر کرنے والوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی۔ کردستان حکومت کی وزارت داخلہ کے ہیم مرنی کا کہنا ہے کہ ’واپس لوٹنے والوں کو چاہیے کہ اپنے دوستوں اور خاندان کو اپنے تجربے کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ وہ یہ سفر نہ کریں۔‘
انھوں نے ایک باپ کی کہانی سنائی جس کا بیٹا لیبیا میں ایک مبینہ آپریشن کے بعد ہلاک ہو گیا تھا۔ رانیہ میں تدفین کے بعد والد کو علم ہوا کہ ان کے بیٹے کے دو کزن حال ہی میں یورپ کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس کاروبار کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم سیکھتے نہیں ہیں۔‘



























