خاتونِ اول کی میت کا فوجی حکومت کے ہاتھوں اغوا اور 16 سال کا پُراسرار سفر

Maria Eva Duarte de Peron (7 May 1919, 26 July 1952) was the second wife of Argentine President Juan Peron (1895- 1974)

،تصویر کا ذریعہgettyimages

،تصویر کا کیپشنایوا پیرون کو محبت سے ایویتا کہا جاتا تھا
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس مضمون میں بعض ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

ارجنٹینا کی مشہور خاتونِ اول جولائی 1952 میں وفات پا گئی تھیں۔ ان کی موت کے ساٹھ سال بعد، بی بی سی نے ان کی لاش کے پراسرار طور پر غائب ہونے اور دنیا بھر میں 16 سال تک جاری رہنے والے غیر معمولی سفر پر نظر ڈالی ہے۔

26 جولائی 1952 کو ایوا پیرون کی وفات کے چند گھنٹوں بعد ڈاکٹر پیڈرو آرا نے اپنا کام شروع کر دیا۔

یہ معروف ہسپانوی ماہر اٹانومسٹ اس ذمہ داری پر مامور تھے کہ وہ ارجنٹینا کی خاتونِ اول کی میت کو اسی طرح محفوظ کریں جیسے روسیوں نے لینن اور سٹالن کی باقیات کو محفوظ رکھا تھا۔

ایوا پیرون، جنھیں محبت سے ایویتا کہا جاتا تھا، کی میت وزارتِ محنت کی عمارت میں رکھی گئی تھی۔ وہاں مزدوروں کی یاد میں ایک یادگار تعمیر کی جانی تھی، جس کے نچلے حصے میں شیشے کا ایک تابوت رکھا جانا تھا جس کے اندر ان کی میت کو ہمیشہ کے لیے رکھا جاتا۔

لیکن تین سال بعد، ستمبر 1955 میں، ان کے شوہر صدر خوان پیرون ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیے گئے اور جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

نئی حکومت نے ایوا پیرون کی میت چوری کرنے کا فیصلہ کیا، اور یوں ایک عجیب و غریب اور خوفناک 16 سالہ سفر کا آغاز ہوا۔

ان کی میت کبھی فوجی انٹیلی جنس مرکز میں رکھی گئی، کبھی ایک وین میں چھپائی گئی، پھر اٹلی کے شہر میلان میں دفن کر دی گئی، اور بعد میں سپین کے شہر میڈرڈ منتقل کر دی گئی۔ بالآخر اسے واپس بیونس آئرس لایا گیا، جہاں اسے ایک انتہائی محفوظ اور مضبوط مقبرے میں دفن کیا گیا۔

President of Argentina, Juan Domingo Peron with his wife Eva (Evita) 1949

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایوا اپنے شوہر کے ہمراہ
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سروائیکل کینسر کے باعث 33 سال کی عمر میں ایوا پیرون کی وفات کے بعد، ان کے شوہر کے پاس ان کی میت کو محفوظ کروانے کی سیاسی وجوہات تھیں۔ ان کا غریب دیہی پس منظر اور خاتونِ اول کے طور پر ان کی فلاحی سرگرمیوں نے انھیں محنت کش طبقے میں بے حد مقبول بنا دیا تھا۔

2012 میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پیرون ازم کی مورخ فلاویا فیوروچی نے کہا: ’اس لیے پیرون اس ورثے کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے، اور اس کا ایک طریقہ جسم کو محفوظ رکھنا تھا۔ اس کا تعلق اس بات سے بھی تھا کہ پیرون اور پیرون ازم علامتوں کو بہت اہمیت دیتے تھے، اور ایویتا خود ایک علامت تھیں۔‘

ان کی موت کے بعد کے ہفتوں میں یہ بات واضح طور پر نظر آئی۔

ڈاکٹر آرا نے پیرافن اور گلیسرین کے انجیکشن کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ایویتا کی میت کو تقریباً زندہ انسان جیسی حالت میں محفوظ کر دیا۔ ان کی میت 14 دن تک کانگریس کی عمارت میں عوامی دیدار کے لیے رکھی گئی، اور اس دوران بیس لاکھ افراد نے ان کے تابوت کی زیارت کی۔ زندگی میں حاصل کی گئی عقیدت ان کی موت کے بعد بھی برقرار رہی۔

اور یہی علامتی حیثیت اگلے 16 برسوں میں ان کی میت کے طویل اور پیچیدہ سفر کی اصل وجہ بنی۔ جب 1955 میں پیرون کا تختہ الٹ دیا گیا تو جنرل پیڈرو آرامبورو کی قیادت میں قائم فوجی حکومت نے پیرون ازم کی ہر نشانی کو ختم کرنے کا عزم کیا۔ حکومت کو خدشہ تھا کہ ایویتا کی میت مزاحمت کی ایک طاقتور علامت بن سکتی ہے۔

فوجی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل کارلوس موری کونگ نے میت کو بیونس آئرس کے مختلف مقامات پر منتقل کیا، کیونکہ انھیں خوف تھا کہ پیرون کے حامی اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ایویتا کی میت کبھی دارالحکومت کی سڑکوں پر کھڑی ایک وین میں چھپائی گئی، کبھی سنیما کی سکرین کے پیچھے رکھی گئی اور کبھی شہر کے واٹر ورکس کے اندر۔ لیکن جہاں بھی میت منتقل کی جاتی، وہاں پھول اور شمعیں نمودار ہو جاتیں۔

بعد ازاں کونگ میت کو اپنے دفتر لے آئے، جہاں مبینہ طور پر انھوں نے تابوت کو سیدھا کھڑا کر دیا اور آنے والے مہمانوں کو دکھاتے رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایویتا کی میت کے بارے میں غیر معمولی حد تک جنونی ہو گئے تھے۔۔

1997 کی دستاویزی فلم Evita, la tumba sin paz (ایویتا، بے سکون قبر) میں کرنل ہیکٹر کابانیاس نے کہا: ’میں اسے فوجی سکول کے زمانے سے جانتا تھا۔ وہ بالکل معمول کا آدمی تھا، لیکن جیسے ہی میت اس کے قبضے میں آئی، وہ پاگل ہو گیا۔‘

Eva Perón

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ارجنٹائن کی محقق سیسیلیا ماکون نے 2012 میں بی بی سی کو بتایا کہ ایویتا سے متعلق واقعات میں ’افسانہ اور تاریخ مسلسل ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں‘، اس لیے سچائی تک پہنچنا مشکل ہے۔ تاہم ایک روایت یہ ہے کہ کونگ اپنی نگرانی میں موجود اس میت سے غیر معمولی حد تک وابستہ ہو گئے تھے، جس کے بعد 1957 میں انھیں اس ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا۔

اس کے بعد کرنل کابانیاس کو ایوا پیرون کی میت کو غائب کرنے کا کام سونپا گیا۔ انھوں نے 1957 میں اسے خفیہ طور پر اٹلی بھیجنے کا انتظام کیا۔

ایویتا کو میلان کے ایک قبرستان میں ماریا ماجی ڈی ماجسٹریس کے نام سے دفن کر دیا گیا۔

تاہم، ان کے حامی انھیں فراموش نہیں کر سکے۔ بیونس آئرس کی دیواروں پر یہ سوال لکھا جانے لگا ’ایوا پیرون کی لاش کہاں ہے؟‘

یوں ایویتا کی میت کی واپسی ارجنٹائن میں پیرون کے حامیوں کے لیے ایک طاقتور نعرہ اور سیاسی مطالبہ بن گئی۔

Buenos Aires. Support Demonstartion For Eva Peron In Front Of The Parliament Building

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاش کی واپسی

فیوروچی کا ماننا ہے کہ ایویتا کی میت کو غائب کرنے کا کام چونکہ فوج نے کیا تھا، اس لیے اس کی علامتی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ ان کے مطابق، ’ایویتا کی مردہ لاش کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ محنت کش طبقے کے ساتھ کیے گئے سلوک کی بھی ایک علامت تھا۔‘

1971 میں ایک نئی حکومت نے ارجنٹائن کو دوبارہ جمہوری نظام کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا۔ اس نے پیرون کے حامیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی اور ایویتا کی میت خوان پیرون کو واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

ایویتا کی میت ایک چاندی کے تابوت میں رکھ کر میڈرڈ کے مضافات میں واقع اس گھر پہنچائی گئی جہاں سابق حکمران اپنی تیسری بیوی ازابیل کے ساتھ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

اس وقت خوان پیرون کے قریبی ساتھی کارلوس اسپادونی ان اولین افراد میں شامل تھے جنھوں نے میت کو دیکھا۔

انھوں نے 2012 میں بی بی سی کو بتایا: ’جنرل پیرون، مالی اور میں نے میت کو تابوت سے باہر نکالا۔ ہم نے اسے سنگِ مرمر کی سطح والی ایک میز پر رکھا اور ہمارے ہاتھ مٹی سے بھر گئے۔ اس لیے میت کو صاف کرنا پڑا۔ ازابیل نے یہ کام کیا۔۔۔ بہت احتیاط سے صرف سوتی کپڑے اور پانی کے ساتھ۔۔ ازابیل نے سنہرے بالوں میں کنگھی کی۔ بال لمبے تھے، اس نے آہستہ آہستہ کنگھی سے انھیں صاف کیا اور پھر خشک کیا۔‘

اس کے بعد بھی مختلف کہانیاں اور افواہیں گردش کرتی رہیں۔ ان میں زیادہ تر توجہ سابق حکومتی وزیر خوسے لوپیز ریگا کے پراسرار اور روحانی عقائد پر مرکوز تھی۔

ایک روایت کے مطابق، اس سیاست دان نے ازابیل کو مشورہ دیا کہ وہ ایوا پیرون کی میت کے ساتھ لیٹ جائے تاکہ ایویتا کی سیاسی جادوئی طاقت اس میں منتقل ہو جائے۔

ایسے عقائد اس مذہبی عقیدت کی عکاسی کرتے ہیں جو ایویتا کے پیروکار ان کے لیے رکھتے تھے۔

ایک سابق رقص گاہ کی فنکارہ، جو اپنے شوہر کے ساتھ اقتدار کی بلندیوں تک پہنچی، اپنے عقیدت مندوں کے لیے ایک روحانی رہنما بن گئی تھی۔ ان کے لیے ان کی میت نے بھی ایک مقدس حیثیت اختیار کر لی تھی، اگرچہ پیرون کے مخالف حلقوں میں ان سے شدید نفرت بھی کی جاتی تھی۔

Eva Perón became a spiritual leader to her devotees

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خوان پیرون 1973 میں دوبارہ ارجنٹائن کے اقتدار میں واپس آئے اور ازابیل ان کی نائب صدر بنیں۔ ایویتا کی میت سپین میں ہی رہی، لیکن 1974 میں خوان پیرون کی اچانک وفات کے بعد اسے واپس بیونس آئرس لایا گیا۔

ڈومینگو تیلے چیا اس وقت دارالحکومت کے ایک بار میں بیٹھے تھے جب پہلی بار ان سے ایویتا کی میت کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے رابطہ کیا گیا۔

انھوں نے 2012 میں بی بی سی کو بتایا: ’سیاہ کپڑوں میں ملبوس دو آدمی اندر آئے۔ انھوں نے دروازے زور سے کھولے اور ہماری طرف دیکھا۔ اس زمانے میں یہ خطرناک بات تھی، کیونکہ لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا، وہ ’غائب‘ کر دیے جاتے تھے اور پھر کبھی نظر نہیں آتے تھے۔‘

تیلے چیا فن پاروں، نوادرات اور انسانی باقیات کی بحالی کے ماہر تھے۔ حکومتی ڈیتھ سکواڈ کے خوف کے باعث وہ اس وقت مطمئن ہوئے جب انھیں معلوم ہوا کہ وہ دونوں آدمی صرف ڈرائیور تھے۔

وہ انھیں آسکر ایوانیسیویچ کے پاس لے گئے، جو ایوا پیرون کے سابق ذاتی معالج تھے۔

تیلے چیا کے مطابق، انھوں نے مجھ سے کہا، ’ہمارے پاس آپ کے لیے ایک کام ہے۔ آپ کو ایوا پیرون کی میت بحال کرنی ہے۔‘

خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود تیلے چیا نے یہ کام قبول کر لیا۔

انھوں نے کہا:’'یہ کام کرنا ان لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا تھا جنھوں نے میت کو غائب کیا تھا، اور بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ ایویتا کبھی دوبارہ سامنے نہ آئے۔ میں جانتا تھا کہ اس سے میرے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

’مجھے دھمکیاں دی گئیں، فون پر دھمکیاں ملیں، میری گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔‘

بعد میں تیلے چیا جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں ارجنٹائن میں ریاستی تشدد اور تشدد کے ذریعے تفتیش ایک منظم عمل بن چکے تھے۔

بالآخر اکتوبر 1976 میں ایویتا کو سپردِ خاک کر دیا گیا، اور ان کی تدفین کے وقت صرف چند افراد موجود تھے۔

ان کے مقبرے کو اس طرح مضبوط بنایا گیا کہ ان کی باقیات کو دوبارہ کبھی نہ چھیڑا جا سکے۔

سنگِ مرمر کے مقبرے کے فرش میں ایک خفیہ دروازہ تھا جو نیچے ایک پوشیدہ کمرے کی طرف جاتا تھا۔

اس کمرے میں ایک اور خفیہ دروازہ تھا جو دوسرے کمرے تک پہنچاتا تھا، جہاں ان کا تابوت رکھا گیا تھا۔

ان کی وفات کے 24 سال بعد بھی ایویتا کی علامتی اہمیت اتنی طاقتور تھی کہ ان کی میت کو زمین کی سطح سے پانچ میٹر نیچے دفن کرنا ضروری سمجھا گیا۔