لائیو , ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تصدیق: ’ایران میں اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم کو نشانہ بنایا گیا‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں واقع جزیرے قشم کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’محدود حملہ‘ قرار دیا۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. آزادی صحافت کے خلاف اقدامات پر کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا: ’موجودہ حکومت کے دور میں صورتحال جنرل مشرف کی ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے‘

    کوئٹہ

    پاکستان میں آزادی صحافت کے خلاف اقدامات پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کے روز احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

    بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام ہونے والے اس مظاہرے کو مقررین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے بعد پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی آزادی صحافت کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاجی دھرنے میں صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔

    مقررین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پیکا ایکٹ سمیت آزادی صحافت کے خلاف ان اقدامات کی منظوری اُن سیاسی جماعتوں نے دی جو پہلے ان کی مخالف تھیں۔

    بعض مقررین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں آزادی صحافت کے حوالے سے صورتحال جنرل مشرف کی ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے۔

    مقررین کے مطابق جہاں آزادی صحافت پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، وہیں صحافیوں کے معاشی قتل کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے اداروں سے کارکنوں کو نکالنے کے علاوہ کوئٹہ میں دس ٹی وی چینلز کے بیوروز بند کر دیے گئے ہیں۔

    مقررین نے کہا کہ نہ صرف پاکستان کے آئین میں آزادی صحافت کو تحفظ حاصل ہے، بلکہ اس حوالے سے جن بین الاقوامی چارٹرز پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں، ان میں بھی اسے تحفظ دیا گیا ہے۔

    مقررین نے کوئٹہ میں دو روز قبل تین سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے گھروں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے چھاپوں کی مذمت کی۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے میں رکاوٹ بننے والے تمام کالے قوانین کا خاتمہ کر کے آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جائے، پیکا ایکٹ میں صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے ترامیم لائی جائیں اور میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیاں بند کی جائیں۔

  2. پاکستان کا مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ’فاز‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ

    Faaz missile

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے پہلے مقامی سطح پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ’فَاز‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس یہ میزائل طویل فاصلے پر فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پاکستان فضائیہ کی عملی اور آپریشنل استعداد میں اضافہ ہو گا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے اسے قومی دفاعی صلاحیتوں اور خود انحصاری کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

  3. ہسپانوی فٹبالر میچ کے دوران گول کیپر سے ٹکرانے کے بعد ہلاک

    Jesus de Miguel

    ہسپانوی فٹبال ٹیم ٹینیرائف کے سٹرائیکر خیسوس دے میگیل ایک میچ کے دوران زخمی ہونے کے بعد وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 30 برس تھی اور وہ سپین کے دوسرے درجے کی ایک لیگ کے میچ کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے۔

    سوموار کے روز کھیلے جانے والے میچ کے دوران ٹینیرائف ایف سی اینڈورا کے خلاف میچ میں گول کیپر خیسوس اووونو کے ساتھ ٹکر کے نتیجے میں ان کے سر اور سینے پر چوٹیں آئی تھیں۔

    گذشتہ روز میگیل کی حالت کو ’مستحکم لیکن تشویشناک‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم منگل کی صبح ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور ہسپانوی کھلاڑی وفات پا گئے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ہسپانوی پولیس نے دے میگیل کی وفات کے بعد ممکنہ غیر ارادی قتلِ خطا کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ہسپانوی قانون کے تحت، ایسی ہر موت جسے غیر طبعی قرار دیا جائے، خودکار طور پر عدالتی تحقیقات کا باعث بنتی ہے۔

  4. لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا بنیادی نکتہ ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران قطری ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اور امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی پیش رفت سے متعلق ایک سوال کا انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبات واضح ہیں۔ جب تک ہمارے مطالبات، جو مکمل طور پر جائز اور معقول ہیں، پورے نہیں کیے جاتے، ہم خطے میں سلامتی کی بحالی کے بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کے عزم کے بغیر کسی مفاہمت تک پہنچا جا سکتا ہے۔‘

    ’اسلام آباد مفاہمت کے پہلے نکتے کے مطابق، جس کی امریکہ نے بدقسمتی سے خلاف ورزی کی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا معاملہ کسی بھی سفارتی عمل کے اہم نکات میں شامل ہو گا۔‘

  5. ایران کے مطالبات پر امریکہ کا جواب ’قابلِ اطمینان‘ نہیں، محسن رضائی

    Mohsin Razae

    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کے مطالبات پر امریکہ کا جواب ’قابلِ اطمینان‘ نہیں تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق محسن رضائی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’ایران کے حقوق اور مطالبات کے بارے میں امریکہ کا جواب قابلِ اطمینان نہیں تھا، اور انھیں ایران کی ساتوں شرائط کا مکمل اور واضح جواب دینا اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے گی۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ چند روز میں ایران اور امریکہ کے درمیان قطری ثالثوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم ان کا نتیجہ تاحال واضح نہیں۔

    گذشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو ایک خط لکھا تھا۔

    تاحال یہ معلوم نہیں کہ آیا محسن رضائی نے اس خط کا جواب دے دیا ہے یا نہیں۔ تاہم عباس عراقچی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ چونکہ یہ خط قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے نام لکھا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب دینے یا نہ دینے کا فیصلہ بھی انہی کے اختیار میں ہے۔

  6. حکومت کا ایل پی جی کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولنے اور کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا اعلان

    ایل پی جی

    پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں لیکوڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولا جائے گا اور ایل پی جی کوٹہ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔

    منگل کے روز وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کے روز وزیرِ اعظم نے توانائی کے معاملے پر ایک میٹنگ کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایل پی جی کی درآمد مسابقت کی بنیاد پر کھولی جائے گی۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی قیمت کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں سے شکایات آ رہی ہیں کہ ایل پی جی 700 سے 800 فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ عدم دستیابی کی بھی شکایات ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کی اس وقت کل مانگ 24 لاکھ ٹن ماہانہ کے قریب ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے چھ، سات ہزار ٹن بنتی ہے۔

    وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق 2000 سے 2500 ٹن ایل پی جی مقامی طور پر پیدا کی جاتی ہے جبکہ مجموعی مانگ کا تقریبا نصف حصہ مغربی سرحد سے آتا ہے جس میں مشکلات آئی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ بقیہ ایل پی جی سمدر کے راستے آتی ہے۔

    علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ حکومت سردیوں میں گیس کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ سردیوں میں کھانے میں تینوں اوقات میں صارفین کو گیس فراہم کی جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے توانائی کے معاملے پر ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی درآمد کو مسابقت کی بنیاد پر کھولا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپیٹیشن کے ذریعے باہر سے سستا سے سستا ایندھن لانے کی کوشش کی جائے گی اور عوام کو اس ہی قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

    وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ اس کے علاوہ حکومت نے ایل پی جی کوٹے کا نظام بھی ختم کر دیا ہے۔

    ’مقامی کمپنیوں کو کہا جائے گا کہ وہ پانچ یا 10 ٹن کی لاٹ بنا کر اس کی نیلامی کریں اور نیلامی کے ان نتائج کو شائع کیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ پی ایس او، سوئی سدرن اور پاکستان ایل پی جی لمیٹد کو ایل پی جی کی ’بلک‘ مقدار میں درآمد کا حکم دیا ہے۔

  7. ٹرمپ کی ایران پر حملے کی تصدیق: ’ایران میں اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم کو نشانہ بنایا گیا‘

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلی فونک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں واقع جزیرے قشم کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران نے طیارہ شکن نظام کی ایک تنصیب بنائی تھی اور جیسے ہی یہ مکمل ہوئی، ہم نے گذشتہ رات اسے کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘ انھوں نے اس کارروائی کو ’محدود حملہ‘ قرار دیا۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے ایک نئے دور سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

    پزشکیان نے حکومتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ تنازع کو ’مذاکرات کے ذریعے‘ حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو ان معاملات پر بات چیت کرنے کے اختیارات دیے ہیں جنھیں وہ پہلے ممنوع قرار دیتے تھے۔ تاہم انھوں نے ان معاملات کی مزید وضاحت نہیں کی۔

  8. سندھ حکومت کا ایم کیو ایم کو 29 نومبر کو شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    حکومتِ سندھ نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو 29 نومبر کو کراچی کی شاہراہِ فیصل پر جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں 29 نومبر کو شہر کی مرکزی شاہراہ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسے کے لیے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی اور اپنی سرگرمیاں پُرامن اور قانونی طریقے سے انجام دینا ہوں گی۔

    انھوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی اور ایم کیو ایم کو 12 مئی جیسے واقعات دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں کرنے کی آزادی ہے، تاہم کوئی بھی فریق حکومت پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول حکومت کسی صورت تصادم اور بدامنی کی فضا پیدا نہیں ہونے دے گی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت صوبوں کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کر چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی اس معاملے پر فیصلہ دے چکی ہے اور اس سے بالاتر کوئی قانون یا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

    شرجیل میمن نے ایم کیو ایم رہنماؤں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عوامی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ کونسلر بھی منتخب ہو سکیں۔ ان کا الزام تھا کہ یہ رہنما براہِ راست عوامی ووٹوں کے بجائے ’بیک ڈور اور چور دروازے‘ سے اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔

    واضح رہے کہ قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی نے چند ہفتے قبل 29 نومبر کو کراچی میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیر کو ایم کیو ایم نے بھی اسی روز جلسے کا اعلان کیا۔

  9. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تین آئل ٹینکروں میں دھماکوں اور آگ لگنے کا دعویٰ

    Tasnim
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت کے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں ان میں دھماکے ہوئے اور آگ لگ گئی۔

    منگل کو جاری کیے گئے بیان میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ یہ واقعات رات گئے شروع ہوئے۔ دھماکے اور ان کے بعد لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں موجود ماہی گیروں نے رات کے وقت آسمان روشن دیکھا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم پر پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق آئل ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور غیر مجاز راستوں سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے بعد ان میں دھماکے ہوئے اور آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحل کے قریب آگ لگ گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی قواعد و ضوابط سے تمام بحری جہازوں کو ریڈیو پیغامات اور سرکاری نوٹس کے ذریعے بارہا آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور غیر مجاز راستوں سے گزرنے کے لیے امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرنے والے جہازوں کو بھی ایسے ہی واقعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی اصل صورتِ حال وہ ہے جو زمینی حقائق سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ وہ تصویر جو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔ بیان میں سینٹ کام کے کمانڈر کو ’دہشت گرد کمانڈر‘ بھی قرار دیا گیا۔

  10. بریکنگ, پاسدارانِ انقلاب کا جنوبی ایران میں دو امریکی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    Tasnim

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے منگل کو جنوبی ایران کے علاقے بندر خمیر کے اوپر دو امریکی ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    صوبہ ہرمزگان میں پاسدارانِ انقلاب کے مقامی یونٹ کے مطابق یہ ڈرونز ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت کام کرنے والے فضائی دفاعی یونٹوں نے تباہ کیے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی ایرانی فضائی حدود اور سمندری علاقے میں امریکی ڈرونز سے متعلق حالیہ واقعات کے بعد کی گئی ہے۔‘

    اس سے قبل پیر کی شب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ان کی ایرو سپیس فورس نے جزیرہ قشم کے جنوب میں الیکٹرانک جنگی نظام استعمال کرتے ہوئے دو امریکی ایم کیو ایم 170 جاسوس ڈرونز کو گرایا۔‘ بیان کے مطابق اس نوعیت کے پکڑے گئے امریکی ڈرونز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ایم کیو نو ڈرون کو تباہ کیا، جس کے بعد ایران کے ہاتھوں گرائے جانے والے اس قسم کے ڈرونز کی تعداد 55 ہو گئی ہے۔

  11. امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری، ایران ہر صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے: نائب وزیر خارجہ

    Tasnim
    ،تصویر کا کیپشنایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ایران جنگی حالت میں ہے اور کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق منگل کو تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’قطر کی ثالثی میں ایران کی جانب سے پیش کردہ سات روزہ منصوبہ زیرِ بحث ہے اور تہران کو اس پر امریکہ کا جواب بھی موصول ہوا ہے۔‘ ان کے مطابق اگر ایران کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو دونوں ملک سفارتی مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں۔

    غریب آبادی نے کہا کہ ’ایران نے نہ تو جنگ شروع کی اور نہ ہی اس کا خواہاں تھا، بلکہ یہ جنگ اس پر مسلط کی گئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے ایران کی واضح کردہ شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔‘

    جزیرہ قشم پر پیر کی شب پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت تاحال جاری ہے، اس لیے ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ حق اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک فوجی کارروائیاں مکمل اور مستقل طور پر بند نہیں ہو جاتیں۔‘

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غریب آبادی نے کہا کہ ’امریکہ پر عدم اعتماد کے باوجود ایران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اگر واشنگٹن نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا تو تہران اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا۔‘

    امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اپنی خارجہ پالیسی کو دوسرے ملکوں کے انتخابات سے نہیں جوڑتا اور نہ ہی ان کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔‘

  12. ہمیں اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا: قطر

    Getty Images

    قطر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسے اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے اور دونوں ملک مذاکراتی عمل کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں فریق مذاکرات کے عمل سے وابستہ ہیں اور قطر ان کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں مسلسل اور براہِ راست سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں فریق اس وقت قطر کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبوں اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

    قطری ثالثوں کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات گذشتہ ہفتے سے جاری ہیں۔ قطری نمائندے گذشتہ شب بھی تہران میں موجود تھے۔ اس سے قبل تہران اور دوحہ میں بھی مذاکرات کے ادوار ہو چکے ہیں۔

    پاکستان اور قطر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب ثالثی کی کوششیں جاری رہنے کے دوران ایرانی ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ایسے علاقوں میں سفر کرنے والے تین بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے جن کے بارے میں تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ایران اور امریکہ دونوں ہی آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

  13. اسرائیل کی ایران کے جزیرے قشم پر امریکی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید

    AFP via Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایران کے جزیرے قشم کی فائل فوٹو

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کے جزیرے قشم پر گذشتہ شب ہونے والے امریکی حملوں میں اسرائیل کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’اسرائیل نے قشم جزیرے پر امریکہ کے حملوں میں حصہ نہیں لیا۔‘

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو حال ہی میں تہران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    US Army
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    گذشتہ شب قشم جزیرے پر کیا ہوا؟

    امریکہ کے نشریاتی ادارے سی بی ایس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے جزیرے قشم پر حملے کیے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پیر کو جزیرے پر کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    امریکی حکام نے ان حملوں کو محدود نوعیت کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ایک امریکی طیارے پر فائرنگ کے جواب میں کیے گئے۔

    تاہم امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ بی بی سی نے بھی اس بارے میں سینٹکام سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد امریکی اثاثوں کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محدود کارروائی تھی، ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق قشم کے قریب بندر لنگہ شہر میں بھی سمندر کی سمت سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

  14. حوثیوں کے حملوں اور خطے میں کشیدگی کے سبب سعودی عرب میں ایشین فٹبال کپ مؤخر

    سعودی عرب میں ہونے والے 2027 کے ایشین کپ فٹبال کو میزبان ملک پر ہونے والے متعدد ہلاکت خیز حملوں کے بعد ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    24 ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ پہلے سات جنوری سے پانچ فروری 2027 تک کھیلا جانا تھا، تاہم اب اس کا انعقاد 23 دسمبر 2027 سے 21 جنوری 2028 تک ہوگا۔

    اکتوبر میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے ریاض کے ہوائی اڈے پر کیے گئے میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ٹورنامنٹ کی تاریخیں تبدیل کرنے کا فیصلہ خطے کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات، لاجسٹک مشکلات اور سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔‘

    اے ایف سی کے مطابق ٹورنامنٹ کی نئی تاریخوں کی منظوری کے لیے انھیں فیفا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں کئی دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی منسوخ یا ملتوی کیے گئے ہیں۔ ان میں ریاض میں ہونے والا نمائشی ٹینس ایونٹ ’سکس کنگز سلام‘ بھی شامل ہے۔

    اسی طرح ایشین ٹور نے سیزن کے اختتامی گالف ٹورنامنٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے، جو 18 سے 21 نومبر تک ہونا تھا۔

    یہ مسلسل دوسرا ایشین کپ ہے جسے ملتوی کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2023 کا ٹورنامنٹ کووڈ وبا کے باعث چین سے قطر منتقل کر کے 2024 میں منعقد کیا گیا تھا۔

  15. آرامکو کے منافع میں نو فیصد اضافہ، آبنائے ہرمز کے متبادل راستے سے تیل کی ترسیل بڑھانے پر غور

    Reuters

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے منافع میں رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کو اس اضافے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جنگ کے باعث ہونے والے اضافے سے فائدہ پہنچا، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود اس راستے سے تیل کی برآمدات بھی مضبوط رہیں۔

    بلومبرگ کے مطابق آرامکو کی ایڈجسٹڈ خالص آمدن یعنی ٹیکس اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد خالص منافع 28.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 31.2 ارب ڈالر ہوگیا ہے، جو سالانہ بنیاد پر نو فیصد اضافہ ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق کمپنی کا مجموعی خالص منافع 34.5 فیصد بڑھ کر 36.25 ارب ڈالر رہا۔ اس اضافے میں تیل کی بلند قیمتوں اور ریفائننگ کے شعبے میں بہتر آمدن کے علاوہ ملائیشیا کے ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل منصوبے میں اپنا حصہ فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی رقم نے بھی کردار ادا کیا۔

    آرامکو کے مطابق سنہ 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج علاقائی صورتحال کے باوجود کمپنی کی مضبوط کارکردگی کا اظہار کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی آپریشنل مہارت، تیزی سے بحالی کی صلاحیت، کاروباری لچک اور ملازمین کی محنت نے ان نتائج کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

    BBC

    تاہم بی بی سی فارسی پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق آرامکو کے چیف ایگزیکٹیو امین ناصر نے کہا ہے کہ ’کمپنی آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی برآمدات بڑھانے اور بیرونِ ملک تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

    ان اقدامات میں سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل کی پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے کا امکان بھی شامل ہے۔ یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب سے خام تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔

    آرامکو کے مطابق اس پائپ لائن کی موجودہ گنجائش روزانہ 70 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران یہ پائپ لائن بھی متعدد مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں آرامکو کی آپریٹنگ سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی نقد رقم 38.7 ارب ڈالر رہی، جبکہ آزاد نقد بہاؤ 28.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ کمپنی نے اس سہ ماہی کے لیے 21.9 ارب ڈالر کے بنیادی منافع کی ادائیگی کا بھی اعلان کیا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد اسی سمندری راستے سے گزرتی تھی، جس کے باعث سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے لیے متبادل برآمدی راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

  16. بریکنگ, اتحادی افواج کا مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Getty Images

    اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے علاقے مکہ مکرمہ میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔

    اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں ڈرون کو روکنے اور تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انھوں نے ڈرون کی سمت، اسے بھیجنے والے یا اس کے ممکنہ ہدف کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے 30 اکتوبر کو بھی دعویٰ کیا تھا کہ مکہ مکرمہ کے علاقے میں تباہ کیا گیا ڈرون حوثی جنگجوؤں نے بھیجا تھا۔

    پریس ایجنسی کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فورسز نے اس روز سعودی سرزمین پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

    یمن میں سنہ 2015 سے جاری تنازع کے دوران سعودی عرب اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سعودی عرب اس سے قبل بھی اپنے مختلف علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کر چکا ہے۔

  17. سلامتی کونسل کی طالبان انٹیلیجنس چیف کو علاج کے لیے متحدہ عرب امارات جانے کی اجازت, بی بی سی مانیٹرنگ

    GDI
    ،تصویر کا کیپشنطالبان کے محکمۂ انٹیلیجنس کے سربراہ ملا عبدالحق واثق

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان کے محکمۂ انٹیلیجنس کے سربراہ ملا عبدالحق واثق کو طبی علاج کے لیے متحدہ عرب امارات جانے کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔

    متعدد میڈیا اداروں کے مطابق سلامتی کونسل کی سنہ 1988 پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے 19 اکتوبر 2026 کو ملا عبدالحق واثق کے سفری پابندی سے استثنا کی منظوری دی تھی۔ اس اجازت کے تحت وہ 20 اکتوبر سے تین نومبر تک متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کا دورہ کر سکتے ہیں۔

    سلامتی کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق یہ اجازت طبی وجوہات کی بنا پر دی گئی ہے۔

    ملا عبدالحق واثق سمیت طالبان کے کئی عہدیدار اقوام متحدہ کی 1988 پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان پابندیوں میں سفری پابندی، اثاثے منجمد کرنا اور اسلحے کی فراہمی پر پابندیاں شامل ہیں۔

    دوسری جانب برطانیہ میں قائم خبر رساں ادارے ’افغانستان انٹرنیشنل‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ملا عبدالحق واثق نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد ترکی کا بھی سفر کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغان امور کے ایک مبصر نے کہا کہ ترکی کا یہ دورہ طالبان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کے لیے ترکی اور خطے کے بعض دیگر ممالک کی کوششوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔

    عبدالحق واثق کون ہیں؟

    عبدالحق واثق سنہ 2014 میں گوانتاناموبے سے رہائی کے بعد اور افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی سے قبل آٹھ سال تک دوحہ میں مقیم رہے۔ انھوں نے دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔

    عبدالحق واثق ستمبر 2021 سے طالبان کے انٹیلیجنس چیف ہیں اور 1990 کی دہائی میں طالبان کے پہلے دور حکومت میں ڈپٹی انٹیلیجنس چیف کے طور پر بھی کام کر چُکے ہیں۔

  18. بی بی سی نیوز اُردو اب موبائل ایپ پر بھی دستیاب، ابھی ڈاؤن لوڈ کیجیے

    ْBBC World Service

    بی بی سی اُردونے اپنی نئی ایپ لانچ کر دی ہے، جس کے ذریعے اب صارفین اپنی دلچسپی کی تمام علاقائی و عالمی خبریں، تجزیے اور معلومات براہ راست اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ پر حاصل کر سکیں گے۔

    بی بی سی اُردو کا تمام مواد بی بی سی ورلڈ سروس کی نئی ایپ پر دستیاب ہو گا جسے آپ اپنے موبائل فون یا ٹیبلٹ کی مناسبت سے ایپ سٹور یا گوگل پلے سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

    نئی ایپ کیسے ڈاؤن لوڈ کی جائے؟

    BBC World Service ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد آپ کو اپنی پسند کا ایڈیشن یعنی ’BBC News اردو‘ کا انتخاب کرنا ہو گا جہاں آپ کو پاکستان اور دنیا کے مختلف خطوں میں موجود بی بی سی کے صحافیوں کی رپورٹس دستیاب ہوں گی۔

    نوٹ: یہ ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں اور اس کا انگریزی زبان کا کوئی ایڈیشن بھی نہیں ہے۔

  19. آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی پائپ لائن کی استعداد بڑھانے کا جائزہ لے رہے ہیں: آرامکو چیف

    aramco pipeline

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے کہا ہے کہ کمپنی آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی خام تیل کی پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔

    ناصر کے مطابق آرامکو تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں اور بیرونِ ملک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہے۔

    ان اقدامات میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے کا امکان بھی شامل ہے، جو سعودی خام تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع برآمدی ٹرمینلز تک پہنچاتی ہے۔

    یہ پائپ لائن، جس پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران متعدد بار حملے بھی ہوئے، یومیہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    امین ناصر نے کہا کہ آرامکو نے موجودہ حالات میں بھی اپنی مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمپنی نے رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں خالص منافع میں ایک تہائی سے زیادہ اضافے کی اطلاع دی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دنیا اب بھی توانائی کی رسد کے حوالے سے تاریخ کے سب سے بڑے جھٹکوں میں سے ایک کا سامنا کر رہی ہے۔

    اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر بیک وقت حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی ترسیل، سرمایہ کاری کی ترجیحات اور خلیجی خطے کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔

    جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی۔

  20. حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب میں ہونے والا ایشین کپ مؤخر

    Getty Image

    ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے اعلان کیا ہے کہ 2027 کے آغاز میں سعودی عرب میں ہونے والا ایشین کپ حالیہ حملوں کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب یہ ٹورنامنٹ اگلے سال دسمبر میں منعقد کیا جائے گا۔

    منتظمین کے مطابق خطے کی موجودہ غیر معمولی صورتحال، لاجسٹک مسائل اور سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر ٹورنامنٹ کے شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔

    سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ ہفتوں میں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    یمن کے حوثی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔