مذاکرات ناکام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہFacebook/Sardar Umar Nazir
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 26 جولائی سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں میرپور سے ان کی تنظیم کے حامی لانگ مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ کے علاقے دریک پہنچیں گے۔ اس کے بعد 27 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 27 جولائی کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے مرحلہ وار انتخابات ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
عابد شاہین سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا ان کی تنظیم لانگ مارچ کے ذریعے انتخابات ملتوی کروانے کے لیے کسی سیاسی جماعت یا بااثر شخصیت کا آلۂ کار تو نہیں بن رہی، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اور اس کے حامیوں کو انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاکستانی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران ان کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، تاہم بعد میں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہ بن سکی۔
عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دریک کے مقام پر جاری دھرنے میں خواتین اور بچے موجود ہیں، تاہم 27 جولائی کو جب وہاں سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوگا تو اس میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
مذاکرات میں شامل اس شخص کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقضِ امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔
ادھر میرپور پولیس کے ڈی آئی جی کامران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر متحرک ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی کے اہلکار بھی مختلف علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔
میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔





















