کیا آپ اپنی آواز کے بارے میں سات چیزیں سننا پسند کریں گے؟

ایک خاتون خیالی گراموفون میں چیختی ہوئی نظر آ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآئیے ہم شاندار انسانی صوتی آلے کا جشن منائيں

ہر شخص اپنی منفرد آواز کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔

آپ باتونی ہو سکتے، گلوکار ہو سکتے ہیں، چھٹے ہوئے گنگنا والے ہو سکتے ہیں لیکن آپ اس شاندار انسانی صوتی آلے کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

بی بی سی کے سائنس پروگرام 'دی کیوریئس کیس آف ردرفورڈ اینڈ فرائی' میں اس کے متعلق خاصی تحقیق کی گئی ہے اور انھیں چند حیرت انگیز معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں سے چند یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

1. آپ کا پیدائش کے ساتھ اپنا مخصوص لہجہ ہوتا ہے

ایک بچی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمیں اپنے والدین پر الزام لگاتی ہوں

بچے شکمِ مادر میں ہی اپنے والدین کے لہجے کو پکڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

محققین نے فرانس اور جرمنی کے نوزائیدہ بچوں پر تحقیق کی ہے اور یہ پایا کہ ان کے رونے کی لے میں ان کی مقامی زبان کا لہجہ شامل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بچوں کے رونے سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

2. آپ کی آواز کا صندوق اندر سے کیسا ہوتا ہے

سنہ 1875 کا لکڑی پر ایک کندہ جس میں انسانی آلہ صوت یا نرخرے کو پیش کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانیسویں صدی میں لکڑیوں پر ملنے والے بہت سے کندے یہ بتاتے ہیں کہ سائنسداں ایک عرصے سے انسانی آواز اور اس کے آلہ صوت سے بہت زیادہ متاثر رہے ہیں

جب آپ اپنے صوتی صندوق سے ہوا کو کنٹرول کے ساتھ ہلکے انداز میں باہر نکالتے ہیں تو اس آواز کی ابتدا آپ کی پسلیوں سے ہوتی ہے۔

جب نسیج یا ٹشو کے دو حصے جنھیں ووکل کورڈز یا اوتار صوت کہتے ہیں وہ ہوا کے گزرنے سے آگے پیچھے ہلتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی بھنبھناہٹ والی آواز نکلتی ہے۔

پھر آپ اپنے باقی تکلمی یا صوتی آلے جیسے ہونٹ، جبڑے، زبان، حلق اور نرم تالو کے ہنرمند استعمال سے اپنی آواز بناتے ہیں۔

3. یہ بھاری کیوں ہوتی جاتی ہے

دو لڑکیاں کان بند کرکے سننے کی کوشش کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجب آپ کے ٹین ایج بھائی گانے لگتے ہیں

بلوغت پر مردوں کی آواز پھٹنے لگتی ہے۔ مردوں کی آواز کا صندوق حلق سے نیچے جانے لگتا ہے اور وہ اس سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ اسے عرف عام میں 'ایڈم ایپل' کہا جاتا ہے۔

منھ اور آواز کے صندوق کے درمیان کا فاصلہ جسے ہم صوتی قطعہ کہتے ہیں وہ طویل ہو جاتا ہے۔

ایک لمبے پائپ سے دھیمی آواز نکلتی ہے اس لیے مردوں کا لہجہ بھاری ہو جاتا ہے۔

خواتین مینوپاز یا حیض کے بند ہونے کے دوران اسی قسم کی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں لیکن ان میں بہت زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے تاہم ان کی آواز کی پچ کم ہو جاتی ہے۔

4. آپ ان کی نقل کرتے ہیں آپ جن کی طرح ہونا چاہتے ہیں

ایک نوجوان اور ایک خاتون لائبریری میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک نوجوان اور ایک خاتون لائبریری میں فلرٹ کرتے ہوئے

آپ جس کو جتنا چاہتے ہیں آپ اپنی آواز کو اس سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں۔

یعنی اگر کوئی مرد کسی خاتون کو چاہتا ہے تو وہ اکثر اس سے باتیں کرتے ہوئے اپنی آواز کی پچ کو بڑھا دیتا ہے۔

5. جب آپ کے پیچ و خم کند ہو جاتے ہیں

لاطینی امریکی خاتون فون پر بات کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک لاطینی امریکی خاتون کو یہاں فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

عمر کے ساتھ آپ کے اوتارِ صوت کند پڑ جاتے ہیں اور جب آپ بات کرتے ہیں تو ان سے ہوا خارج ہو جاتی ہے جس سے آپ کی آواز میں سانس کی آواز شامل ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ لمبے لمبے جملوں میں گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کی سانس چھوٹ جاتی ہے۔

اس کے ساتھ آپ کی پٹھے کے کمزور ہونے سے بڑھاپے میں آپ کی آواز کی پچ بڑھ سکتی ہے۔

6. آپ کی آواز زیادہ عرصے تک جوان رہتی ہے

ایک شخص

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآپ جوان رہنے کی بہت کوشش کرتے ہیں لیکن پریشان نہ ہوں۔ آپ کی آواز نسبتا آپ سے زیادہ جوان رہتی ہے

اچھی خبر یہ ہے کہ آپ کی آواز آپ کے جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں دیر سے بوڑھی ہوتی ہے۔

اگر آپ کسی کی عمر کا اندازہ صرف اس کی آواز سن کر لگائیں تو عموماً آپ اسے اس کی عمر سے کم ہی بتائیں گے۔

7. اپنی آواز کو تندرست کیسے رکھیں؟

ایک نوجوان اپنے کچن میں مزے کرتا ہوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصرف نہانے کے درمیان ہی گیت گانا کافی نہیں

جب آپ بوڑھے ہوتے ہیں تو آپ کے جسم کی طرح آپ کی آواز کے پٹھوں کو تندرست رکھنے کے لیے مستقل ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اپنے اوتار صوت کو پھیلانے کے لیے یہ صوتی مشق کریں اور انھیں عمدہ ترین حالت میں رکھیں۔ (مشق کو عوامی مقامات پر نہ کریں):

  • مثال کے طور پر لفظ 'کنول' لیں اور اسے اس کی آخری حد تک کھینچیں۔ آپ اسے بہت ہی لمبے سیلیبل کے طور پر ادا کریں۔
  • اونچی آواز میں ک ۔ ن ۔ و۔و۔و کہتے ہوئے ابتدا کریں
  • اس وقت تک کہتے جائيں جب تک کہ آپ کی آواز کی پچ گرنے نہ لگے
  • اور پھر جتنی دیر ممکن ہو و۔و۔و۔و۔و۔ ل۔ ل کہتے ہوئے کھینچتے رہیں
  • جب تک آپ اس کے اخیر تک پہنچیں گے آپ کی آواز ٹوٹنے لگے گی یا پھر آپ کی سانس پھول جائے گی
  • اس کو بار بار دہرائیں

یا پھر آپ گویوں کے کسی گروپ میں شامل ہو جائیں۔ اس سے آپ کی آواز تندرست رہے گی اور آپ گروپ میں گانے کا لطف لیں گے اور نئے لوگوں سے تعلق پیدا ہوگا۔