آن لائن پلیٹ فارمز پر ملازمت کی تلاش اور دھوکہ دہی: ’اتنی بڑی رقم کا نقصان اٹھانا انتہائی تکلیف دہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جو ٹائڈی
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ملازمت کی تلاش کرنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دی جا رہی ہے کیونکہ دھوکے باز ملازمتوں کے مواقع شائع کرنے والی ویب سائٹس پر نہ صرف انھیں نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ جعلی انٹرویو ٹولز ڈاؤن لوڈ کرنے پر بھی آمادہ کر رہے ہیں۔
ملازمت کے متلاشی ایک شخص کو لنکڈ اِن پر ایک جعلی ریکروئٹر نے انٹرویو کے عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ اس شخص نے انٹرویو کی تیاری کے لیے بظاہر ایک عام سی دستاویز ڈاؤن لوڈ کی، جو دراصل ایک سافٹ ویئر تھا۔
چند ہی گھنٹوں کے اندر ہیکرز نے ملازمت کی تلاش کرنے والے شخص کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس سے 18 ہزار پاؤنڈ نکالے اور غائب ہو گئے۔
متاثرہ شخص نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا: ’اتنی بڑی رقم کا نقصان اٹھانا ایک انتہائی تکلیف دہ احساس ہے، ایسا تجربہ جس کی میں اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی خواہش نہیں کروں گا۔‘
جاب مارکیٹ اور دھوکے بازی کے امکانات
پروفیشنل ریکروئٹمنٹ پلیٹ فارمز لنکڈ اِن اور اِنڈیڈ نے حالیہ مہینوں میں ملازمت سے متعلق دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
لنکڈ اِن نے ایسے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن میں اس نے ’جنریشن زی سکیم گیپ‘ کو اجاگر کیا۔ اس کے مطابق ’کم عمر افراد کو دھوکہ دہی کا سب سے زیادہ سامنا ہے (32 فیصد)، تاہم تقریباً ایک تہائی (32 فیصد) یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جاب مارکیٹ میں سخت مقابلے کے باعث اکثر خطرے کی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘
کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہجوم زدہ اور انتہائی مسابقتی جاب مارکیٹ میں ’بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ شکوک و شبہات کے اظہار کے متحمل نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے خیال میں مواقع بہت کم ہیں۔‘
لنکڈ اِن نے اپنی ویب سائٹ پر موجود ایک ایڈوائس کی طرف بھی توجہ دلائی، جس میں ملازمت کے مواقع تلاش کرنے کے دوران دھوکا دہی کی نشاندہی کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں، مثلاً یہ تصدیق کرنا کہ کمپنی اور ملازمت واقعی وجود رکھتی ہے یا نہیں اور کسی بھی قسم کی بات چیت شروع کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کرنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیکنگ کے نتیجے میں اپنی سیونگز گنوانے والے متاثرہ شخص اپنی موجودہ ملازمت چھوڑنے کا نوٹس بحی دے چکا تھے اور لنکڈ اِن پر واضح کر چکے تھے کہ وہ نئی ملازمت کی تلاش میں ہیں۔
ایک جعلی ریکروئٹر نے انحیں ملازمت کی ایک ممکنہ پیشکش بھیجی اور کام کے بارے میں ویڈیو کال بھی کی، جس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ ایک معمول کی تکنیکی جانچ مکمل کریں، جس کی ہدایات ایک گوگل شیٹ دستاویز میں دی گئی تھیں۔
تاہم وہ دستاویز ایک نقصان دہ سافٹ ویئر تھا۔
اپنا کام مکمل کرنے کے متاثرہ شخص سو گئے اور جب وہ بیدار ہوئے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کے آن لائن والیٹس میں موجود تمام رقم نکالی جا چکی تھی۔
’میں نے اپنا کمپیوٹر مکمل طور پر صاف کیا، تمام پاس ورڈ تبدیل کیے۔ میں جذباتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور ذہنی طور پر نڈھال ہو گیا تھا۔‘
’مجھے غیر یقینی اور غصے کے ملے جلے جذبات کا سامنا تھا، ہیکرز پر بھی غصہ تھا اور خود پر بھی۔ میں اس وقت تک الجھن میں رہا جب تک مجھے یہ سمجھ نہیں آ گئی کہ انہوں نے مجھے کس طرح نشانہ بنایا تھا۔‘
جعلی ریکروئٹرز اور نقصان دہ سافٹ ویئرز
سائبر سکیورٹی تنظیم ہیو آئی بین سکواٹڈ سے وابستہ ماہرین نے اس ہیکنگ کے طریقۂ کار کا تجزیہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملازمتوں سے متعلق دھوکا دہی کی اس نئی لہر کو پہچاننا مشکل ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تنظیم کے چیف ایگزیکٹو جُکسہِن ڈی بریگجائے کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی خراب انگریزی میں لکھی گئی ای میل نہیں تھی جس کے ساتھ کوئی مشکوک فائل منسلک کی گئی ہو۔ اس شخص کو ایک ایسے عمل سے گزارا گیا جو بالکل حقیقی ملازمت کے انٹرویو جیسا دکھائی دیتا تھا، حقیقی گوگل پیجز پر، ایک حقیقی گوگل لاگ اِن کے ذریعے۔ جس سافٹ ویئر کو انسٹال کرنے کے لیے کہا گیا اس پر بھی اسی طرح کا ڈیجیٹل دستخط موجود تھا جیسا اصلی ایپلی کیشنز پر ہوتا ہے۔‘
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر افراد نے انڈیڈ نامی پلیٹ فارم کے ذریعے ہونے والے اسی نوعیت کے حملوں کی اطلاع دی ہے۔ انڈیڈ نے جولائی میں دھوکا دہی سے بچنے کے طریقوں کے حوالے سے ہدایات بھی جاری کی تھی۔
مجرم ملازمت کے انٹرویوز سے جڑے ذہنی دباؤ اور جوش و خروش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو جعلی موبائل ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں، جن میں جعلی ’انڈیڈ انٹرویو‘ ایپ یا ’مائی انٹرویو‘ نامی ایپ شامل ہیں۔
سائبر سکیورٹی کمپنی مال ویئر بائٹس کے مطابق جعلی ریکروئٹرز لوگوں کو پھانسنے کے لیے ایسے پیغامات استعمال کرتے ہیں: ’انڈیڈ ایپ انسٹال کر کے اپنا انٹرویو مکمل کریں‘ یا ’ایپ انسٹال کرنے کے بعد تنخواہ سے متعلق معاہدہ دستیاب ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک بار ڈاؤن لوڈ ہونے کے بعد یہ ایپس ہیکرز کو ذاتی معلومات تک رسائی دے دیتی ہیں، جنہیں وہ بھتہ خوری یا مالیاتی حملوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔
انڈیڈ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اِنڈیڈ کے پلیٹ فارم پر انٹرویوز مکمل طور پر براؤزر کے ذریعے کیے جاتے ہیں اور اس کے لیے کبھی بھی کوئی خصوصی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
’کوئی بھی پیغام جس میں کسی ملازمت کے امیدوار سے انٹرویو میں شرکت کے لیے کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا جائے، اصلی نہیں ہے۔‘




















