اپنے 15 مریضوں کی جان لینے والے ڈاکٹر کو عُمر قید کی سزا: ’مُجھے لگتا تھا کہ میں اُن کی خدمت کر رہا ہوں‘

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

جرمنی میں شدید بیمار افراد کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر کو اپنے 15 مریضوں کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

برلن کی ایک عدالت نے ایک ڈاکٹر پر ہونے والے مقدمے کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ ’41 سالہ جوہانس ایم (فرضی نام) نے ستمبر 2021 سے جولائی 2024 کے دوران 12 خواتین اور تین مرد مریضوں کو جان بوجھ کر قتل کیا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اموات ممکن ہے کہ ایک بڑی سازش کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہوں۔ سرکاری وکیل کے مطابق حکام مجرم یعنی جوہانس ایم سے جڑے درجنوں مزید مشتبہ واقعات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مرنے والے مریضوں کی عمریں 25 سے 94 سال کے درمیان تھیں۔ اگرچہ وہ شدید بیمار تھے، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ان کے جلد مر جانے کا امکان نہیں تھا۔

مریضوں کو مارنے کے لیے جان لیوا ادویات کے استعمال کا الزام

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

استغاثہ کے مطابق جوہانس ایم گھروں پر جا کر مریضوں کے علاج کے دوران ان کی اجازت کے بغیر مختلف ادویات کا ایسا امتزاج یا کمبینیشن انھیں ٹیکے کی صورت میں لگا دیتے کے جو جان لیوا ثابت ہوتا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر انھوں نے اپنے جرائم کے شواہد مٹانے کے لیے مریضوں کے گھروں کو آگ بھی لگائی۔

استغاثہ کے مطابق جولائی 2024 میں گرفتاری سے کچھ ہی دیر پہلے جوہانس ایم نے ایک ہی روز میں دو مریضوں کو قتل کیا۔ ان میں برلن کے وسطی علاقے میں رہنے والا 75 سالہ شخص اور چند گھنٹوں بعد ایک قریبی ضلع کی 76 سالہ خاتون شامل تھیں۔

تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے دوران جوہانس ایم زیادہ تر خاموش رہے۔

تاہم گذشتہ ماہ انھوں نے اپنے 12 انتہائی علیل مریضوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’انھیں یقین تھا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے اور وہ مریضوں کو بیماری اور تکلیف سے نجات دلا رہے ہیں۔‘

جوہانس ایم نے کہا کہ ’اتنے عرصے تک مجھے یہی لگتا رہا کہ میں ان کی خدمت کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں اپنے اس عمل سے پیدا ہونے والی تمام مشکلات پر انھیں افسوس ہے۔

’سیریل کلر‘ ہونے کا شبہ

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

حکام کو شبہ ہے کہ جوہانس ایم مزید کئی مریضوں کی ہلاکت میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے استغاثہ اس وقت 76 مزید مشتبہ اموات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق اگر ان تمام مقدمات میں بھی جوہانس ایم پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو یہ جرمنی کی تاریخ میں سیریل کلنگ کا سب سے بڑا واقعہ ہوگا۔

جوہانس ایم نے عدالت کو بتایا کہ وہ آئندہ بھی تحقیقات اور عدالتی کارروائی میں مکمل تعاون کریں گے۔

مقدمے کی ابتدائی سماعتوں کے دوران مقتولین کے اہلِ خانہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ آج بھی جو کُچھ ہوا اُس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہے۔

سنہ 2021 میں ہلاک ہونے والی 25 سالہ نوجوان خاتون، جو اس مقدمے کی کم عمر ترین متاثرہ تھیں، کی والدہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہنا چاہتی۔‘

سنہ 2024 میں وفات پا جانے والی 72 سالہ خاتون کے بیٹے نے بتایا کہ ان کی والدہ اپنی بہن کے ساتھ بحیرۂ بالٹک کی سیر پر جانا چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میری والدہ جینا چاہتی تھیں۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جوہانس ایم کا جرم غیر معمولی سنگین نوعیت کا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ سزا مکمل ہونے کے بعد بھی انھیں کڑی نگرانی میں رکھا جائے گا اور دوبارہ بطور معالج انھیں کام بھی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔