لائیو, حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول مضبوط، محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے مداخلت کی درخواست

حوثیوں نے باب المندب کے قریب واقع اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تاہم ٹرمپ نے فوج کو براہِ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔

خلاصہ

  • حوثیوں کا یمن میں بڑی پیش قدمی کا دعویٰ، بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزر گاہ پر گرفت مزید مضبوط
  • متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن بند کر دی گئی
  • ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد کر دی: ایگزیوس
  • ایران، امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کریں: نریندر مودی
  • ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: امریکی وزیر دفاع
  • برکس ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت بڑھائی جائے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

لائیو کوریج

  1. حوثیوں کی یمن میں بڑی پیش قدمی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مغربی ساحل پر ایک بڑی پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اہم بین الاقوامی بحری تجارتی راستے باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

    یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے باب المندب کی آبنائے میں آبی گزر گاہ کے دہانے پر واقع پیریم جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل یہ پیش رفت سامنے آئی تھی کہ فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے اہم ساحلی شہر مخا کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ایک یمنی فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثی اب پوری ساحلی پٹی پر قابض ہیں۔

    پیریم کا نقشہ

    حوثیوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، تاہم انھوں نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی دہرائی۔

    اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ذاتی طور پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔

    ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اب تک امریکی فوج کو براہِ راست مداخلت سے دور رکھا ہے اور صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق مدد کی پیشکش کی ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا: ’علاقائی استحکام کے حوالے سے ہم سعودی عرب اور جمہوریہ یمن کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔‘

    جمعہ کے روز یمن کی حکومت نواز فورسز پیریم (جسے میون بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے سے پسپا ہو گئیں۔

    عینی شاہدین اور خبر رساں اداروں کے مطابق اس کے بعد حوثی فورسز جزیرے میں داخل ہو گئیں۔

    بعد میں حوثیوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو نکال باہر کرنے کے لیے ان کی فوجی کارروائی ’کامیاب‘ رہی ہے اور ’سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام کمپنیوں کے لیے سمندری آمد و رفت محفوظ ہے۔‘

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ ’وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی‘ تین ستمبر کو سعودی عرب کی جانب سے ’ہمارے عزیز عوام کے خلاف کھلی جارحیت‘ کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔

    سریع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے تعز اور الحدیدہ کے علاقوں کے چھ اضلاع سے ’دشمن کی‘ فورسز کو نکال باہر کیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ سینکڑوں فوجی ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔

    تاہم حوثیوں کے بیان میں پیریم جزیرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    سعودی عرب نے حالیہ پیش رفت پر تا حال عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    پیریم جزیرہ باب المندب کی آبنائے کے سب سے تنگ حصے پر واقع ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد اس علاقے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    سعودی عرب ایشیا میں اپنے صارفین تک تیل کی ترسیل کے لیے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبنائے پر انحصار کر رہا ہے۔

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    حوثیوں، یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان تنازع میں حالیہ شدت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بھی بنی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایک ہفتہ قبل جنوب مغربی یمن میں حوثیوں کی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حکومت نواز فورسز کی حمایت میں مغربی یمن کے حوثی زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    2015 میں حوثیوں نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد خانہ جنگی میں سعودی فوجی مداخلت شروع ہوئی۔اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

    اس وقت حوثیوں کا یمن کے بڑے حصے، بشمول دار الحکومت صنعا، پر کنٹرول ہے۔

  2. متعدد حملوں کے بعد سعودی عرب کی ’مشرق۔مغرب‘ تیل پائپ لائن بند کر دی گئی

    آرامکو کمپنی کی تیل تنصیبات

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعدد حملوں کے بعد ملک نے احتیاطی اقدام کے طور پر خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی اہم مشرق۔مغرب پائپ لائن کو بند کر دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق جمعرات کی صبح ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں اس پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تکنیکی اور امدادی ٹیمیں موقع پر بھیج دی گئی ہیں۔

    وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ ’آئندہ کسی بھی پیش رفت سے متعلق معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘

    واضح رہے کہ مشرق۔مغرب پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع بقیق کی تنصیبات سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔ اس کی معمول کی گنجائش تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

    سیٹلائٹ تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCopernicus Sentinel-3/Reuters

    جمعرات کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دیا تھا۔

    سعودی عرب نے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم ایرانی میڈیا اور یمن کے حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے اوپر دکھائی دینے والا دھواں حوثیوں کے حملے کا نتیجہ ہے۔

  3. ترک اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان سعودی عرب پر حالیہ حملوں پر گفتگو

    ترکی کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال اور سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے حالیہ حملوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اس گفتگو کے متعلق ایک ترک سفارتی ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یمن کے مغربی ساحلی علاقے میں حوثی گروہ کی پیش قدمی بھی جاری ہے۔

    گذشتہ ماہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں باہمی دفاع کی ایک شق بھی شامل ہے۔

  4. ایران، امریکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کریں: نریندر مودی

    انڈین وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہx.com/narendramodi

    بی بی سی فارسی کے مطابق انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ انھوں نے سمندری نقل و حرکت کی حفاظت اور بحری عملے کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں کی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات تھی۔ ملاقات میں انڈیا اور ایران کے دو طرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال گفتگو کا مرکزی موضوع رہی۔

    یہ ملاقات پزشکیان کی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے انڈین دار الحکومت پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی۔

    ایرانی صدر کی حیثیت سے یہ مسعود پزشکیان کا انڈیا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

    ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہم نے انڈیا اور ایران کی دوستی پر گفتگو کی۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں طویل مدتی حکمتِ عملی اور باہمی فائدے پر مبنی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’خطے کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ انڈیا پائیدار امن کے حصول کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

    وزارت کے مطابق نریندر مودی نے ’انڈیا کے اس مستقل مؤقف کا اعادہ کیا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘

  5. ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے: امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ

    ،تصویر کا ذریعہFinn Gomez/Getty Images

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

    وہ امریکی محکمۂ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگون میں 11 ستمبر کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    اپنی تقریر میں ہیگسیتھ نے کہا: ’گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہم نے دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی سرپرست کو کچل دیا ہے۔ ہماری افواج نے ایک ایسی حکومت کے خلاف جنگ لڑی ہے جو تقریباً نصف صدی سے ہماری موت کی خواہش رکھتی تھی اور 11 ستمبر کے حملوں پر خوشیاں مناتی رہی ہے۔

    ’ایک ایسی حکومت جو کئی دہائیوں سے امریکیوں کے خلاف دہشت گرد حملوں کی حامی رہی ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے اتحادیوں سمیت ہزاروں افراد عراق اور افغانستان میں مارے گئے ہیں۔‘

    ہیگسیتھ نے اس جنگ میں امریکہ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی تعریف کی۔

    امریکی وزیرِ دفاع نے کہا: ’امریکہ نے ان کے (ایران کے) رہنماؤں کو ختم کر دیا، ان کی فضائیہ کو تباہ کر دیا۔ ان کی بحریہ اب سمندر کی تہہ میں ہے اور ان کے دفاعی نظام بھی تباہ ہو چکے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی انھیں مار رہا ہے اور ان کے تیل بردار جہازوں کو سمندر کی تہہ میں بھیج رہا ہے، ’ہم یہ ضمانت دیتے ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ہیگسیتھ نے ایران پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔

  6. ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد کر دی: ایگزیوس

    Trump, MBS

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹیلی فون کالیں کیں اور انھیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی۔

    ایگزیوس نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی درخواست مسترد کر دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی انتظامیہ حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔

    خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر جمعرات کے روز ہنگامی طور پر سعودی عرب گئے۔

    ایگزیوس کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجی اور سویلین حکام نے اپنے سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکہ کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ پر مرکوز رہے گی، جبکہ ایک اور فوجی محاذ کھولنے سے گریز کیا جائے گا۔

  7. ایران کا مسقط میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کا اعلان

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ سوموار کے مسقط میں ہونے والے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ’علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کے فروغ کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع‘ ہے، جو خطے سے باہر کے عناصر کی ’تباہ کن مداخلتوں‘ سے دور رہتے ہوئے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ بحری راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نقشے پر عمان کے ساتھ ایک مفاہمت تک پہنچ چکا ہے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ اعلامیے پر مذاکرات جاری ہیں۔

    ایران کے مطابق امریکہ کی مداخلت اور بحری ناکہ بندی کے باعث اس مشترکہ اعلامیے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر ہوئی ہے۔

  8. حوثی ہر فیصلہ ایران سے پوچھ کر نہیں کرتے، مگر دونوں کے مفادات پہلے سے زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں, نوال المغافی, سینiئر بین الاقوامی نامہ نگار

    حوثی Houthi

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اکثر حوثیوں کو ایران کا محض ایک پراکسی گروپ قرار دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے حوثی گروپ کی عسکری صلاحیتیں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    کئی برسوں پر محیط عرصے کے دوران تہران نے اس گروہ کو نہ صرف اسلحہ اور ٹیکنالوجی فرہم کی بلکہ ان کی تربیت بھی کی۔ اس سے حوثیوں کو ایک مقامی یمنی باغی تحریک سے ایسی قوت میں تبدیل ہونے میں مدد ملی جو یمن کی سرحدوں سے سینکڑوں میل دور تک جدید میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ تہران حوثیوں کے ہر فیصلے کا تعین کرتا ہے۔

    حوثیوں کی اپنی قیادت ہے، یمن کے اندر اپنے سیاسی اور عسکری اہداف ہیں، اور انھوں نے ایران سے ایک حد تک خودمختاری کا مظاہرہ بھی کیا ہے، جو انھیں تہران کے نام نہاد ’مزاحمت کے محور‘ میں شامل بعض دیگر گروہوں سے مختلف بناتا ہے۔

    اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں کے مفادات ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    حالیہ لڑائی کے دوران ایران نے کھل کر حوثیوں کی حمایت کی ہے، اور اس کی ایک وجہ یمن کی جغرافیائی اہمیت ہے۔

    ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی عالمی جہاز رانی پر نمایاں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی اس اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو جزیرہ نما عرب کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔

    اس کا یہ مطلب نہیں کہ حوثی محض تہران کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔

    تاہم موجودہ صورتحال میں یمن کے اندر حوثیوں کے عسکری اہداف اور خطے میں جاری وسیع تر تنازعے کے حوالے سے ایران کے مفادات پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

  9. حوثیوں نے یمن میں بحیرہ احمر کے تمام ساحلی علاقے کو کنٹرول کر لیا ہے: یمنی عہدیدار کی اے ایف پی کو تصدیق

    ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے پورے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔

    عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مغربی ساحل پر جو کچھ بھی ہمارے کنٹرول میں تھا، وہ سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔‘

    فوجی عہدیدار کے مطابق حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں واقع دو مزید جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ دعویٰ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حوثی گروپ نے عالمی جہاز رانی کے لیے اہم آبی گزرگاہ میں واقع پیریم جزیرے کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

    Red Sea Coast
  10. مسعود پزشکیان کی نریندر مودی سے ملاقات، ’مشترکہ تعاون کے فروغ اور سٹریٹیجک معاہدوں کے تسلسل‘ کی ضرورت پر زور

    Masoud Pezzekian Narendra Modi

    ،تصویر کا ذریعہirannewspaper

    برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق، جمعہ کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان ’مشترکہ تعاون کے فروغ اور سٹریٹیجک معاہدوں کے تسلسل‘ کی ضرورت پر زور دیا۔

    برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممالک کے رہنماؤں میں روس اور چین کے صدور بھی شامل ہیں۔

    کچھ دیر قبل برکس اقتصادی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکاری اور مالیاتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون پر زور دیا۔

    امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ممالک کے درمیان ہونے والی جائز تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ’رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ باہمی ادائیگیوں کے لیے ضروری مالیاتی نظام کا قیام بھی ناگزیر ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق موجودہ عالمی مالیاتی نظام محدود تعداد میں کرنسیوں پر انحصار کرتا ہے اس وجہ سے سیاسی دباؤ کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے۔

  11. حوثیوں کی پیش قدمی نے ریاض میں تشویش پیدا کر دی, نوال المغافی، سینئر انٹرنیشنل نامہ نگار

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    یمن کے مغربی ساحل کے ساتھ حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    جمعرات کو اس گروپ نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ مخا پر قبضہ کر لیا، جو اس سے پہلے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز کے کنٹرول میں تھی۔

    مخا اور اس کے اطراف میں موجود رابطوں نے مجھے بتایا کہ حوثیوں کے داخل ہوتے ہی حکومتی فورسز تیزی سے پیچھے ہٹ گئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق دکانیں بند ہو گئیں اور خاندانوں نے شہر چھوڑنا شروع کر دیا کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ گروپ مزید کتنی دور تک پیش قدمی کرے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے باعث اب تک 46 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

    لیکن حوثی مخا تک محدود نہیں رہے۔

    جمعے کو حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حوثی فورسز نے پریم، جسے میون بھی کہا جاتا ہے، پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا مگر سٹریٹجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے جو براہِ راست باب المندب آبنائے میں واقع ہے۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے مخا ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے۔

    اس پیش رفت نے اسٹریٹجک صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

    باب المندب بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے درمیان واقع ایک تنگ آبی راستہ ہے اور یہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

    جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب تیل کی برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کے راستے پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔

    حوثیوں کا اصرار ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی محفوظ ہے اور ان کی ناکہ بندی صرف سعودی بحری جہازوں کے خلاف ہے۔ تاہم ان کی حالیہ پیش قدمی نے انہیں ایسا کہیں زیادہ مضبوط مقام فراہم کر دیا ہے جہاں سے وہ، اگر چاہیں، اس جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اور بظاہر یہی بات ریاض میں اتنی تشویش کا سبب بن رہی ہے: 2022 سے بڑی حد تک منجمد رہنے والا ایک تنازع اچانک دنیا کی سب سے اہم سٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں سے ایک تک پہنچ گیا ہے۔

  12. اہم بحری راستے پر واقع سٹریٹجک اہمیت رکھنے والا افریقی ملک, سِمی جولاوسو، بی بی سی افریقہ کی نامہ نگار۔

    یمن کے مقابل باب المندب آبنائے کے دوسری جانب واقع چھوٹا افریقی ملک جبوتی اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے افریقہ کے سب سے زیادہ سٹریٹجک اہمیت رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

    افریقی ساحل اور یمن کے درمیان واقع یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیجِ عدن کو بحیرۂ احمر اور اس کے آگے نہرِ سویز سے ملاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ جبوتی کے ساحل کے ساتھ غیر معمولی حد تک فوجی قوت موجود ہے۔

    امریکہ، چین، فرانس، جاپان اور اٹلی سب وہاں فوجی تنصیبات چلاتے ہیں۔

    کیمپ لیمونیئر میں قائم امریکی اڈا تقریباً 4,000 امریکی اور اتحادی فوجیوں کی معاونت کرتا ہے، جبکہ چین نے 2017 میں جبوتی میں اپنا پہلا بیرونِ ملک فوجی معاونتی اڈا قائم کیا تھا۔ دونوں اڈے ایک دوسرے سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہیں۔

    جاپان کی واحد بیرونِ ملک سیلف ڈیفنس فورس بیس بھی وہیں واقع ہے، جبکہ فرانس کی طویل عرصے سے موجود فوجی فورسز اور اٹلی کا فوجی اڈا بھی جبوتی میں موجود ہیں۔

    ان فوجی مشنز میں بحری قزاقی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، جہاز رانی کے تحفظ، انٹیلی جنس معلومات کا حصول اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

    پانی کے اُس پار جاری لڑائی میں شدت آنے کے بعد اس مقام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جن میں باب المندب آبنائے میں واقع اسٹریٹجک جزیرہ پریم بھی شامل ہے۔

    دنیا کی کئی بڑی فوجی طاقتیں پہلے ہی اس اہم بحری راستے کے قریب اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    لہٰذا، اگرچہ اس وقت زیادہ تر توجہ یمن پر مرکوز ہے، لیکن افریقی ساحل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس خطے میں داؤ پر لگا معاملہ کتنا بڑا ہے۔

  13. برکس ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت بڑھائی جائے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت کے لیے قومی کرنسیوں کا استعمال کیا جائے۔

    مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے دار الحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، برکس بزنس فورم کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ’رکن ممالک کے درمیان تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو وسعت دینا اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ باہمی ادائیگیوں کے لیے ضروری مالیاتی نظام کا قیام بھی ناگزیر ہے۔

    ایرانی صدر کے مطابق موجودہ عالمی مالیاتی نظام محدود تعداد میں کرنسیوں پر انحصار کرتا ہے اس وجہ سے سیاسی دباؤ کے مقابلے میں غیر محفوظ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو حقیقی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو رکن ممالک میں بنیادی انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کا مرکزی محرک بننا چاہیے۔

    مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز، مقامی کرنسیوں میں فنانسنگ اور نجی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ضمانت فراہم کی جانی چاہیے۔

  14. آبنائے باب المندب کتنی اہم ہے؟

    آبنائے باب المندب

    آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔

    بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔

    115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے سنہ 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔

    بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔

    آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل، جو مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور مغرب کی جانب جاتا ہے، اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

    مزید یہ کہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی آٹھ فیصد ترسیل بھی اس آبنائے سے ہوتی ہے۔

    آبنائے ہرمز کے مؤثر طور پر بند ہونے کے بعد، بحیرہ احمر نے عالمی تجارت میں مزید اہمیت حاصل کر لی ہے۔

    سعودی عرب نے باب المندب کو یَنبُع بندرگاہ سے سعودی تیل کی ترسیل کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ریاض اپنی مشرقی آئل فیلڈز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل وہاں ایک پائپ لائن کے ذریعے بھیجتا ہے۔

    خام تیل اور گیس کے علاوہ، باب المندب مشرق اور مغرب کے درمیان مرکزی تجارتی رابطے کا حصہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ درجنوں کارگو جہاز گزرتے ہیں۔

    مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

  15. بحیرہ احمر پر حوثیوں کے کنٹرول سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے طویل عرصے تک پر بند رہنے کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات بحیرہ احمر تک پہنچانے کے لیے مشرق سے مغرب جانے والی (ایسٹ-ویسٹ) پائپ لائن کا سہارا لیا۔

    اس سال کے آغاز میں سعودی عرب اپنی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد خلیج کے راستے کے بجائے اس پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ کی جانب منتقل کر رہا تھا۔

    اس پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب بحیرہ احمر میں واقع باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ایشیا کو تیل بھیجنے کے قابل رہا ہے۔

    تاہم، حوثیوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جزیرہ پیریم تک پہنچ گئے ہیں، جو آبنائے باب المندب کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے، اور اس صورتحال سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

    حوثیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو گزرنے نہیں دیں گے۔

    East west
  16. سعودی عرب سے حوثیوں کا تنازع کیسے شروع ہوا؟

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پانچ نومبر 2009 کو حوثیوں نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کے دوران سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع سرحدی گاؤں الخوبہ میں دراندازی کی۔ اس کارروائی کا مقصد سرحدی علاقے میں واقع جبل الدخان پر قبضہ حاصل کرنا تھا۔

    اس کے جواب میں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی اور ان سینکڑوں جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جن پر سعودی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کا الزام تھا۔ سعودی حکام نے تین روز بعد اعلان کیا کہ انھوں نے جبل الدخان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

    یہ لڑائی فروری 2010 تک جاری رہی۔ اس تصادم کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد کے لیے ایک ممکنہ سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، جو بعد کے برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیاد بنا۔

  17. حوثی کون ہیں اور حوثی تحریک کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    10 ستمبر کی تصویر: حوثیوں کے وفادار جنگجو صنعا میں مزید جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے منعقدہ ایک ریلی کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن10 ستمبر کی تصویر: حوثیوں کے وفادار جنگجو صنعا میں مزید جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے منعقدہ ایک ریلی کے دوران نعرے لگا رہے ہیں۔

    حوثی ایک جنگجو گروہ ہے جس کا تعلق یمن کی اقلیتی زیدی شیعہ برادری سے ہے اور یہ اپنے آپ کو ’انصار اللہ‘ بھی کہتا ہے۔ اس تحریک کی جڑیں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ میں ملتی ہیں، جہاں اس کی بنیاد معروف زیدی عالم بدرالدین الحوثی کے صاحبزادے حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی۔

    1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بدرالدین الحوثی یمن میں پھیلتے ہوئے سلفی اثرات کے ناقد کے طور پر سامنے آئے۔ حوثیوں کے مطابق اس دور میں یمن میں سعودی حمایت یافتہ وہابی فکر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا، جس کی انھوں نے مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کیا۔

    اس تحریک کی باقاعدہ تشکیل 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، جب حسین الحوثی نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعت ’الحق‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1993 کے انتخابات میں انھوں نے صوبہ صعدہ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی، جس سے تحریک کو سیاسی شناخت ملی۔

    ابتدائی طور پر حوثی تحریک کا مقصد اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت میں پائی جانے والی بد عنوانی اور سیاسی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری اور سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس گروہ کا نام بھی اس کے بانی حسین الحوثی کے نام پر رکھا گیا۔

    2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حوثیوں نے ’اللہ اکبر، امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، اسلام کو فتح حاصل ہو‘ کا نعرہ اپنایا اور خود کو حماس اور حزب اللہ کی طرح ایران کے حمایت یافتہ اُن گروہوں کا حصہ قرار دیا جو اسرائیل، امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    یورپی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے وابستہ یمن کے امور کے ماہر ہشام العمیسی کے مطابق حوثیوں کی تاریخ اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ وہ آج بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو کیوں نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بقول حوثی اپنے اقدامات کو سامراجی طاقتوں اور امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے خلاف جدوجہد کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور یہی بیانیہ ان کے حامیوں میں مقبول ہے۔

  18. سعودی اتحاد کی کمزوری یا بہتر عسکری حکمت عملی: یمنی حوثی اتنی تیزی سے مخا کی اہم بندرگاہ تک کیسے پہنچے؟, منزہ انوار، بی بی سی اُردو، اسلام آباد

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے ملک کے مغربی ساحل پر تیز رفتار پیش قدمی کے بعد 10 ستمبر کو بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر مخا (المَخا) پر قبضہ کیا اور اب اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز کے انخلا کے بعد حوثیوں نے آبنائے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے ’میون‘ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    اس سے قبل حوثیوں نے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم اور سٹریٹجک فوجی مرکز ’العمری فوجی اڈے‘ کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

    حوثیوں کے مطابق یہ پیش رفت باب المندب کے اطراف ان کی عسکری پوزیشن کو مزید مضبوط بناتی ہے، جو عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

    اس تیز رفتار پیش قدمی کے پیچھے وجوہات جاننے کے لیے ذیل میں دی گئی رپورٹ پر کلک کریں۔

  19. تصدیق شدہ تصاویر سے مخا کے اہم علاقوں میں مسلح افراد کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے: بی بی سی ویریفائی

    حوثی

    ،تصویر کا ذریعہTelegram

    بی بی سی ویریفائی ایسی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لے رہا ہے جن میں جنگجوؤں کو بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر مخا میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    ٹیلیگرام پر شیئر کی گئی ایک تصدیق شدہ تصویر میں چار مسلح افراد کو مخا ائیرپورٹ کے ٹرمینل کی عمارت کے باہر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ عمارت مرکزی بندرگاہ کے جنوب میں واقع ہے۔

    ایک ویڈیو میں بھی مسلح افراد کو مخا کے وسط سے گزرنے والی ایک مرکزی سڑک پر چار پک اپ گاڑیوں میں سفر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ویڈیو میں ایک شخص کو حوثیوں کا ایک معروف نعرہ لگاتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے۔

    مخا

    ،تصویر کا ذریعہX

  20. سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کے بادل کی نشاندہی

    East West Pipeline

    ،تصویر کا ذریعہCopernicus Sentinel-3/Reuters

    بی بی بی فارسی کے مطابق جمعرات کے روز حاصل ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کے قریب دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دے رہا ہے۔

    سعودی عرب نے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی، جبکہ حکومتی میڈیا دفتر اور تیل کمپنی آرامکو نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    جنگ کے آغاز کے بعد سے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ سعودی تیل کمپنی آرامکو اس کے ذریعے خلیج فارس کے مشرقی ساحل سے تیل بحیرہ احمر کے مغربی ساحل تک منتقل کر سکتی ہے۔ اس سے تیل کی بحری جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے ترسیل کی ضرورت نہیں رہتی۔

    ایرانی میڈیا اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے اوپر دکھائی دینے والا دھواں حوثیوں کے حملے کا نتیجہ ہے۔