لائیو, امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اب فریقین کے ساتھ قریبی تعاون میں اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امن اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اس وقت ہے۔‘
خلاصہ
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق
جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ
امریکی صدر کا ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان، معاہدے پر پہنچنے کا عندیہ
ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ
خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے ناقابلِ قبول ہیں: یورپی یونین عہدیدار
امریکی اتحادیوں کا نقصان 'ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز' سے پورا کیا جائے گا: سیکریٹری خزانہ
غلط حکمتِ عملی اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے: قالیباف کی امریکہ کو تنبیہ
لائیو کوریج
متحدہ عرب امارات کی ایران کو رقوم کی منتقلی کی خبروں کی تردید
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے بعض بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی اُن خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ایران کو مالی وسائل کی منتقلی یا فراہمی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ایران کو رقوم کی منتقلی سے متعلق دعوے بشمول تین ارب ڈالر کی منتقلی کی رپورٹس ’غلط‘ ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو ایران کے منجمد اثاچے واپس کیے گئے ہیں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کو اربوں ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے اور ان رقوم کا کچھ حصہ تہران کو فراہم بھی کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘
امریکہ کے ساتھ معاہدہ اگلے ایک سے دو روز میں ہو سکتا ہے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بارے میں ایک معاہدہ ہونے کے قریب ہے اور اس کے تحت آبنائے ہرمز بھی کھولی جائے گی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق عباس عراقچی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ہم پہلے کبھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں تھے اور یہ اگلے ایک یا دو دن میں ہو سکتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر ملک کے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایسی قیاس آرائیوں سے گریز کریں جو ’ماحول خراب کر سکتی ہیں اور اس موقع کو متاثر کر سکتی ہیں۔‘
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’یہ مفاہمتی یادداشت ڈیڑھ یا دو صفحات پر مشتمل ہے لیکن اس پر دو ماہ سے زائد عرصے تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس کی ہر شق اور ہر جملے کا کئی بار جائزہ لیا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس متعلق قومی سلامتی کونسل اور سکیورٹی اداروں کو بروقت رپورٹس پیش کی گئی ہیں، جبکہ افواج نے بھی اہم معاملات بشمول آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے پر نظر رکھی ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایرانی عوام کے مفادات میں ہے۔
عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی خودمختاری ہے، اور اب تک یہ خدمات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ ’لیکن ایران کا حتمی فیصلہ ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقۂ کار ماضی سے مختلف ہوگا۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لانگ مارچ کے شرکا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ میں شریک افراد کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی تجویز دی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹریٹ کو لکھے گئے ایک خط میں محکمۂ داخلہ نے راولاکوٹ سے مظفر آباد لانگ مارچ میں شریک ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کی منظوری طلب کی ہے۔
اس میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل میپنگ اور جیو فینسنگ کے ذریعے لانگ مارچ کے شرکا کی فہرست تیار کی جائے اور انھیں کالعدم تنظیم کے فریم ورک میں شامل کرنے کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔
اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا کو کریکٹر سرٹیفکیٹس دینے پر پابندی عائد کی جائے، ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے جائیں اور پاسپورٹس بلاک کر دیے جائیں۔
دیگر تجاویز میں موبائل اکاؤنٹس کی معطلی اور ممکنہ غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی شامل ہیں۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ چیف سیکریٹریٹ کی منظوری کے بعد کارروائی شروع کی جائے گی۔
بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا، اب اگلے مرحلے پر کام ہو رہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف کی تصدیق
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا متفقہ اور حتمی متن طے پا چکا ہے اور اب عملدرآمد کے اگلے مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کے دوران ’مسلسل غلط معلومات کی مہم‘ بھی سامنے آ رہی ہے، جو بقول ان کے امن عمل کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان تمام خبروں سے قطع نظر، ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امن معاہدے کا حتمی اور باہمی طور پر متفقہ متن طے پا چکا ہے۔‘
وزیرِاعظم کے مطابق پاکستان اب فریقین کے ساتھ قریبی تعاون میں اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امن اتنا قریب پہلے کبھی نہیں تھا جتنا کہ اس وقت ہے۔‘
شہباز شریف کے بیان میں اس امن عمل سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کو معاہدے پر دستخط یا اجلاس میں شرکت کے عوض رقم یا فنڈز نہیں دیے جا رہے: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی میڈیا پر آنے والی ممکنہ معاہدے کے متن کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے پر دستخط کرنے یا کسی اجلاس میں شرکت کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں جے ڈی وینس نے لکھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق کسی ممکنہ معاہدے پر بہت سی غلط معلومات سامنے آ رہی ہیں۔
ان کے بقول یہ معاہدہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خدشات کو ترجیح دی جائے اور اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اقتصادی فوائد ایران اور پورے خطے کو حاصل ہوں گے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے کو ازسرِنو تشکیل دینے اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بن سکتا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران آنے والی خبروں میں کچھ عجیب باتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ ایک طرف وہ افراد، جو ایک ماہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی صدر قرار دے رہے تھے، اب غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر اس معاہدے پر تنقید کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’دوسری جانب وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ پاسدارانِ انقلاب کی کسی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، بظاہر غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین کر رہے ہیں۔ تاہم صدر ہر صورت میں ایک مثبت نتیجہ حاصل کریں گے۔‘
’اسلام آباد معاہدہ مفاہمت یادداشت حتمی مرحلے کے قریب نہیں، میڈیا قیاس آرائی نہ کرے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (MoU) حتمی مرحلے کے قریب نہیں، جب تک یہ فائنل نہیں ہوتا میڈیا کو اس کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ہماری ذمہ دارانہ اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔‘
ایرانی میڈیا میں معاہدے کے متن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر دی جانے والی تفصیلات کا تحریری طور پر طے شدہ شرائط سے کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کا معاہدے سے متعلق ایک کمزور اور بے بنیاد بیان پر مبنی دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یاد رہے کہ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان نئی مفاہمتی یادداشت کے ’عمومی خدوخال‘ بیان کیے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ارنا نےممکنہ معاہدے کے متن سے متعلق دعویٰ کیا ہے ’ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مقرر کردہ ’تمام ریڈ لائنز‘ کو متن میں شامل کیا گیا ہے اور یہ سب سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی مسلسل نگرانی کے دائرے میں کیا گیا ہے۔‘
ارنا کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر اختتام پذیر ہوگی۔
خبر رساں ادارے ن یہ دعویٰ بھی کیا کہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام کا ’غیر فعال‘ ہونے کا ذکر ہے لیکن ایران کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ ارنا کے مطابق جوہری مذاکرات مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 60 دن کے اندر کیے جائیں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے میں ان دعووں کےسامنے انے کے بعد امریکی صدر نے اپنے بیان میں ان خبروں کو فیک نیوزقرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہرمز سے نکلنے والے انڈین جہازوں پر گزشتہ رات ہونے والا ڈرون حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘
انھوں نے متنبہ کیا کہ ’ایران کو فوری طور پر اپنے رویے کو درست کرنا ہو گا۔‘
ممکنہ معاہدے کے متن کو ابھی تک ایرانی حکام نے منظور نہیں کیا: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاسداران انقلاب سے منسلک تسنیم اور فارس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے متن کو ’ایران کے مجاز حکام سے ابھی تک حتمی منظوری نہیں ملی ہے۔‘
خبر رساں ادارے تسنیم نے ’ باخبر ذرائع‘ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حالیہ دنوں میں دباؤ، دھمکیاں اور فوجی کارروائی شروع کر کے اور قطری ثالث کے دباؤ کے ذریعے دونوں طرف سے ایران کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن بالآخر ایران نے نئی تبدیلیوں کو قبول نہیں کیا۔‘
خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’تاہم، اس متن کا ایران میں متعلقہ اداروں کو جائزہ لینے اور اسے حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے اور اس وقت تک دیگر قیاس آرائیاں اور خبریں درست نہیں ہیں۔‘
فارس نیوز ایجنسی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’امریکہ کچھ مطالبات پر پیچھے ہٹا ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ معاہدے پر دستخط یا آمنے سامنے ملاقات کے بارے میں کوئی بھی قیاس آرائیاں غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں۔‘
گذشتہ رات ایران کے ساتھ معاہدے کے امکان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بیانات کے بعد، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’معاہدے کے وقت اور جگہ کے بارے میں دعوے محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور جب تک حکومت کے متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر جزو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے، اس کے دستخط کی شکل اور مقام کے بارے میں کوئی نقطہ نظر نہیں ہے۔‘
تاہم چند گھنٹے قبل امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور ’ہم نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی ہے۔‘
انھوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ طور پر معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے چند دنوں میں کسی یورپی شہر میں ہوں گے۔
لکی مروت میں مسجد کے قریب دھماکے میں بچی سمیت دو افراد ہلاک، 10 زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہRescue1122
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے قریب دھماکے میں ایک بچی سمیت دو افراد کی جان چلی گئی ہے جبکہ اس دھماکے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ تھانہ غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں آج جمع نماز کے وقت پیش آیا ہے۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ کہ ایک مشتبہ موسٹر سائکل سوار راستے سے گزر رہا تھا جس پر وہاں تعینات امن کمیٹی کے لوگوں کو شک ہوا۔
ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے بارود موٹر سائکل پر نصب کیا تھا۔
ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ’دور ہو جاؤ یہ پھٹ سکتا ہے۔‘
غزنی خیل تھانے کی پولیس ایس ایچ او محمد عرفان نے بتایا ہے کہ علاقے میں امن کمیٹی کے لوگ اور مقامی لوگ بھی جمعہ نماز یا دیگر ایسے مواقع پر چوکیداری کرتے ہیں۔
عینی شاہد نے کیا دیکھا
ایک مقامی شخص ساجد نے بتایا ہے کہ مسجد میں جمعہ نماز ادا کی جا رہی تھی اور جیسے ہی امام مسجد نے سلام پھیرا اس وقت تک حملہ آور بارود سے بھری موٹر سائکل لے کر مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا اور کوشش تھی کہ موٹر سائیکل مسجد کے اندر لے جائے۔
اس دوران وہاں چوکیداری پر معمور ایک شخص نے موٹر سائکل سوار پر فائر کیا اور اس دوران دھماکہ ہوا ۔
حملہ آور فائرنگ سے ہلاک
مسجد کے دروازے پر تین سالہ عاصمہ گل بیٹھی تھی۔ وہ اپنے والد کے ساتھ آئی تھی ان کے والد جمعہ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ والد کے انتظار میں بیٹی تھی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اد دھماکے میں عاصمہ گل اور ایک ایک نوجوان اسد علی کی جان چلی گئی ہے۔
اسد علی کی عمر 21 سال تک بتائی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پونے تین بجے اطلاع موصول ہوئی کہ مسجد بیخانخیل، میں ایک موٹر سائیکل میں بارودی مواد نصب کرکے دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کو علاقے کے لوگوں نے فائرنگ کرکے موقع پر ہلاک کر دیا ہے۔
گزشتہ روز لکی مروت کے علاقے پہاڑ ِخیل پکہ میں دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا۔
اس واقعہ کے بعد جمعیت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے لکی مورت میں احتجاج کیا ہے اور لکی مروت سے دیگر علاقوں کا جانے والے راستے احتجاج کے طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں۔
مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی کارروائیوں پر فلسطینیوں کا غصہ: ’انھوں نے مستقبل تباہ کر دیا‘, یولیندا نیل، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
یروشلم کے قدیم فصیل بند شہر البستان کے نیچے ایک پہاڑی سے بڑا اسرائیلی ایکسکیویٹر ایک فلسطینی گھر کو گراتا دکھائی دیتا ہے جس کا شور گونج رہا ہے۔
یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے اور اسرائیل-فلسطین تنازعے کا مرکز بھی۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا اور بعد میں اسے ضم کر لیا، جسے زیادہ تر ممالک تسلیم نہیں کرتے۔
2023 کے آخر سے سلوان کے علاقے البستان میں اب تک 59 جائیدادیں مسمار کی جا چکی ہیں۔ غزہ، ایران اور لبنان کی جنگوں کی وجہ سے عالمی توجہ ہٹنے کے دوران مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وہاں کے رہائشی 58 سالہ فایز عواد کہتے ہیں کہ ’اب کوئی مستقبل نہیں رہا۔ انھوں نے مستقبل اور سب کچھ تباہ کر دیا۔ ہم نے ساری زندگی یہ گھر بنانے میں لگا دی، اور اب ہمیں پھر صفر پر لے آئے ہیں۔‘
گزشتہ دو دہائیوں سے یروشلم البستان کو بائبل سے منسوب پارک میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں عدالتوں کے احکامات کے تحت انہدامی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری اور جبری نقل مکانی غیر قانونی ہے۔ مقامی بلدیہ کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام شہریوں کے مفاد‘ میں کام کر رہی ہے اور کھلی جگہوں کی کمی کے باعث پارک بنانا چاہتی ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انھیں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں یروشلم میں منظور ہونے والی نئی رہائش کا صرف 7 فیصد فلسطینیوں کے لیے تھا، حالانکہ وہ آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔
اب تک البستان کے نصف مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ بہت سے رہائشی بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے خود ہی اپنے گھروں کو گرانے پر مجبور ہیں۔
مقامی کارکن فخری ابو دیاب کہتے ہیں کہ ’ہمیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ باقی گھروں کو بھی جلد گرا دیا جائے گا۔‘
مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل نے تقریباً 160 بستیاں قائم کی ہیں جہاں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں، جبکہ موجودہ اسرائیلی حکومت اس خیال کی مخالفت کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 200 فلسطینی خاندان بے دخلی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی قوانین کے تحت 1948 سے پہلے یہودیوں کی ملکیت والی جائیدادوں کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، مگر فلسطینیوں کو اس طرح کا حق حاصل نہیں۔
سلوان، مسجد اقصیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے اسرائیلی حکام اور آبادکار گروہوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ایک اور کیس میں باشا خاندان کو بھی بے دخلی کا سامنا ہے۔ 76 سالہ مفید باشا کہتے ہیں کہ ’ہم کہاں جائیں؟ ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں۔‘
عدالت نے عارضی طور پر ان کی بے دخلی روک دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی زمین رجسٹریشن پالیسی کو بھی زمین کے حصول اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہر اویو تاتارسکی کہتے ہیں کہ ’آج یروشلم میں فلسطینی خود کو اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اسرائیلی حکومت شہر میں ایسی حقیقت کو مضبوطی سے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں فلسطینی حقوق اور موجودگی کے لیے بہت کم گنجائش ہو۔
ایران پر حملے کی دھمکی سے معاہدوں کی بات چیت تک، واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو روز میں کیا کچھ ہوتا رہا
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے اور ایران پر مزید حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تیسرے دن یہ اعلان کر کے صورتِ حال بدل دی کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کو ’قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی حتمی نہیں ہوا اور امریکہ نے نئے مطالبات پیش کیے ہیں۔
تاہم اس صورتحال تک پہنچنے سے قبل ان دونوں میں ایک دوسرے پر حملے اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایران پر ’سخت حملے‘ کی دھمکی سے ’معاہدے کے قریب تک‘
حالیہ اعلان سے پہلے دو راتوں کے دوران امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیجی ریاستوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران پر کارروائی کو اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردِعمل میں ’متناسب جواب‘ قرار دیا۔
جمعرات کو امریکی صدر نے حملے جاری رکھنے اور ایرانی تیل و گیس تنصیبات پر قبضے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بمباری کرے گا، بہت سخت"، اور کہا کہ ایران اپنی زیادہ تر دفاعی صلاحیت کھو چکا ہے۔‘
اس کے ردِعمل میں ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اور ایرانی میڈیا کے مطابق خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔‘
گزشتہ دو راتوں میں امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
تاپم پھر صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ وہ حملے نہیں کریں گے اور ایک ’بہترین معاہدہ‘ قریب ہے، جس پر ممکنہ طور پر یورپ میں دستخط ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ معاہدے کے اہم حصے تقریباً تیار ہیں لیکن وہ اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکہ نے اس سے قبل ایران کے ساتھ کب ’معاہدے ہونے کے قریب‘ کا بیان دیا
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کئی بار معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں تاہم اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ معاہدہ ’جلد‘ ہو جائے گا۔ جس کے بعد 6 مئی کو کہا کہ جنگ ’جلد ختم‘ ہو جائے گی اور 14 نکاتی یادداشت قریب ہے۔
23 مئی کو بتایا کہ معاہدے پر ’وسیع بات چیت‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چند روز بعد کہا کہ وہ شرائط سے خوش نہیں۔
28 مئی کو جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے یہاں تک کہ 29 مئی کو ٹرمپ نے ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے اجلاس کیا۔
اور اب پطر ان کا دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاہدے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہوں۔
ان پیش رفتوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران پابندیوں کے خاتمے، اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور علاقے سے امریکی افواج کے انخلا کی ضمانت چاہتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
کشیدگی میں کمی کے مطالبات
دوسری جانب اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی پر عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔
پاکستان، روس، چین، ترکی، انڈیا اور سعودی عرب نے بھی کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اب تک کی اہم خبروں پر ایک نظر
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔
خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل ایک نظر اب تک کی اہم خبروں پر،
مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی سپیڈ ڈیزل فروخت نہ کریں۔
ٹرمپ انتظامیہ ایرانیوں کو ملک بدر کر کے سینٹرل افریقہ ریپبلک بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے: روئٹرز
،تصویر کا ذریعہReuters
ٹرمپ انتظامیہ ایرانیوں
اور دیگر تارکینِ وطن کی ایک تعداد کو ملک بدر کر کے سینٹرل افریقہ ریپبلک بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر
رساں ادارے کو اس معاملے سے باخبر دو وکلا اور ایک عہدیدار نے بتایا ہے۔
وکلا کے مطابق جن ایرانیوں
کو امریکہ ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ان میں دو ایسی خواتین بھی شامل ہیں
جنھیں اگر ایران واپس بھیجا گیا تو انھیں ممکنہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے۔
ان خواتین کی وکیل
ایملی ٹراسٹل کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہے جبکہ
دوسری جمہوریت نواز سرگرم کارکن ہے۔
سینٹرل افریقہ ریپبلک ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، تشدد اور
غربت کا شکار ہے۔ سینٹرل افریقہ ریپبلک نے حال ہی میں امریکہ سے ڈی پورٹ کیے
جانے والے افراد کو قبول کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
امریکی محکمۂ
خارجہ اور سینٹرل افریقہ ریپبلک نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی
درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ٹراسٹل کے مطابق
دونوں خواتین کو نومبر 2024 میں امریکہ پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ انھوں
نے امریکہ میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔
اس معاملے سے آگاہ
ایک عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت وسطی افریقی جمہوریہ جانے
والی پہلی پرواز میں تقریباً 20 افراد سوار ہوں گے، جن میں شامی اور افغان شہری
بھی شامل ہوں گے۔ دونوں وکلا کا کہنا ہے کہ یہ پرواز جمعرات کے روز روانہ ہو سکتی
ہے۔
پاکستان آرمی کی ٹیم کی برطانیہ میں ہونے والے بین الاقوامی پیس سٹکنگ مقابلے میں پہلی پوزیشن
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے پاکستان آرمی
کی ایک ٹیم نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ
بین الاقوامی ’پیس سٹکنگ‘ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے پاکستانی
آرمی ٹیم کی نمائندگی پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) نے کی تھی۔ اس ٹیم نے
مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام نمایاں اعزازات اپنے نام
کیے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستانی ٹیم نے مجموعی ٹیم ٹرافی میں پہلی پوزیشن حاصل کی
جبکہ ’بیسٹ پیس سٹکر‘ اور ’بیسٹ ڈرِل
ڈرائیور‘ کے ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔
اس مقاملے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیم نو ارکان پر
مشتمل تھی، جس کی قیادت میجر حیدر گلزار کر رہے تھے۔ ٹیم پانچ جون کو سالانہ
بنیادوں پر منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچی
تھی۔
اس مقابلے میں دنیا بھر کی افواج کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔
بین الاقوامی پیس سٹکنگ مقابلہ ایک سالانہ فوجی تقریب ہے جو برطانیہ کے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس مقابلے میں دنیا بھر کی افواج کے ڈرل انسٹرکٹرز اور کیڈٹس حصہ لیتے ہیں، جہاں اُن کی فوجی نظم و ضبط اور ڈرل کی درستگی کو پرکھا جاتا ہے۔
لکی مروت میں جمیعت علمائے اسلام کے دو کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج، انڈس ہائی وے بند, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہJUI-F
پاکستان کے صوبہ خیبر
پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی
ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی
شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
گذشتہ روز سابق ویلج
کونسل ناظم اور جمیعت علمائے اسلام کے مقامی
رہنما گل زرین ٹھیکیدار اور مطیع اللہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس قتل
کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے
احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
آج صبح انڈس ہائی وے
پر تاجہ زئی کے مقام پر مظاہرین نے مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد لاشوں کو
سڑک پر رکھ کر انڈس ہائی کو ہر قسم کی ٹریفک
کیلئے بند کردیا۔
اس بارے میں ضلعی پولیس
افسر نذیر خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین
کر رہی ہے اور اس بارے میں تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔
اس کے علاوہ اس واقعے
کے متعلق بات کرنے کے لیے لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے رہنما خالد خان سے بھی رابطہ
کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
لکی مروت پولیس امن
کمیٹی کے ایک دوسرے رہنما یونس خان کا کہنا تھا کہ صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہJUI-F
مظاہرے میں جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود اور جماعت دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسجد محمود کا کہنا تھا کہ ہمارے جن دو بندوں کو ہلاک کیا گیا، ان کے قاتل معلوم ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
ریجنل پولیس افسر بنوں رب نواز خان سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس مظاہرین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کی مقامی قیادت نے اب سے کچھ دیر قبل پورے ضلع کی سڑکوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی قیادت کے مطابق خیبر پخونخوا کو پنجاب کے ضلع میانوالی سے ملانی والی شاہراہ کو درہ تنگ، بنوں جانے والی شاہرہ کو نورنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی شاہراہ کو غزنی خیل کے مقام پر بند کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے خاص طور پر صوبے جنوبی اضلاع سے پرتشدد واقعات تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پولیس پر حملے اور سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں۔ لکی مروت اور بنوں میں پولیس امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ مقامی شہری بھی شامل ہیں۔
بنوں اور لکی مروت کا شمار حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہوتا ہے جہاں شدت پسندوں کے حملوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مئی 2026 میں بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی تھی۔ دھماکے اور بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ چوکی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
لکی مروت میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ مختلف حملوں میں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائیوں اور آپریشنز میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں۔
پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واقعات میں پانچ افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ پنجاب
میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واعات میں پانچ افراد ہلاک
اور 23 زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو پنجاب کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نارووال میں آسمانی بجلی گرنے کے دو مختلف واقعات
میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ گوجرانوالہ میں درخت گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
بیان کے مطابق لاہور
میں ایک شخص کرنٹ لگنے جبکہ کینال روڈ پر درخت گرنے سے ایک موٹر سائیکل سوار ہلاک
ہوا ہے۔
اس کے علاوہ لاہور،
گوجرانوالہ، نارووال، قصور اور شیخوپورہ میں مختلف واقعات میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان ریسکیو فاروق
احمد کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ہیلپ لائین 1122 پر
ابلاع دیں۔
انڈیا میں پیٹرول پمپس پر کسی بھی صارف کو 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت کرنے پر پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی اسپیڈ ڈیزل فروخت نہ کریں۔
نئے حکم نامے کے مطابق صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کو پیٹرول پمپس سے پیٹرول اور ڈیزل خریدنے سے روک دیا گیا ہے اور انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا ایندھن بلک یا بڑی تعداد میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت کے مراکز سے خریدیں۔
بی بی سی ہندی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق اگلے 90 روز تک ہو گا۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق ’یہ اقدام بعض علاقوں میں ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جہاں بلک صارفین قیمت کے فرق کی وجہ سے پیٹرول پمپوں سے ایندھن خریدنے لگے تھے۔‘
ڈیزل بلک میں زیادہ قیمت پر اُن ٹیلی کام ٹاورز اور بڑی صنعتوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو بجلی پیدا کرنے یا دیگر ضروریات کے لیے ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔
دہلی میں پیٹرول پمپوں پر ڈیزل کی قیمت 95.20 انڈین روپے فی لیٹر ہے، جبکہ بلک میں اس کی قیمت 134.50 روپے ہے۔
مصر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے منسوخ کرنے کا خیر مقدم: دونوں ملک معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، مصری وزارتِ خارجہ
مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے
ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
مصری وزارتِ خارجہ
کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کو امید ہے کہ ’دستیاب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف
زیرِ التوا امور پر اتفاقِ رائے حاصل کیا جائے گا اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا
جائے گا جو جنگ کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے لیے
سازگار ہو۔‘
بیان میں مزید کہا
گیا ہے کہ مصر ’علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کے
ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی مسلسل، سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں جاری
رکھے ہوئے ہے۔‘
حزب اللہ کا جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع میں اسرائیلی فوج پر متعدد حملوں کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی دستوں، بکتر بند گاڑیوں کے خلاف ڈرون، میزائل اور راکٹ حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی کی ہے۔
گروہ کی جانب سے بدھ سے جمعرات تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے متعلق جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔
حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے خاص طور پر الطیّر حرفا سے ملحقہ علاقے الراجمان پر مرکوز تھے، جہاں چار مختلف مواقع پر حملے کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنانی شہروں ناقورہ، القوازہ، رشّاف، القنطرہ، زوتر الشرقیہ اور یعمر الشقيف میں بھی اسرائیلی افواج اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پشین اور قلعہ عبداللہ میں دو پولیس تھانوں پر حملے، نامعلوم افراد اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فرار
پاکستان کے صوبہ بلوچستان
کے اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ میں جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے
دو تھانوں پر حملے کیے اور انھیں نقصان پہنچایا جبکہ وہاں موجود اہلکاروں سے اسلحہ
بھی چھین کر لے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان
کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں حملہ گیلو کے علاقے
میں کیا گیا۔
بی بی سی کی جانب
سے بذریعہ فون رابطہ کرنے پر قلعہ عبداللہ میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ
کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے گلستان کے سرحدی
علاقے میں واقع گیلو پولیس چوکی پر حملہ کیا۔
ان کے مطابق حملہ آوروں
نے پولیس تھانے کو گرا دیا جبکہ اس کے بعض حصوں کو نذر آتش بھی کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس
حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حملہ آور تھانے سے دو ایس ایم جیز، ایک گاڑی
اور موٹر سائیکل لے گئے۔
سینیئر پولیس اہلکار
کا کہنا تھا کہ جب پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری حملہ آوروں کے خلاف کاروائی
کے لیے پہنچی تو اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا
کہ جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے وہ ضلع نوشکی کے سرحد کے قریب واقع ہے۔
اس ہی روز ایک اور
حملے میں مسلح افراد نے ضلع پشین کے سرحدی علاقے دینار میں سلطان پولیس تھانے کو بھی
نقصان پہنچایا۔
پشین میں تعینات ایک
پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد تھانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اہلکاروں سے
اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عید سے
قبل اسی تھانے کی حدود سے نامعلوم مسلح افراد محکمہ حیوانات کے شیپ فارم سے 400 سے
زائد بھیڑیں بھی چھین کر لے گئے تھے۔
یہ گذشتہ 48 گھنٹوں
کے دوران بلوچستان میں پولیس کے تھانوں پر تیسرا حملہ تھا۔
اس سے قبل ضلع دُکی
میں نرہن پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
ایس پی دُکی منصور احمد
بزدار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بھاری اسلحے سے تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس اہلکاروں
کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے وہ تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔
انھوں نے بتایا کہ جھڑپ
کے دوران پولیس کا ایک جوان ہلاک اور ایک زخمی بھی ہوا ہے۔
ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن
آرمی نے قبول کی ہے۔