لائیو, مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائیاں، کئی شہروں سے دھماکوں کی اطلاعات

امریکی فوج کی مرکزی کمان کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر اچانک حملے کی کوشش کے جواب میں ایران کے خلاف حملے کیے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کے جواب میں سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. قشم میں امریکی حملے میں تباہ شدہ مکان میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں: ایرانی حکام

    Qeshm, hirmuzgan

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح جزیرہ قشم پر ہونے والے امریکی فضائی حملے میں تباہ ہونے والے مکان کے ملبے تلے دبے ایک ہی خاندان کے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران امدادی کارروائی کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔ یہ کارروائیاں رات کی تاریکی میں شروع ہوئیں اور صبح ہونے کے بعد بھی جاری رہیں۔

    خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق ہرمزگان کے کرائسس مینجمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ’قشم کے علاقے چاہ ٹنگو میں ایک رہائشی مکان پر حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔‘

    مقامی عہدیدار نے اسنا کو بتایا کہ اب تک دو بچوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ خاندان کے مزید تین افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس مکان میں پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان آباد تھا، جو واقعے کے وقت گھر کے اندر موجود تھے۔

  2. امریکی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کے ’درجنوں‘ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    US centcom

    ،تصویر کا ذریعہCentcom

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی افواج پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش کے جواب میں ایران کے خلاف ’شدید‘ حملے کیے ہیں۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے پاسدارانِ انقلاب کے ’درجنوں‘ اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں پر فائرنگ کے جواب میں کی گئی ہے۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے مشرقی امریکہ کے وقت کے مطابق بدھ کی شام آٹھ بجے (جمعرات کی صبح پاکستانی وقت کے مطابق پانچ بجے) شروع ہوئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہے۔

    امریکی فوج نے نے انھیں ’گذشتہ روز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ایرانی حملوں کی کوشش کا طاقتور جواب‘ قرار دیا۔

    سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    حملوں کے اختتام پر سینٹ کام نے کہا کہ امریکی کارروائی میں ’فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی اور دفاعی تنصیبات، اور بحری صلاحیتوں‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

  3. سلمان رشدی پر حملہ کرنے والا شخص حزب اللہ کی معاونت سمیت دہشت گردی سے متعلق جرائم کا مرتکب قرار

    Salman Rushdie

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصنف سلمان رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہے امریکی شہری کو دہشت گرد گروہ کی معاونت سمیت مزید الزامات میں بھی مجرم قرار پایا گیا ہے۔

    ہادی ماتر کو بدھ کے روز نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے لبنان کے مسلح گروہ حزب اللہ کو معاونت فراہم کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا۔ امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اپنایا کہ ماتر سلمان کے قتل سے متعلق 1989 میں ایران کے مذہبی رہنما کی جانب سے جاری کیے گئے ایک فتوے سے متاثر تھا۔

    ایوارڈ یافتہ مصنف سر سلمان رشدی نے مقدمے کے دوران گواہی دی، جس میں انھوں نے حملے کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ ایک فائر فائٹر نے بروقت طبی امداد فراہم کر کے ان کی جان بچائی۔

    جیوری نے ہادی ماتر کو بین الاقوامی نوعیت کی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہونے اور حزب اللہ کی مادی معاونت فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا۔

    نیویارک کے شہر بفیلو میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 2006 میں حزب اللہ کے اُس وقت کے رہنما کی ایک تقریر سے متاثر تھا، جس میں سلمان رشدی کے خلاف فتوے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور یہ کہ اس نے دو برس تک اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

    غزشتہ برس ہادی ماتر کو سنہ 2022 میں نیویارک میں ایک لیکچر کے دوران سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    اس حملے کے نتیجے میں ایوارڈ یافتہ مصنف ایک آنکھ سے نابینا ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے جگر کو نقصان پہنچا تھا اور بازو کے اعصاب کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہاتھ مفلوج ہو گیا تھا۔

  4. امریکی حملے کے بعد متعدد ایرانی شہروں سے دھماکوں کی اطلاعات

    جمعرات کی صبح امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے اعلان کے بعد ایران کے مختلف شہروں سے دھماکوں اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ہرمزگان صوبے کے نائب گورنر احمد نفیسی نے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح چار بجے جزیرہ قشم پر فضائی حملہ ہوا ہے۔ حملے کے ایک گھنٹے بعد احمد نفیسی کا کہنا تھا کہ قشم شہر کے علاقے چاہ ٹنگو میں ’ایک رہائشی یونٹ‘ کو دشمن نے میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔

    خوزستان کے نائب گورنر نے آبادان کے نواحی علاقوں پر حملوں کی اطلاع دی، تاہم اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ نقصان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

    دوسری جانب خوزستان میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ صوبے کے کم از کم چار شہروں، شادگان، اروندکنار، آبادان اور اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان کے مطابق صرف اہواز میں سات دھماکے سنے گئے۔

    اسی دوران ابوموسی اور کیش کے جزیروں کے علاوہ قشم کے سمندری علاقے اور آبنائے ہرمز میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جمعرات کی صبح صوبہ فارس کے شہروں نورآباد ممسنی اور کازرون سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  5. ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ: کارروائی کے دوران ڈی ایس پی سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک، 15 شدت پسند مارے گئے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگو میں خزینہ چیک پوسٹ پر حملے اور جوابی کارروائی کے دوران ایک ڈی ایس پی سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 15 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری بیان مطابق بدھ کے روز ہونے والے حملے اور اس کے جواب مِن کیے جانے والے آپریشن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگو کی خزینہ بانڈہ چوکی پر شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جب چوکی میں موجود اہلکاروں کی مدد کے لیے ایس ڈی پی او سٹی کی سربراہی میں اضافی نفری روانہ کی گئی تو راستے میں گھات لگائے بیٹھے شدت پسندوں نے کمک کے لیے آنے والی نفری کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں بکتر بند گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں 15 شدت پسند ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلے کے دوران ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو اہلکار جبکہ 28 جوان زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں اور پولیس کے مابین مقابلہ تاحال جاری ہے۔

  6. امریکی افواج پر حملے کی کوشش کے جواب میں امریکہ کے ایران پر ’بھرپور حملے‘

    امریکی افواج

    ،تصویر کا ذریعہreuter

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر اچانک حملے کی کوشش کے جواب میں ایران کے خلاف حملے کیے ہیں۔

    سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے منگل کے روز کو ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں موجود جہازوں پر فائرنگ کا ’ایک طاقتور ردِعمل‘ ہیں۔

    حالیہ جھڑپیں امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے پہلی مرتبہ مشترکہ حملوں کا سرِعام اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو نشانہ بنایا تھا۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملوں کے آغاز کے وقت ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جنگ صرف چند ہفتے جاری رہے گی، تاہم اب اسے پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

    اس ہفتے کئی روز کے نسبتاً پُرسکون وقفے کے بعد یہ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    چند دنوں تک دونوں فریقوں نے بظاہر کسی سفارتی حل کی امید میں حملے روک رکھے تھے۔ ٹرمپ نے انھیں ’انتہائی دوستانہ مذاکرات‘ قرار دیا تھا، تاہم تہران نے ایسی کسی بھی بات چیت کی تردید کی تھی۔

    بدھ کو حملوں سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ ایک روز پہلے امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کی کوشش کے جواب میں ایران کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ان پر بھرپور حملے کرنے جا رہے ہیں کیونکہ اب ہماری باری ہے۔

    ’وہ جانتے ہیں کہ یہ ہونے والا ہے۔ انھوں نے ہم سے کہا تھا کہ ایسا نہ کریں۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ ’بچوں کی قاتل امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں‘ اس نے اردن میں ایک امریکی فضائی اڈے اور ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا کیونکہ انھوں نے انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے آبانائے ہرمز کے ’غیر محفوظ اور غیر قانونی راستے‘ پر سفر جاری رکھا تھا۔

  7. ہنگو میں شدت پسندوں کا حملہ: ڈی ایس پی سمیت متعدد پولیس اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے اور اس کے بعد کیے گئے آپریشن میں ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد پولیس اہلکار ہلاک جبکہ کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ڈی ایس پی سٹی دیار خان دو دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بعد ازاں ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) طارق حبیب نے بتایا کہ ’حملے اور آپریشن کے نتیجے میں مجموعی طور پر ڈی ایس پی سمیت سات پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 18 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    انھوں نے زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور پولیس فورس کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔‘

    ادھر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور ڈی ایس پی سمیت ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں اور شدت پسند اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

  8. عراق پر حملوں کا مقصد خطے میں جنگ پھیلانا ہے: ایرانی وزارت خارجہ

    عراق پر امریکی اور سعودی حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران نے عراق پر حملوں کو ’جارحانہ‘ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں عراق پر امریکی اور سعودی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلانا ہے۔

    اپنے بیان میں ایران نے عراق پر دونوں ممالک کے حملوں کو ’جارحانہ‘ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’یہ حملے مغربی ایشیائی خطے میں جنگ اور تنازعات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے امریکہ اور ’صیہونی حکومت‘ کی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔‘

    یاد رہے کہ عراق پر گزشتہ رات امریکی اور سعودی عرب کے حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی اور سعودی افواج نے ’ایک مشترکہ آپریشن میں عراق میں ایران سے منسلک شدت پسند گروپوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔‘

  9. اردن میں امریکی اڈوں پرحملے کی ایران کو بھاری قیمت چکانا ہو گی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کے بعد امریکہ ایران کو ’بہت سخت جواب دے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے (فاکس نیوز سے گفتگو میں) کہا ہے کہ اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کے بعد امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔

    فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم انھیں سخت جواب دیں گے۔ انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے سخت زبان بھی استعمال کی۔

    فاکس نیوز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملے عراقی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہ کر کیے گئے۔

    یاد رہے کہ اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی چند گھنٹے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ملک کی فضائی دفاعی فورسز نے ایران سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔

    یہ اعلان امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے اس دعوے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن کی سمت داغے گئے تمام میزائلوں کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا۔

  10. ٹائمز امپیکٹ رینکنگ 2026 میں ایران کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں: رپورٹ

    ٹائمز امپیکٹ رینکنگ 2026 میں ایران کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں کی گئی جبکہ 2025 کی درجہ بندی میں ایران کی 34 جامعات موجود تھیں۔

    یاد رہے کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی درجہ بندیاں دنیا بھر میں جامعات کے جائزے کے سب سے معروف اور زیادہ استعمال ہونے والے نظاموں میں شمار ہوتی ہیں۔

    ان کے نتائج بین الاقوامی ساکھ، طلبہ کے اندراج اور جامعات کے درمیان تعلیمی تعاون پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

    اس سال ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے درجہ بندی میں شرکت کے طریقۂ کار میں تبدیلی کی ہے۔

    نئے قواعد کے تحت جامعات کے لیے سسٹین ایبلٹی نیٹ ورک کی رکنیت اور اداروں کی جانب سے براہِ راست معلومات کی فراہمی لازم قرار دی گئی ہے۔

    فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایرانی جامعات کی عدم موجودگی ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے فیصلے کا نتیجہ تھی یا پھر نئی درجہ بندی کے طریقۂ کار کے تحت ان کی عدم شرکت کی وجہ سے ایسا ہوا۔

  11. اسحاق ڈار کی کویت کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون بڑھانے پراتفاق

    نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

    وزارت خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار اور کویت کے وزیرِ خارجہ جراح جابر الاحمد الصباح نے وزارتِ خارجہ میں وفود کی سطح کے مذاکرات کی مشترکہ صدارت کی۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، کان کنی اور معدنیات، دفاع اور وسیع تر اقتصادی شراکت داری میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

    اعلامیے کے مطابق انھوں نے بہتر ادارہ جاتی روابط اور اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

    دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت، بشمول مشرقِ وسطیٰ اور فلسطین کی صورتحال، پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ کویتی وزیرِ خارجہ نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔

  12. 24 گھنٹوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 32 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے‘ کے لیے مشترکہ آپریشنز میں 32 شدت پسند ہلاک کیے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا کہ 28 اور 29 جولائی 2026 کی درمیانی شب خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد آپریشنز اور علاقے کو کلیئر کرنے کی کارروائیاں کی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’ان کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 24 شدت پسند ہلاک کر دیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد آپریشنز کیے گئے جہاں شدید جھڑپ کے بعد آٹھ شدت پسند ہلاک ہوئے۔‘

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’شدت پسند گروہوں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے تسلسل میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے زیرِ استعمال اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر کے تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں موجود انڈین سرپرستی میں کام کرنے والے کسی بھی دوسرے شدت پسند کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

  13. صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کی قید کے خلاف پانچ اگست کو احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
    • امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں مشترکہ حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیے جانے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    • پاپولر موبلائزیشن فورسز کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں اس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔
    • امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر داغے گئے ایرانی میزائل تباہ کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔
    • امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کا اعلان کیے جانے کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے صوبوں کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
    • ایرانی فوج نے ان چار پائلٹوں میں سے ایک کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ مارچ میں قطر میں واقع امریکی العدید اڈے پر حملے کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
    • خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات ’بہترین‘ رہی۔ بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق ’مثبت اور نتیجہ خیز‘ رہی۔
    • جاپان کے جنوب مغربی جزیرے کیوشو میں منگل کو آنے والے 6.8 شدت کے زلزلے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
  14. امریکہ اور سعودی عرب کے حملوں میں ہمارے کم از کم 20 ارکان ہلاک ہوئے: پاپولر موبلائزیشن فورسز

    پاپولر موبلائزیشن فورسز کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب عراق میں اس کے ٹھکانوں پر امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں اس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    گروہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔‘

    سعودی عرب اور امریکہ الگ الگ بیانات میں یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے عراق میں موجود ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

  15. عمران خان کی قید کے خلاف پانچ اگست کو احتجاجی تحریک شروع کریں گے: محمود خان اچکزئی

    محمود خان اچکزئی، عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پانچ اگست کو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی قید کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، تحریک تحفظِ آئین پاکستان اس دن عمران خان کی قید کے خلاف جمہوری اور پُر امن تحریک کے آغاز کے طور پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری یہ جدوجہد پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ہو گی۔‘

    منگل کی شام کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

  16. امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروہوں پر حملے کیے: سعودی عرب

    امریکی جنگی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    سعودی عرب نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ یہ گروہ اس کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ملوث تھے۔

    سینٹکام نے کہا کہ یہ کارروائی گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 30 سے زائد ڈرون حملوں کے بعد کی گئی۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ان حملوں کی ہدایت دی تھی۔

    سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ حملوں میں عراق میں موجود ان گروہوں کو نشانہ بنایا گیا جن پر مشرقی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کا الزام ہے۔ وزارت کے مطابق ریاض کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی ’جارحیت‘ کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے سعودی عرب پر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    منگل کے روز سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاع کے نظام نے عراق سے داغے گئے کئی ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ ڈرون ایسے گروہوں نے داغے تھے جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ سعودی عرب ’مناسب وقت اور مقام‘ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے ڈرون حملوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق اپنی سر زمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

  17. ایران سے داغے گئے پانچ میزائل تباہ کر دیے: اردن

    اردن میں فوجی اڈا جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں

    ،تصویر کا ذریعہSalah Malkawi/Getty Images

    اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی دفاعی فورسز نے ایران سے داغے گئے پانچ میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا ہے۔

    یہ اعلان امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے اس دعوے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے اردن کی سمت داغے گئے تمام میزائلوں کو کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا گیا۔

    بدھ کی صبح ایران کے پاسدارن انقلاب نے اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے دعویٰ کیا تھا۔

  18. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرول پمپ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    حکومتِ پاکستان نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خلیج میں دوبارہ بڑھتی کشیدگی کے اثرات عوام تک منتقل کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ایک روپے 63 پیسے اضافے کے ساتھ 335 روپے 81 پیسے ہو گئی ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل ایک روپے 56 پیسے اضافے کے ساتھ 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہو گا۔

  19. ایران کے پاسداران انقلاب کا تین آئل ٹینکر روکنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس نے تین آئل ٹینکروں کو روک دیا ہے۔

    بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا: ’ہماری تنبیہ کے باوجود تین آئل غیر محفوظ اور غیر قانونی راستے پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے، چند گھنٹے قبل انھیں نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔‘

    بیان میں ان آئل ٹینکروں کی شناخت یا ان کے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  20. عراق میں حملوں اور ایران امریکہ کشیدگی بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرول پمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے عراق میں مشترکہ حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیے جانے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.30 ڈالر یا 3.9 فیصد اضافے کے ساتھ 87.39 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جنھیں فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

    دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بعد میں اعلان کیا کہ انھوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے اور امریکی سینٹرل کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    ادھر سعودی عرب نے بھی کہا کہ اس کی مسلح افواج نے امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف حملے کیے۔

    سعودی عرب کا الزام ہے کہ یہ گروہ اس کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں میں ملوث تھے۔