لائیو, دمام ایئرپورٹ حملے میں دو افراد ہلاک: امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے اڈوں پر فوجی موجودگی ’خاموشی سے‘ کم کر رہا ہے، رپورٹ

سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے اور مشرقی صوبے میں آرامکو تنصیب کے قریب ڈرون کا ملبہ گرنے کے واقعات میں مجموعی طور پر چار افراد ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ’سی بی ایس‘ کے مطابق علاقائی خطرات کے پیش نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. ایران کے معاملے پر جلد کچھ ہونے والا ہے: صدر ٹرمپ کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ’ایران کے معاملے پر جلد کچھ ہونے والا ہے۔‘

    جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ رابطوں اور ممکنہ پیش رفت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انتخابات کے بعد ہوگا، لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا۔‘

    ان کا اشارہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی جانب تھا۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے مذاکرات کا راستہ چھوڑ دیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے، لیکن جلد ہی کچھ ہو جائے گا۔‘

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے انتخابات کے بعد ایران پر حملے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔

  2. اب تک کی خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کی کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل آپ کےلیے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • سعودی عرب پر بدھ کی رات مزید حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں اور اُن کے اہلِخانہ کے انخلا کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    • سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔
    • یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ایک نئے میزائل حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کیئو کے میئر ویتالی کلچکو کے مطابق بدھ کی شب ہونے والے حملے میں کئی رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ چار جہاز شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران نشانہ بنائے گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔
    • دنیا بھر کی تنظیمیں ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس خامی کی نشاندہی کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر میں سامنے آنے والا ’سب سے سنگین‘ سکیورٹی مسئلہ ہے۔
    • سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔
    • امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، جو امریکہ میں بی بی سی کا شراکت دار ادارہ ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔
  3. دمام ایئرپورٹ حملہ: ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی، آٹھ افراد زخمی

    سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دو ہو گئی ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق ایک مزید ہلاکت کی تصدیق کے بعد ہلاک ہونے والے افراد میں ایک سعودی شہری اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بدستور آٹھ ہے۔ زخمیوں میں ایک سعودی شہری، دو انڈین، دو یمنی، دو بنگلہ دیشی اور ایک نیپالی شہری شامل ہے جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر حملے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مسافروں، عملے اور سول ایوی ایشن کے نظام کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    بیان کے مطابق کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں اور فضائی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

  4. اہم سائبر سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند، ہنگامی اقدامات جاری

    ہم اب تک کیا جانتے ہیں:

    • دنیا بھر کی تنظیمیں ایک سنگین سائبر سکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کر سکتی ہے۔
    • اس خامی کی نشاندہی کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کیریئر میں سامنے آنے والا ’سب سے سنگین‘ سکیورٹی مسئلہ ہے۔
    • یہ خامی پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں پائی گئی ہے، جو ویب سائٹس کے لیے معلومات کو جمع اور صارفین کے سامنے قابلِ مطالعہ شکل میں پیش کرنے کا کام کرتی ہے۔
    • ایک ماہر کے مطابق اس مسئلے سے تقریباً 3 کروڑ ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں اور اس کے ذریعے حملہ آور ذاتی معلومات چوری کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
    • یہ مسئلہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے دریافت کیا گیا، جس کے بعد مختلف حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں نے ضرورت پڑنے پر ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
    • برطانیہ کے آفس فار بجٹ رسپانسبلٹی اور این ایچ ایس سکاٹ لینڈ نے اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دی تھیں۔ ویکیپیڈیا کے بعض حصے بھی کچھ وقت کے لیے دستیاب نہیں رہے، جبکہ ایمیزون نے کہا ہے کہ اس نے اس خامی سے فائدہ اٹھانے کی ایک ہیکنگ کوشش کا پتہ لگایا ہے۔
    • ماہرین کے مطابق تاحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ان خامیوں کا بڑے پیمانے پر ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہو، تاہم اداروں کو فوری حفاظتی اپ ڈیٹس نصب کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
  5. متاثر ہونے والوں میں ایمازون، ویکیپیڈیا اور سرکاری ویب سائٹس شامل

    سائبر سکیورٹی

    سائبر سکیورٹی کمپنی وِز (Wiz) کا اندازہ ہے کہ پی ایچ پی کی ان خامیوں سے انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس اور آن لائن سروسز نے ان خامیوں کے بعد مسائل یا احتیاطی بندش کی اطلاع دی ہے:

    • ایمازون کا کہنا ہے کہ اس نے ہیکرز کی جانب سے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش کا پتہ لگایا ہے، تاہم اس کی ویب سائٹس معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
    • نیدرلینڈز کی سرکاری ایجنسی نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ کی ویب سائٹ فی الحال بند ہے۔
    • نیدرلینڈز کی ایک اور سائبر سکیورٹی ایجنسی نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی ویب سائٹ عارضی طور پر بند کی تھی، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔
    • ڈنمارک کی آئی ٹی کمپنی کومبٹ (Kombit) نے متعدد خدمات بند کر دی ہیں، جن میں قومی سکول مواصلاتی پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔
    • فن لینڈ کی حکومت نے اپنی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کی تھیں، لیکن وہ دوبارہ آن لائن ہو چکی ہیں۔
    • ویکیپیڈیا نے بھی احتیاطی تدبیر کے تحت اپنی ویب سائٹ کے بعض حصے عارضی طور پر بند کر دیے تھے۔
  6. ’سائبر سکیورٹی کی خامی کا فی الحال ہیکرز نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا‘

    سائبر سکیورٹی

    سائبر سکیورٹی خامی کا انکشاف کرنے والے محقق کا کہنا ہے کہ فی الحال اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ہیکرز نے اس خامی کا بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہو۔

    اس خامی کی نشاندہی کرنے میں شامل محقق رائن آسٹن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مسائل سے صحیح طریقے سے نمٹنے کے لیے ’مربوط اور ذمہ دارانہ انکشاف‘ ضروری ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پی ایچ پی فاؤنڈیشن اور ورڈپریس سمیت پی ایچ پی استعمال کرنے والی بڑی کمپنیوں اور پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر کام کیا اور حفاظتی پیچ تیار ہونے کے بعد انھیں پیشگی آگاہ کیا گیا۔

    آسٹن کے مطابق جیسے ہی کسی خامی کا اعلان کیا جاتا ہے، متعلقہ سافٹ ویئر یا نظام ایک نئے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی بدولت اب ’بہت سے نقصان دہ عناصر‘ بھی ایسی خامیوں کو تلاش کرنے اور ان کا فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہیکرز پہلے ہی اس خامی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا ’فی الحال ایسا نظر نہیں آتا۔ ابھی تک یہ شواہد نہیں ملے کہ اس خامی کا استحصال وسیع پیمانے پر شروع ہو گیا ہے یا بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔‘

  7. ’دی ٹریٹرز‘ کی ویب سائٹ سمیت بی بی سی کے متعدد ویب صفحات، تکنیکی مسائل کا شکار

    دنیا بھر کی متعدد متاثرہ ویب سائٹس کی طرح بی بی سی کی کئی ویب سائٹس بھی آج صبح عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

    متاثرہ صفحات میں بی بی سی ون کے کئی پروگراموں کی ویب سائٹس شامل ہیں، جن میں دی ٹریٹرز اور ایسٹ اینڈرز کی سرکاری ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ بی بی سی 2 اور بی بی سی تھری کے متعدد پروگراموں کی ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    ان ویب سائٹس تک رسائی کی کوشش کرنے پر صارفین کو سکرین پر پیغام نظر آ رہا ہے کہ: ’یہ سروس عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے۔‘

    بی بی سی نے اپنے پریس آفس سے یہ پوچھا ہے کہ آیا حال ہی میں سامنے آنے والی پی ایچ پی پروگرامنگ زبان کی سنگین سکیورٹی خامیاں ان ویب صفحات کی بندش کی وجہ ہیں یا نہیں، تاہم تاحال اس بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

  8. ’دمام کے ہوائی اڈے پر حملے میں انڈین شہری ہلاک اور زخمی ہوئے‘

    سعودی عرب میں قائم میں انڈیا کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ گدشتہ شام دمام کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں انڈین شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سفارتخانے نے لکھا کہ ’سعودی حکام نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات دمام ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں ایک انڈین شہری بھی شامل تھے، جبکہ دو انڈین شہری زخمی ہوئے ہیں۔‘

    انڈین حکام نے کہا ہے کہ وہ مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری ہمدردیاں اور دعائیں مرنے والے شخص کے اہلِ خانہ اور عزیزوں کے ساتھ ہیں، اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

  9. خلیج فارس میں چار جہازوں کو نشانہ بنایا، تین دیگر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    خلیج فارس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ چار جہاز شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں تیل کی منتقلی کے دوران نشانہ بنائے گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔

    فورسز کی بحریہ نے ایک بیان میں ان چاروں جہازوں کو ’خلاف ورزی کرنے والے‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’غیر قانونی راستوں‘ سے گزر رہے تھے۔

    ایران اُس بحری راستے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے جو عمان نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے مقرر کیا ہے اور جس کے بارے میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس کی سلامتی یقینی بناتا ہے۔

    سپاہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گذشتہ رات تین دیگر ’خلاف ورزی کرنے والے‘ جہاز مغربی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں انھیں حادثہ پیش آیا اور ان میں آگ لگ گئی۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج کی جانب سے جہازوں کو ’بارودی سرنگوں سے آلودہ غیر قانونی راستوں‘ سے گزرنے پر اصرار سمندری حادثات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

    ایرانی بحریہ نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’اشتعال انگیز اقدامات‘ جاری رہے تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف زیادہ وسیع ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

    ادھر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق شپنگ کمپنیاں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں سے گریز کرتے ہوئے متبادل راستے استعمال کر رہی ہیں، کیونکہ جنگ کے دوران ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کیپلر کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی یومیہ اوسط برآمدات 2 کروڑ 46 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں، جو جنگ سے قبل یومیہ 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل کی اوسط سے زیادہ ہیں۔ اس شمار میں ایران شامل نہیں ہے۔

  10. سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد حکومتیں اور کمپنیاں ویب سائٹس کے تحفظ کے لیے متحرک

    سائبر سکیورٹی خامیوں

    دنیا کی مختلف حکومتیں اور ایمیزون سمیت بعض بڑی عالمی کمپنیاں اہم سائبر سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد اپنے سسٹمز کے تحفظ کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہیں۔

    یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں پائی گئی ہیں، جو دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ویب سائٹس کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے، اگرچہ بی بی سی اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    احتیاطی اقدام کے طور پر کئی یورپی ممالک نے اپنی بعض سرکاری آن لائن سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ ویکیپیڈیا نے بھی اپنی ویب سائٹ کے کچھ حصے آف لائن کر دیے ہیں۔

    یہ اقدامات امریکہ سمیت مختلف حکومتوں کی ان ہدایات کے مطابق کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر ان خامیوں کو فوری طور پر دور نہ کیا جا سکے تو ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دی جائیں۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی وِز، جس کے محققین نے ان خامیوں کی نشاندہی کی، کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دریافت کی جانے والی اب تک کی "انتہائی سنگین" خامیاں ہیں۔

    اوپن اے آئی، جس کی ٹیکنالوجی ان خامیوں کی دریافت میں استعمال ہوئی، نے اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ جانچ رہی ہے کہ آیا اس مسئلے سے اس کے نظام کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

    اس معاملے سے متعلق مزید پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔

    پی ایچ پی کیا ہے اور یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

    ممکن ہے آپ نے پی ایچ پی: ہائپر ٹیکسٹ پری پروسیسر کا نام نہ سنا ہو، لیکن آپ روزانہ اس سے بنی ہوئی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں۔

    پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جو بڑی تعداد میں ویب پلیٹ فارمز کو چلاتی ہے، جن میں آن لائن شاپنگ ویب سائٹس، ویکیپیڈیا اور ورڈپریس شامل ہیں۔ ورڈپریس وہ مواد کے انتظام کا نظام (CMS) ہے جس پر بے شمار ویب سائٹس اور بلاگز چلتے ہیں۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی گوریلا سائبر سکیورٹی کے چیف ایگزیکٹو پال سپین کے مطابق، جب آپ ویکیپیڈیا جیسی کسی ویب سائٹ پر جاتے ہیں تو پی ایچ پی پس منظر میں کام کرتے ہوئے مطلوبہ معلومات اکٹھی کرتی ہے اور اسے ایسے انداز میں پیش کرتی ہے جسے آپ ویب پر آسانی سے پڑھ سکیں۔

    تاہم ایک ایسی سکیورٹی خامی دریافت ہوئی ہے جو حملہ آوروں کو بغیر کسی تصدیق کے متاثرہ ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کرنے اور حساس معلومات چوری کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس خامی کے باعث پی ایچ پی پر بننے والی تمام ویب سروسز ممکنہ خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔

    پال سپین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) ایسے سائبر حملوں کو زیادہ آسان اور تیز بنا سکتی ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق اس خامی سے ’لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ویب سائٹس‘ متاثر ہو سکتی ہیں۔

  11. عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، برینٹ کروڈ 110.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا

    سعودی عرب پر بدھ کی رات مزید حملوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتکاروں اور اُن کے اہلِخانہ کے انخلا کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.29 ڈالر، یعنی 1.2 فیصد اضافے، کے بعد 110.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 97 سینٹ، یعنی ایک فیصد اضافے کے ساتھ 98.12 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    اس سے ایک روز قبل، یعنی بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً مستحکم رہی تھی۔

    امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ خطے میں واقع متعدد امریکی سفارتی مشنز سے بھی اہلِخانہ کے ارکان کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

  12. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے لانا ذکی نسیبہ یو اے ای کی باضابطہ امیدوار نامزد

    لانا ذکی نسیبہ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی وزیر مملکت لانا ذکی نسیبہ کو باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

    یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو خطوط ارسال کرکے نامزدگی کا باضابطہ اعلان کیا۔

    لانا ذکی نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں یو اے ای کی مستقل مندوب رہ چکی ہیں۔ اس عرصے کے دوران انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر اور یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    وہ 2022-2023 کی مدت کے دوران دو مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیکریٹری جنرل کی تقرری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کرتی ہے، تاہم اس کے لیے سلامتی کونسل کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔

    لانا ذکی نسیبہ متحدہ عرب امارات کی ایک سینئر سفارت کار، سیاست دان اور بین الاقوامی امور کی ماہر ہیں۔ وہ اس وقت یو اے ای کی وزیرِ مملکت ہیں اور اس سے قبل سیاسی امور کی معاون وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

    لانا ذکی نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب رہیں۔ وہ اس منصب پر تعینات ہونے والی پہلی اماراتی خاتون تھیں۔ اقوام متحدہ میں اپنے طویل سفارتی کیریئر کے دوران انھوں نے مختلف بین الاقوامی معاملات، امن و سلامتی، انسانی امداد، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جبکہ 2017 میں یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ کی صدر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ اقوام متحدہ میں اصلاحاتی اقدامات اور سلامتی کونسل کی اصلاحات سے متعلق مذاکرات میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

    2022 اور 2023 میں، جب متحدہ عرب امارات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن تھا، لانا ذکی نسیبہ نے دو مرتبہ سلامتی کونسل کی صدارت بھی کی۔ اس دوران انھوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق اہم اجلاسوں کی قیادت کی۔

    تعلیمی اعتبار سے لانا ذکی نسیبہ نے یونیورسٹی آف کیمبرج سے تاریخ میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (SOAS)، یونیورسٹی آف لندن سے اسرائیلی اور یہودی ڈائسپورا سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    ان کے سفارتی تجربے، اقوام متحدہ کے نظام سے گہری واقفیت اور بین الاقوامی سطح پر طویل خدمات کے باعث انہیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے ایک اہم اور مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔

  13. عمران خان کی بہنوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو عدالت پیش ہونے کا حکم

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی تین بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس عبہر گل خان نے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

    وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں بہنوں کی نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے ہیں۔

    سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کا نظر بندی کا نوٹیفکیشن ختم ہو چکا ہے، اس لیے انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔

    عدالت نے مزید کارروائی 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  14. اہم سائبر سکیورٹی اپ ڈیٹ کے بعد دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند

    انٹرنیٹ

    انٹرنیٹ کے بڑے حصے کو چلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی دو سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں اور سائبر سکیورٹی اداروں نے ویب سائٹس کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت کی گئی ہیں، جبکہ ان کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹ (فکس) بدھ کی سہ پہر جاری کی گئی۔

    متعدد سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں بروقت حفاظتی اپ ڈیٹ لاگو نہیں کر سکتیں، انھیں عارضی طور پر اپنی ویب سائٹس بند کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں فن لینڈ کی حکومت، ایڈنبرا سٹی کونسل اور بی بی سی نے اپنی بعض ویب سروسز عارضی طور پر آف لائن کر دی ہیں۔

    یہ خامیاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کی گئیں۔ سائبر سکیورٹی کمپنی وِز (Wiz) کے مطابق یہ اے آئی کی جانب سے اب تک دریافت کی جانے والی ’انتہائی سنگین خامیاں‘ ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے۔

    فن لینڈ نے حکومتی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی سائبر سکیورٹی ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان خامیوں کے باعث اس کی ویب سائٹ عارضی طور پر آف لائن کر دی گئی ہے۔

    امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) نے بھی مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کر دیں۔

    ادارے نے کہا: ’یہ خامیاں اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔‘

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف AI کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے بھی عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا ان کی عوامی ویب سائٹس پی ایچ پی پر چل رہی ہیں یا نہیں۔

    آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سکیورٹی خامیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    فاؤنڈیشن کے مطابق: ’ہم نے احتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جب تک انھیں محفوظ طریقے سے اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    اسی وجہ سے بدھ کے روز بعض صارفین کو ویکیپیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ڈاکٹر ہو اور دی ٹریٹرز شامل ہیں، کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔

    متاثرہ اداروں نے تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ اس کی وجہ براہ راست پی ایچ پی کی خامیاں تھیں یا نہیں۔

    دوسری جانب آرٹ پلیٹ فارم ڈیویئنٹ آرٹ سمیت بعض ویب سائٹس نے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ ’عارضی دیکھ بھال‘ کے لیے بند ہیں، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    یہ خامیاں سائبر سکیورٹی کمپنیوں کالیف اور وِز کے ماہرین نے دریافت کیں۔ یہ تحقیق اوپن اے آئی کے ’پیچ دے پلینٹ‘ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈویلپمنٹ کی زبانوں میں موجود خامیوں کو تلاش اور درست کیا جا سکے۔

    اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو ’حالیہ برسوں کے سب سے اہم سکیورٹی مسائل میں سے ایک‘ قرار دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید آے آئی ٹولز استعمال کرنے کے چند ہفتوں کے اندر ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹس کی بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہے، اور کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے دائرۂ اثر میں آتا ہے۔

    پی ایچ پی فاؤنڈیشن اس مسئلے کی تفصیلات اور مکمل سکیورٹی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنا چاہتی تھی، تاہم خامیوں کی معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہو گیا۔

  15. کیئو پر نئے میزائل حملے، امن مذاکرات کی امیدوں کے باوجود روسی حملے جاری

    کیئو پر نئے میزائل حملے

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر ایک نئے میزائل حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کیئو کے میئر ویتالی کلچکو کے مطابق بدھ کی شب ہونے والے حملے میں کئی رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس نے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا ’شاید اب جنگ کے خاتمے کے سب سے قریب‘ پہنچ چکی ہے۔

    یہ پیش رفت ٹرمپ کے ایلچیوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے شروع کی گئی نئی سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آئی ہے۔ وٹکوف نے بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل وہ یوکرین کے صدر سے بھی مل چکے تھے۔

    فروری میں روس، یوکرین اور دیگر فریقوں کے درمیان سہ فریقی مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد روس نے اپنے حملے تیز کر دیے تھے، جبکہ یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے گئے فضائی دفاعی میزائلوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

    بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں چند روز قبل ولادیمیر پوتن سے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ میرے خیال میں ہم اس مقصد کے قریب پہنچ رہے ہیں، شاید اب تک کے کسی بھی وقت سے زیادہ قریب۔‘

    تاہم امریکی صدر اب تک اپنے ان بار بار کیے گئے دعوؤں کے باوجود روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ وہ اس تنازع کو ختم کروا سکے ہیں۔

  16. پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہا ہے: امریکی میڈیا

    امریکی فوج

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس، جو امریکہ میں بی بی سی کا شراکت دار ادارہ ہے، نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار اور ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے جاری علاقائی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بعض اڈوں پر فوجیوں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہی ہے۔

    اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے بدھ کے روز سب سے پہلے یہ خبر نشر کی تھی۔

    ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے سی بی ایس سے کہا کہ امریکی فوج معمول کے مطابق اپنے اہلکاروں اور سازوسامان کی نقل و حرکت کرتی رہتی ہے تاکہ مختلف مشنز کے لیے آپریشنل تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا: ’آپریشنل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم ایسی نقل و حرکت کی تفصیلات فراہم نہیں کرتے۔ امریکی افواج خطے بھر میں امریکی اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے بدستور چوکس اور تیار ہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی وزارتِ خارجہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت سے منسلک خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    سی بی ایس نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع بعض امریکی سفارت خانوں نے بھی ’محدود سرگرمیوں‘ کی حالت میں اپنے عملے کی تعداد میں تبدیلیاں کی ہیں۔

    امریکی وزارتِ خارجہ نے اگست میں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور تنازع میں شدت آنے کے دوران، "محدود سرگرمیوں" کی اس پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس طریقۂ کار کے تحت سفارت خانے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل کیے بغیر عملے کی تعداد اور فراہم کی جانے والی خدمات کو محدود کر سکتے ہیں۔

  17. سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ پر حملہ، ایک شخص ہلاک، آٹھ زخمی

    سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے۔

    ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کی چوٹیں معمولی سے شدید نوعیت کی ہیں، تاہم حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون یا اس کے ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

    دریں اثنا، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں پانچ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ توانائی نے الگ بیان میں بتایا کہ مشرقی صوبے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو روکنے کی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے تھا، جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔

    ادھر امریکی وزارتِ خارجہ نے ریاض میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ نے متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں حالات مزید کشیدہ ہونے اور خصوصاً یمن کے حوثیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی کے خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب پر مزید حوثی حملوں کے امکان سے متعلق سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔

    دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اپنے خلیجی دورے کے دوران ریاض کا اچانک دورہ کیا، جہاں انھوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ایلیزیے محل کے مطابق اس ملاقات کا مقصد سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں فرانس کی یکجہتی کا اظہار اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا تھا۔

    میخواں خلیجی ممالک کے دورے کے سلسلے میں کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر بھی جا چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر اکتوبر کے آغاز سے حوثی حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی سربراہِ مملکت بن گئے ہیں۔

    ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد کی پیشکش کا مقصد صرف سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، اس میں یمن پر کوئی حملہ شامل نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مصر کسی بھی عرب ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے اگر اس سے درخواست کی جائے۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ مصر پہلے ہی تہران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔

    عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش پر ابھی تک سعودی عرب یا حوثی جماعت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کے دوران مصری صدر کا ایک تحریری پیغام بھی وصول کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    واس
  18. بریکنگ, سعودی عرب: آرامکو تیل تنصیب پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک، پاکستان شہری سمیت دو زخمی

    @anadoluagency
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی اور سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کی صبح سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    سعودی وزارتِ توانائی نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں آئل فیلڈ میں کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ گاڑی تنصیب کی حدود سے باہر تھی اور واقعے سے تیل کی پیداوار یا دیگر آپریشنز متاثر نہیں ہوئے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق اس واقعے میں دو غیر مُلکی ہلاک ہوئے جن میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین شہری شامل ہیں۔

  19. ایرانی خطرہ ختم کرنے کا واحد راستہ حکومت کا تختہ الٹنا ہے، موساد اور سکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کر دیں: نیتن یاہو

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’ایران سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کا واحد راستہ وہاں کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘

    جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ ’ایران اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے ایسا کرنے سے پوری طاقت کے ساتھ روک دیا ہے۔‘

    ان کے بقول ایران جوہری بم بنانے کی کوشش بھی کر رہا تھا، جسے روک دیا گیا، تاہم ایران اب بھی یہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایران کے خلاف حالیہ دنوں میں اپنے سخت بیانات میں مزید شدت لاتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال ختم کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’اسرائیلی فوج، خفیہ ایجنسی موساد اور ملک کے تمام سکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے حکم جاری کر دیا ہے۔‘

    تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس حکم پر کب اور کس طرح عمل درآمد کیا جائے گا۔

    ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

  20. حوثی حملوں کے بعد فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا سعودی عرب کا اچانک دورہ

    AFP via Getty Images

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے۔

    ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں اضافے کے بعد ایمانویل میکخواں سعودی عرب پہنچنے والے پہلے مغربی رہنما ہیں۔

    ایمانویل میکخواں کی سعودی عرب آمد سے قبل فرانسیسی ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس دورے کا مقصد حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ فرانس کی یکجہتی کا اظہار کرنا اور ہائیڈروکاربن وسائل کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور ان کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوششیں جاری رکھنا ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانویل میکخواں نے کہا کہ وہ ’اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔‘

    سعودی عرب پہنچنے سے پہلے ایمانویل میکخواں قطر میں تھے، جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی عرب کی اہم آئل ٹرمینل بندرگاہ ینبع پر اہلکار اور سازوسامان بھیجا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے جنوبی صوبے حضرموت کے دارالحکومت مکلا کے الریان ایئرپورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے پہنچائے گئے فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ حوثی تنظیم انصار اللہ نے کیا ہے۔

    حوثی گروپ نے ریاض کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ ’شہری تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال‘ نہ کرے۔