آزادی صحافت کے خلاف اقدامات پر کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا: ’موجودہ حکومت کے دور میں صورتحال جنرل مشرف کی ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے‘

پاکستان میں آزادی صحافت کے خلاف اقدامات پر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کے روز احتجاجی دھرنا دیا گیا۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام ہونے والے اس مظاہرے کو مقررین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے بعد پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی آزادی صحافت کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاجی دھرنے میں صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔
مقررین نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پیکا ایکٹ سمیت آزادی صحافت کے خلاف ان اقدامات کی منظوری اُن سیاسی جماعتوں نے دی جو پہلے ان کی مخالف تھیں۔
بعض مقررین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں آزادی صحافت کے حوالے سے صورتحال جنرل مشرف کی ایمرجنسی سے بھی بدتر ہے۔
مقررین کے مطابق جہاں آزادی صحافت پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، وہیں صحافیوں کے معاشی قتل کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے اداروں سے کارکنوں کو نکالنے کے علاوہ کوئٹہ میں دس ٹی وی چینلز کے بیوروز بند کر دیے گئے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ نہ صرف پاکستان کے آئین میں آزادی صحافت کو تحفظ حاصل ہے، بلکہ اس حوالے سے جن بین الاقوامی چارٹرز پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں، ان میں بھی اسے تحفظ دیا گیا ہے۔
مقررین نے کوئٹہ میں دو روز قبل تین سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے گھروں پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے چھاپوں کی مذمت کی۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے میں رکاوٹ بننے والے تمام کالے قوانین کا خاتمہ کر کے آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جائے، پیکا ایکٹ میں صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے ترامیم لائی جائیں اور میڈیا اداروں کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیاں بند کی جائیں۔



















