لائیو, امریکہ کے بغیر اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیا تو ’اڑا دیا جائے گا‘: ٹرمپ

امریکی صدر نے لبنا میں اسرائیلی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’آپ ہر دفعہ کسی شخص کو ڈھونڈنے کے لیے پوری رہائشی عمارت نہیں گِرا سکتے کیونکہ عمارے میں بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ان سب کا تعلق حزب اللہ سے نہیں ہوتا۔‘

خلاصہ

  • حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران، امریکہ مذاکرات کا نیا دور جمعے سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا: عباس عراقچی
  • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت ہو گی: جے ڈی وینس
  • ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ہی ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں: جے ڈی وینس
  • امریکہ کی جانب سے ایران کو 30 کروڑ ڈالر دیے جانے کی خبر 'فیک نیوز' ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
  • تین ایرانی آئل ٹینکرز اور دو کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں: ایرانی سرکاری میڈیا
  • معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، معاہدہ مکمل ہو چکا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمیشہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا: نیتن یاہو
  • ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی معاہدے کا حصہ نہیں: امریکی صدر

لائیو کوریج

  1. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے برطانوی شہریت رکھنے والوں‘ کے ہاتھوں میں ہیں، اسے انڈیا کی حمایت حاصل ہے: خواجہ آصف کا الزام

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس برطانوی شہریت ہے‘ یا انھیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔

    منگل کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’اس بات پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

    پاکستانی وزیرِ دفاع نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، یہ اسمبلی کا اختیار ہے۔‘

    خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ آٹھ دنوں سے ہڑتال جاری ہے اور کالعدم تنظیم کا مطالبہ ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں اور ان پر سے پابندی ہٹائی جائے۔

    پاکستانی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’مہاجروں نے خون کے ساتھ قیمت ادا کی ہے، جب انھوں نے سرحد پار کی تو وہ سجدے میں چلے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی نشستیں ختم کر دو۔‘

    ’آپ لوگ کیسے ان لوگوں کے حقوق سلب کر سکتے ہیں جنھوں نے آزادی کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا کی ہے؟ آپ ایسا نہیں کر سکتے وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک بیرونی فنڈنگ سے چلنے والی تنظیم کہہ رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہونے دیے جائیں اور لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

  2. ایران کے ساتھ معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا‘، اسرائیل کو لبنان میں ذمہ داری دکھانی ہوگی: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘

    فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران قطر کے امیر شیخ تميم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ’ایران میں سرمایہ‘ نہیں لگائے گا اور یہ کہ ایسے دعوے ’مضحکہ خیز‘ ہیں۔

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں قطر کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’قطر نے جس طرح سے چیزوں کو ہینڈل کیا ہے اس سے ہم بہت متاثر ہوئے ہیں۔‘

    ’قطر اور قطر کے لوگوں کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا۔ آپ کو معلوم ہے یہ ایران سے بہت قریب واقع ہے۔‘

    اس موقع پر قطر کے امیر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے معاہدے کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

    ’مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم وقت پر میں آپ کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک اہم معاہدہ ہے، اس پر اب بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ لیکن جس طرح ہم کام کر رہے ہیں اگر اسی طرح سے کرتے رہے تو میرے خیال میں ہم خطے میں بہت سی عظیم چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    خیال رہے امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اس نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹلی دستخط کر دیے ہیں اور دستخط کی باضابطہ تقریب جنیوا میں 19 جون کو ہوگی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے کا اعلان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کیا تھا اور ایران بھی اس کی تصدیق کر چکا ہے۔

    لیکن گذشتہ ہفتے بھی امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے۔ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایران پر گذشتہ ہفتے حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘

    ایران کو دھمکی

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس اب ’سمجھدا قیادت‘ ہے کیونکہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں متعدد ایرانی حکام ہلاک ہو گئے تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایرانی رہنما جو ’نا سمجھ‘ تھے وہ ’اب موجود نہیں رہے۔‘

    امریکی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت وہ ’جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکتا‘ اور اگر ایسا کیا تو ’اُڑا دیا جائے گا۔‘

    ’یہ معاہدہ جوہری ہتھیار کے خلاف ایک دیوار ہے۔‘

    ’میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور یہ معاہدہ اس بات کو واضح کرتا ہے۔‘

    اسرائیل پر تنقید

    قطر کے امیر سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے اسرائیل پر بھی تنقید کی۔

    امریکی صدر کا کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط سے ’دو گھنٹے‘ قبل اسرائیل کا بیروت پر حملہ انھیں ’پسند نہیں آیا۔‘

    ’میں نے انھیں یہ بتا دیا تھا۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے لبنان پر کسی حملے کی صورت میں ایران کے ساتھ معاہدہ برقرار رہ پائے گا، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’بالکل رہ سکتا ہے۔‘

    ’میں اسے ایک چھوٹی جنگ سمجھتا ہوں۔ ایران بڑی چیز تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سے کانٹا بھی ہے جو بار بار اپنا سر اُٹھاتا ہے اور وہ حزب اللہ ہے۔‘

    امریکی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر نے کہا امریکہ کے بغیر ’اسرائیل بھی نہیں ہوتا۔‘

    ’میرے بغیر اسرائیل بھی نہیں ہوتا کیونکہ کسی اور امریکی صدر نے وہ نہیں کیا جو میں نے کہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا نیتن یاہو کے ساتھ ’اچھا تعلق‘ ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ’لبنان کے حوالے سے مزید ذمہ داری دکھانی ہو گی۔‘

    صدر ٹرمپ کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ ’لمبے عرصے سے لڑ رہا ہے اور بہت سارے لوگ مارے جا چکے ہیں۔‘

    ’آپ ہر دفعہ کسی شخص کو ڈھونڈنے کے لیے پوری رہائشی عمارت نہیں گِرا سکتے کیونکہ عمارے میں بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ان سب کا تعلق حزب اللہ سے نہیں ہوتا۔‘

    ’میں نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیں کیونکہ میں ایمانداری سے کہوں کہ وہ یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے کر رہے ہیں۔‘

  3. اب سے لبنان پر کوئی بھی اسرائیلی حملہ ایران، امریکہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا: عباس عراقچی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن15 جون 2026 کو لبنان کے علاقے النبطیہ کے ضلع فرون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد لبنانی شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے ساتھ ہی لبنانی فوج نے علاقے میں تعیناتی شروع کر دی۔

    ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اب سے لبنان پر کوئی بھی اسرائیلی حملہ اور لبنانی علاقوں پر جاری قبضہ ایران کی نظر میں معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

    عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں کے قریب آنے والے ’شدت پسندوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے کہا تھا کہ لبنان میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں اس کی افواج تعینات رہے گی۔

  4. ایران، امریکہ مذاکرات کا نیا دور جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو گا: عباس عراقچی

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز ہو گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں یہ بات تہران میں مقیم سفیروں، ناظم الامور اور غیر ملکی و بین الاقوامی مشنز کے سربراہان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

    خیال رہے کہ 15 جون کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔‘

    عراقچی کا کہنا ہے کہ ’حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے سے شروع ہوگا۔ تین ماہ کے مذاکرات کے بعد ہم پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔~

    ایران وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں سب سے اہم معاملہ جنگ کے خاتمے کے اعلان کا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت پیر کی صبح جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ آغاز جمعے کو ہوگا۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔

  5. ’پنکی‘ بین الصوبائی نیٹ ورک چلا رہی تھی جو لاہور سے کراچی تک منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث تھا: پولیس, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    انمول پنکی

    کراچی پولیس کی جانب سے عدالت میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی نامی خاتون کے خلاف جمع کروائے گئے عبوری چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ ایک منظم بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی، جس کے ذریعے لاہور سے کراچی تک کوکین اور دیگر منشیات کی ترسیل اور فروخت کی جاتی تھی۔

    پیر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیے گئے چالان کے مطابق 12 مئی 2026 کی رات گارڈن کے علاقے میں ایک خفیہ اطلاع پر پولیس نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا جہاں سے ایک کلو 240 گرام کوکین، 300 گرام کوکین سے بھرے کیپسول، مختلف کیمیکلز، منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان، موبائل فونز، یو ایس بیز، اے ٹی ایم کارڈز اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کیا گیا۔

    تفتیشی افسر کے مطابق برآمد ہونے والے سامان سے اس شک کو تقویت ملی کہ یہ فلیٹ صرف رہائش کے لیے نہیں بلکہ منشیات کی تیاری، پیکجنگ اور ترسیل کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ گذشتہ 16 سے 17 سال سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے منشیات کی تیاری اور کاروبار کے طریقے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے سیکھے، جو خود بھی منشیات کے کاروبار میں ملوث بتایا جاتا ہے اور بعد ازاں ملزمہ نے اپنا الگ نیٹ ورک قائم کر لیا۔

    تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سکولوں اور ڈانس پارٹیوں میں اپنے کارندوں کے ذریعے منشیات فروخت کرتی تھی۔

    عبوری چالان میں پولیس کے جانب سے بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں لاہور سے کراچی منشیات پہنچانے کے لیے لوکل بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا اور صابرہ نامی خاتون کھانے پینے کی اشیا میں کوکین چھپا کر کراچی پہنچاتی تھی۔ چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر چکر کے عوض صابرہ پچاس ہزار روپے وصول کرتی تھی بعد ازاں دیگر خواتین کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حمیرا نامی ایک اور خاتون لاہور سے کراچی منشیات پہنچانے کے عوض فی پھیرا پچاس ہزار روپے وصول کرتی تھی جبکہ امیکا عرف اینا نامی خاتون ساٹھ ہزار روپے اس ہی کام کے وصول کرتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اے این ایف میں مقدمے کے بعد جب ملزمہ انمول عرف پنکی کے اکاونٹس منجمند کر دیے گئے تو انھوں نے صابرہ کے نام سے اکاونٹ کھولے۔ چالان کے مطابق گرفتاری کے وقت صابرہ کے نام کی چیک بک بھی برآمد ہوئی۔

    تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون کے فرانزک معائنے میں متعدد افراد کے ساتھ رابطوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ان افراد سے متعلق چیٹس، رابطوں اور رقم کی ادائیگیوں کے شواہد ملزمہ کے موبائل فون سے حاصل کیے گئے۔

    تفتیشکاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں منشیات کی تقسیم کے لیے تین رائیڈرز کام کر رہے تھے۔ چالان میں ان کے نام اعزاز، عاقب اور حمزہ درج کیے گئے ہیں۔

    چالان کے مطابق مالی لین دین کی تحقیقات کے دوران عدالت کی اجازت سے مختلف بینکوں، موبائل بینکنگ ایپ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو خطوط ارسال کیے گئے تاکہ مبینہ منشیات کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کی ترسیل کا ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔

    عدالت میں جمع کروائے گئے چالان میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والے شواہد، فرانزک مواد، موبائل فونز کے ڈیٹا، گواہوں کے بیانات، برآمدگی اور ملزمان کے مبینہ روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملزمہ ایک بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ اس ہی بنیاد پر تفتیشی افسر نے عدالت عبوری چالان قبول کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ باقی شواہد موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ عدالت 20 جون کو اس کا فیصلہ کرے گی۔

  6. فٹبال ورلڈ کپ: ایران اور نیوزی لینڈ کا میچ دو، دو گول سے برابر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہISI Photos via Getty Images

    فٹبال ورلڈ کپ میں ایران اور نیوزی لینڈ کا میچ دو، دو گول سے برابر ہو گیا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق لاس اینجلس میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران نیوزی لینڈ کی ٹیم نے دو بار برتری حاصل کی تاہم دونوں مرتبہ ایران نے گول کر کے فرق برابر کر دیا۔

    میچ کے دوسرے ہاف میں ایرانی ٹیم غالب رہی اور اس نے نیوزی لینڈ کے گول پر متعدد حملے کیے۔ لیکن بالآخر دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ برابر رہا۔

    میچ کے دوران سوفائی سٹیڈیم میں لی گئی کئی تصاویر میں متعدد شائقین ایران کا اسلامی انقلاب سے قبل کا شیر و خورشید کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔

    یاد رہے کہ فیفا نے اس سے قبل غیر سرکاری جھنڈے سٹیڈیم میں لانے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس پابندی کے خلاف لاس اینجلس کی ایک عدالت میں دائر مقدمہ بھی خارج ہو چکا ہے۔

  7. معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت ہو گی: جے ڈی وینس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وینس سے سوال کیا گیا کہ آیا معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں کی داخلے کی اجازت ہوگی؟

    اس سوال کے جواب میں وینس کا کہنا تھا، ’ہاں، بالکل۔ معاہدے کے بنیادی نکات میں سے ایک یہ ہے آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) اور امریکہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرنے میں ایران کی مدد کریں گے۔ اور یہ بالکل واضح طور پر مفاہمتی یادداشت میں لکھا ہوا ہے۔‘

    وینس سے پوچھا گیا کہ کیا معاہدے میں اس طرح کی کوئی شق شامل ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول نہیں کرے گا تاہم انھیں سروس فیس لینے کی اجازت ہو گی۔

    اس کے جواب میں وینس کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی معاہدے کے تحت ہم 60 روز تک حتمی معاہدے پر مذاکرات کریں گے۔ اس دوران بنا کسی ٹول کے آبنائے ہرمز میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔‘

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران میں کچھ عناصر شاید تہران کو معاہدے کے تحت ملنے والے کچھ فوائد کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت اس طرح کے معاہدوں میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ تاہم سچ یہ ہے کہ ٹول نہیں لیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔‘

  8. پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا اٹک میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اٹک کے قریب کاروائی کے دوران پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارے کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اٹک کے سرحدی علاقے میں کچھ شدت پسند موجود ہیں جو پنجاب کے مختلف علاقوں میں حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی تو اس دوران شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔

    ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے پانچ شدت پسند مارے گئے۔

    سی ٹی ڈی نے عسکریت پسندوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ایک خود کش جیکٹ، تین ایس ایم جیز، دو دستی بم اور گولیاں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں مزید سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  9. ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ہی ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں: جے ڈی وینس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ سے پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی دستاویز جاری کر سکتے ہیں۔

    جے ڈی وینس کا یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔

    وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’تقریباً ڈیڑھ صفحہ‘ طویل ایک ’بہت عمومی‘ دستاویز قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب سینیئر امریکی حکام بھی معاہدے کی کچھ تفصیلات شیئر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز معاہدے پر باضابطہ طور دستخط ہوں گے اور اس ہی روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ فرانس میں جی سیون سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جہاں منگل کے روز ایران کے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوگا۔ اس خصوصی اجلاس میں مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنما بھی شرکت کریں گے۔

    پیر کے روز فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا، ’مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، سب کچھ طے ہو چکا ہے۔‘ ان کا اشارہ ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کی جانب تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق اس پر معاہدے پر ٹرمپ، وینس اور ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں۔

    امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تکنیکی مذاکرات اس ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی یا اثاثوں کی واپسی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے یا نہیں۔

    اگرچہ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات جمعہ کی تقریب کے بعد ’جلد‘ جاری کی جائیں گی۔ جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکی صدر اس سے پہلے بھی تہران کے ساتھ معاہدہ جاری کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    وینس نے اس سے قبل سی این این کے جیک ٹیپر کو بتایا تھا کہ مفاہمت کی یادداشت ایک بہت عمومی دستاویز ہے، اور اس کی بہت سی تفصیلات آئندہ مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔

    وینس کے مطابق دستاویز کے ’پہلے پیراگراف‘ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران ’خطے میں امن اور استحکام‘ کے لیے خود کو پابند کرے گا، جس میں ’دہشت گرد تنظیموں‘ کی مالی معاونت بند کرنا بھی شامل ہے۔

    ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ (ایران) قابلِ تصدیق عہد کریں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔‘

  10. امریکہ کی جانب سے ایران کو 30 کروڑ ڈالر دیے جانے کی خبر ’فیک نیوز‘ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے ایران کو 30 کروڑ ڈالر دیے جانے کی اطلاعات کی تردید کر دی۔

    اپنے سوشل میڈیا پلٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو 30 کروڑ ڈالر کی خبر غلط (فیک نیوز) ہے۔ انھوں نے الزام لگایا یہ خبر ڈیموکریٹس پھیلا رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہو گیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرے تو اسے 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ تک ’رسائی حاصل ہو سکتی ہے‘، تاہم ان کے مطابق یہ فنڈ خلیجی ممالک کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وینس نے کہا تھا کہ ’یہ ایک ایسی چیز ہے جس تک انھیں (ایرانیوں کو) رسائی مل سکتی ہے، جو خلیجی ممالک کے اتحاد کی جانب سے فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔‘

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ گذشتہ روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر ’سب دستخط ہو چکے ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مفاہمت نامے پر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں۔

    اس ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان معہادے پر دستخط کی ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوگی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

  11. ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں عملے کی جانب سے خوراک کے بدلے سیکس کے مطالبے کا اعتراف

    سوڈان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غیر سرکاری طبی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے عملے پر کم از کم 59 سوڈانی پناہگزینوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے ہیں۔

    کچھ واقعات میں کم عمر لڑکیوں کا استحصال کیا گیا۔ الزام ہے کہ جنسی تعلق کے بدلے خوراک یا ملازمت کی پیشکش کی جاتی تھی۔

    یہ جرائم سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ میں 2024 میں پیش آئے تھے۔

    ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس نے 18 ملزمان کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ تاہم تیظیم نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ بعض دیگر مبینہ ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

    جولائی میں سامنے ایم ایس ایف کی اپنی رپورٹ کے مطابق استحصال کے ایسے طریقے اپنائے گئے جو ممکنہ طور پر ’جنسی سمگلنگ‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرین نے اس خوف کے باعث خاموشی اختیار کی کہ کہیں انھیں امداد تک رسائی سے محروم نہ کر دیا جائے۔ ایم ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ جن افراد نے شکایت کی، انھیں بعض اوقات کوئی جواب یا مدد نہیں ملی، جبکہ باضابطہ شکایتی طریقہ کار زیادہ تر ناکارہ ثابت ہوا۔

    ایم ایس ایف نے اے پی کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ غلط طرزِ عمل تنظیم کی اقدار اور ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انھیں اس سے پہنچنے والے نقصان پر گہرا افسوس ہے۔

    تقریباً تین برس قبل اپنی سوڈانی فوج اور طاقتور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان شدید اقتدار کی کشمکش کے بعد سے سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہے۔

    اب اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ دو کروڑ اسّی لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

    اگرچہ اس تنازع میں ہونے والہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں تاہم اندازوں کے مطابق یہ تعداد کم از کم ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔

  12. اپر ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم مسلح افراد کی سروے ٹیم کی گاڑی پر فائرنگ، دو افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع اپر ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم مسلح افراد کی سروے کرنے والی ایک کمپنی کی گاڑی پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈیرہ بگٹی میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ اپر ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں پیش آیا۔

    اہلکار کے مطابق اس علاقے میں تیل اور گیس کی کمپنی کی ایک ٹیم سروے کا کام کررہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیر کوہ میں سروے ٹیم پر پانی فراہم کرنے والے ایک باؤزر کے نزدیک نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

    اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔

    خیال رہے کہ ڈیرہ بگٹی کو حال ہی میں دو اضلاع میں تقسیم کر کے اپر ڈیرہ بگٹی کے نام سے ایک نیا ضلع بنایا گیا ہے۔

    تقسیم سے قبل ڈیرہ بگٹی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا تھا جو حالیہ شورش کے آغاز میں اس سے سب سے زیادہ متائثر ہوئے۔

    تاہم 2018 کے بعد ڈیرہ بگٹی سے سنگین بدامنی کے واقعات کم رپورٹ ہونا شروع ہو گئے۔

    لیکن گذشتہ کچھ ہفتوں سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

    چند روز قبل ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں گیس پائپ لائنوں پر حملے کیے گئے تھے۔

  13. آبنائے ہرمز اور جزیرہ قشم کے نزدیک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز اینجسی نے خبر دی ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب آبنائے ہرمز اور جزیرہ قشم کے نزدیک تین دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے۔

    خبر کے مطابق پہلے دو دھماکے پیر کی رات دیر گئے ہوئے جبکہ تیسرا دھماکہ منگل کی صبح سنا گیا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی کے نمائندے کے مطابق یہ دھماکے آبنائے ہرمز میں ہوئے تھے اور ان کا مقصد وہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنا تھا۔

    تاحال کسی سرکاری ادارے بشمول ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  14. تین ایرانی آئل ٹینکرز اور دو کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں: ایرانی سرکاری میڈیا

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی شب کم از کم تین ایرانی تیل بردار جہازوں اور ضروری سامان لے جانے والے دو کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    باخبر بحری ذرائع کے مطابق یہ جہاز امریکہ کی ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث کئی ماہ سے پھنسے ہوئے تھے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے کئی جہاز تیل سے بھرے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یہ جہاز جنوبی راستے سے گزر رہے ہیں، جو ان کے بقول ’بالکل محفوظ، قابلِ اعتماد اور صاف و شفاف‘ ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج کے علاقے میں 230 سے زائد آئل ٹینکرز اور 250 کارگو جہاز موجود ہیں، جن کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں اور ٹگ بوٹس بھی دیکھی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ٹریک کیے گئے آئل ٹینکرز میں سے صرف ایک محدود تعداد مکمل طور پر سامان سے لدی ہوئی ہے، جبکہ زیادہ تر ٹینکرز خالی یا جزوی طور پر لوڈ ہیں۔

  15. ایران نے ’حتمی فتح کی جانب بڑا قدم‘ اٹھایا ہے: محمد باقر قالیباف

    ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اپنی قوم کے عوام کی ’تاریخی مزاحمت‘ کو سراہا ہے۔

    ایکس پر ایک مختصر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ایرانیوں کے طرزِ عمل، اور ’ان لوگوں کے خلاف مسلح افواج کی بہادری جنہوں نے اس قوم کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا چاہا‘، نے ایران کو ’حتمی فتح کی جانب ایک بڑا قدم اٹھانے‘ کے قابل بنایا ہے۔

    قالیباف نے مزید کہا، ’وہ چاہتے تھے، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ہم ڈٹے ہوئے ہیں۔‘

  16. ایرانی صدر کی معاہدے میں ’قومی مفاد‘ کے تحفظ پر سپریم لیڈر کی تعریف, غنچہ حبیبی زاد، سینیئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ ای، نے ’ملک کے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے شقوں کو شامل کرنے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک سلسلہ وار پیغامات میں مزید کہا ’اگر (مفاہمتی یادداشت) کی تمام شقوں پر درست طریقے سے عمل کیا جائے تو اسے ملک کے لیے باعثِ فخر دستاویز سمجھا جا سکتا ہے۔‘

    ایران کے سپریم لیڈر نے ابھی تک امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد عہدہ سنبھالنے کے بعد سے عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی جاتی ہے، تاہم ایرانی میڈیا کے ذریعے ان سے منسوب متعدد تحریری پیغامات جاری کیے جا چکے ہیں۔

    سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک امریکی-اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، جس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    ایران آئندہ ماہ کے آغاز میں علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین منعقد کرے گا۔

  17. ہمیشہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا: نیتن یاہو

    نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کچھ معاملات میں ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا، لیکن وہ اسرائیل کے مفادات کا دفاع کریں گے۔

    نتن یاہو نے مزید کہا کہ ’ضرورت پڑنے پر وہ اسرائیل کے مفادات پر ڈٹ جائیں گے۔‘

    بعد ازاں نتن یاہو نے کہا کہ وہ شمالی اسرائیل میں لوگوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، جو لبنان سے متصل علاقہ ہے۔

  18. ’جنگ ختم نہیں ہوئی‘ اور اسرائیل کو ’چوکس رہنا ہوگا‘: بنیامن نتن یاہو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے یروشلم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ انھوں نے اسرائیل کو ’مکمل تباہی سے بچا لیا ہے‘، لیکن ’جنگ ختم نہیں ہوئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ’چوکس رہنا ہوگا‘ اور ’ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت اور دفاع کرتے رہنا ہوگا۔‘

    نتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ’اپنی حفاظت کے لیے جتنی ضرورت ہوگی سکیورٹی زون میں موجود رہے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، اور ایران کا برائی کا محور پہلے سے زیادہ کمزور ہے۔‘

  19. آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے لیے بارودی سرنگیں ہٹانا ضروری ہیں: آئی ایم او کے سربراہ

    آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانا بحری آمد و رفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے کے لیے پہلا ضروری قدم ہے۔

    یہ بات بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل نے بی بی سی کو بتائی۔

    اقوام متحدہ کے اس ادارے کے سربراہ ارسینیو ڈومینگز نے کہا کہ ’جب یہ کام ہو جائے گا تو ہم ان جہازوں اور ملاحوں کو نکالنے پر کام شروع کریں گے جو تقریباً چار ماہ سے وہاں موجود ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ روزانہ 130 جہازوں کی جنگ سے پہلے والی سطح تک بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے اس کے بعد بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ اہم آبی راستہ محفوظ بنایا جا سکے۔

    اس وقت خلیج میں 500 سے زیادہ جہاز پھنسے ہوئے ہیں جن میں ہزاروں ملاح سوار ہیں۔

    ڈومینگز نے کہا، ’ہم خطے کے ممالک، خاص طور پر عمان اور ایران کے ساتھ، اور ساحلی ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی خطرہ باقی نہ ہو۔‘

    انھوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز سے نکلنے کی جلدی میں جہازوں کے آپس میں ٹکرانے کا خطرہ ہے، اور اس سے بچنے کے لیے ’ایک منظم طریقہ کار‘ کی ضرورت ہے۔

  20. ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود برقرار, تھامس کوپلینڈ

    اپنے سوشل پلیٹ فارم ’'ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں، جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران جنگ ختم کرنے کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ’ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

    لیکن آج دوپہر، امریکی نیول فورسز سنٹرل کمانڈ کی طرف سے ملاحوں اور جہاز مالکان کے لیے جاری کیے گئے ایک مشورے میں کہا گیا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی فوجی ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے۔‘

    امریکی نیول فورسز سنٹرل کمانڈ کے مطابق، یہ ناکہ بندی ’19 جون 2026 کو متوقع امریکہ-ایران جنگ بندی کے معاہدے کے شیڈول پر عملدرآمد تک جاری رہے گی۔‘

    انتباہ میں مزید کہا گیا کہ ’عملدرآمد کے اقدامات میں ان جہازوں پر کارروائی شامل ہوگی جو فوری طور پر ناکہ بندی کرنے والی افواج کی ہدایات یا جہاز کی تلاشی کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے، جن میں انھیں ناکارہ بنانا یا تباہ کن فائرنگ کرنا بھی شامل ہے۔‘

    بی بی سی ویریفائی نے اس بارے میں امریکی سینٹرل کمانڈ، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس سے تبصرہ طلب کیا ہے۔