لائیو, امریکی فضائی حملوں کا نیا سلسلہ: بندر عباس سمیت ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں دھماکے

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا بدلہ ہیں۔

لائیو کوریج

  1. امریکی حملے کے ردعمل میں ایرانی رہنما کی خلیج فارس میں تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے ردعمل میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خلیج فارس کے ممالک میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’خلیج فارس کے وہ ممالک جو ایران اور امریکی حکومت کے درمیان تنازع میں ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں، انھیں اپنے تیل اور گیس کے کنوؤں کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکان سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے مزید لکھا ’ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ایک بھی امریکی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان لفظی محاذ آرائی اور سخت بیانات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  2. بریکنگ, تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے: روسی نیوز ایجنسی طاس کا دعویٰ

    روس کی خبر رساں ایجنسی ’طاس‘ نے ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں تہران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے کو فعال کرنے کی امریکی کوشش دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے ہونے والی بحری آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔

    ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا جواب ماضی کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن، وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور علاقائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
  3. یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر حملوں کا جواب ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔‘

    واضح رہے کہ اب سے کُچھ دیر قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران پر نئی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

    جس کے بعد متعدد ایرانی میڈیا کی جانب سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ مُلک کے متعدد ساحلی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں۔

    ٹرمپ کی اس حالیہ پوسٹ میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک اور پوسٹ کی تصویر بھی شامل ہے، جس میں جنوبی ایران کے شہر چابہار میں حملوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ تاہم بی بی سی ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    Truth Social

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social

  4. بریکنگ, ایران پر موجودہ امریکی حملے منگل کی کارروائی سے زیادہ وسیع ہیں: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایران پر جاری حالیہ حملے منگل کو کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور بڑے پیمانے پر ہیں۔

    اسی طرح امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تازہ امریکی کارروائی کا دائرہ کار منگل کے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق منگل کو کی گئی کارروائی کے دوران ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔

  5. بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈے پر حملہ، ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی صوبے بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے ایران کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ چابہار بندرگاہ کے علاقوں پر امریکی حملوں کے بعد داغے گئے گولوں کے ٹکڑے شہر کے امام علی ہسپتال پر بھی گرے، جس سے ہسپتال کو نقصان پہنچا۔

  6. خلیج میں واقع ابو موسیٰ جزیرہ بھی امریکی حملے کی زد میں آیا ہے: ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں واقع متنازع ابو موسیٰ جزیرے پر دو میزائل یا گولے داغے گئے ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقے میں آج رات آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق دو گولے ابو موسیٰ جزیرے پر گرے، دو میزائلوں سے جزیرہ سیریک کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنوبی ساحلی علاقوں میں مزید دو دھماکوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    واضح رہے کہ خلیج میں واقع ابو موسیٰ اُن جزائر میں شامل ہے کہ جو اس وقت ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہیں، تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔ ان جزائر کی ملکیت کا تنازع دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

    BBC
  7. بریکنگ, امریکی جنگی طیاروں کا چابہار میں فوجی اڈے پر حملہ، متعدد دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے چابہار میں واقع امام علی نادسا کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    تسنیم کی جانب سے امریکہ کے ان حالیہ حملوں کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ ’اب تک چابہار اور کونارک میں تقریباً دس دھماکوں کی آوازیں سنی جا چکی ہیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق چابہار شہر کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ترکی میں ایران سے متعلق سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

  8. بریکنگ, ایران کے جنوبی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کونارک اور چابہار شہروں میں کئی دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ اس علاقے سے بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  9. بریکنگ, امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران میں مزید حملے کر رہی ہیں۔

    سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے ایران کے خلاف مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ تجارتی بحری جہازوں اور ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے آزادانہ گزرنے والے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز کارروائیوں پر ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔‘

  10. مستونگ: کرکٹ گراؤنڈ میں مسلح افراد کی فائرنگ، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Sami Khan

    ،تصویر کا ذریعہSami Khan

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے دو کھلاڑی ہلاک ہوگئے۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متائثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    مستونگ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ واقعہ مستونگ شہر میں شمس آباد کراس کے علاقے میں واقع گرائونڈ میں پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اس علاقے میں فائرنگ کی جس میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑی زندگی کی بازی ہار گئے۔

    انھوں نے کہا کہ اس گرائونڈ میں کرکٹ کا میچ جاری تھا جہاں ان کھلاڑیوں پر فائرنگ کی گئی۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جنھوں نے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں پر فائرنگ کی۔

    انھوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔

    اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    مستونگ کہاں واقع ہے؟

    مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ماضی میں یہ ضلع انتظامی لحاظ سے قلات ڈویژن کا حصہ تھا لیکن حال ہی میں اس ضلع کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا گیا۔

    کوئٹہ کراچی شاہراہ اس شہر کے سامنے گزرتی ہے جبکہ ایک اور اہم شاہراہ کوئٹہ تفتان شاہراہ بھی اس ضلع سے گزرتی ہے۔

    مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں طویل عرصے سے سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے ضلع میں صورتحال کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

  11. ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں بلکہ عمل سے دیتے ہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کو توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کرنے سے اس کی عظمت کم نہیں ہوتی۔

    عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’مہذب اور بہادر ایرانی قوم کو تحقیر آمیز زبان میں مخاطب کرنا اس کی عظمت کو متاثر نہیں کر سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایرانی عوام اپنی شائستگی، ثقافت اور مضبوط اخلاقی اقدار کے لیے جانے جاتے ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہم بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہیں دیتے بلکہ عمل کے ذریعے دیتے ہیں، وہ بھی بے خوف ہو کر اور بھرپور حوصلے کے ساتھ۔‘

  12. امریکہ اور ایران کے تازہ حملے: تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں، وزارت خارجہ پاکستان

    پاکستان نے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر تازہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعے کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کی اپیل کرتا ہے جو علاقائی امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچائے۔‘

    بیان کے مطابق خطے میں امن کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری کا کوئی متبادل نہیں۔

    ’پاکستان تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں، جو خطے اور اس سے باہر باہمی مفاہمت و احترام اور مشترکہ خوشحالی کی پائیدار بنیاد ہے۔ پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔‘

  13. ایران کا جوہری مواد اتنی گہرائی میں ہے کہ اس تک پہنچنا ممکن نہیں: ٹرمپ

    ٹرمپ، الشرع

    اب سے کچھ دیر قبل نیٹو سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ نے شام کے صدر احمد الشرع سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی۔

    اس دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ ایران کے اندر موجود جوہری مواد کو کس طرح حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور یہ کہ وہ ایرانی قیادت سے کون سی یقین دہانیاں چاہتے ہیں؟

    اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی اس جوہری مواد کو محفوظ بنا چکا ہے ’کیونکہ یہ زمین کے اندر اتنی گہرائی میں ہے کہ ہمارے سوا کوئی بھی اسے حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ (جوہری مواد) ایک پہاڑ کے نیچے اتنی گہرائی میں موجود ہے کہ اسے نکالنے کے لیے بھاری مشینری درکار ہو گی، جو کسی اور ملک کے پاس نہیں بلکہ صرف ہمارے پاس ہے۔‘

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے پر غور کرے گا تو انھوں نے مزید کہ ’میں وہاں کیوں جاؤں گا؟ میں اُس وقت جاؤں گا جب وہ مکمل طور پر یا تو ختم ہو چکے ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔‘

  14. ’نئی اشتعال انگیزی خطے کو آگ کی طرف دھکیل رہی ہے‘: ایران

    ایران کے سپریم لیڈر کے ایک سینیئر مشیر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی ’مہم جوئیوں‘ کا ’فوری جواب‘ دیا جائے گا۔

    علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ’نئی اشتعال انگیزی اور ابتدائی امن معاہدے کی منسوخی کا زبانی اعتراف خطے کو آگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ایران کا نام نہاد محورِ مزاحمت جو خطے میں پراکسی گروہوں اور اتحادیوں کا نیٹ ورک ہے، ’نشانہ تانے بیٹھا ہے۔‘

  15. امریکہ ایران کے اندر مزید گہرائی تک حملے کر سکتا ہے: امریکی وزیرِ دفاع کا عندیہ

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کو اپنی ’زیادہ سے زیادہ طاقت‘ سے نشانہ نہیں بنا رہا، اور خبردار کیا ہے کہ آئندہ حملوں میں ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور پانی صاف کرنے کے کارخانوں (ڈی سیلینیشن پلانٹس)، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے ساحل کے قریب واقع اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور اس معاملے میں تہران زیادہ کچھ نہیں کر سکے گا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ ’آج رات بڑا حملہ ہو سکتا ہے۔‘

    دریں اثنا امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عندیہ دیا کہ اگر ایسا حملہ کیا گیا تو وہ ایران کے اندر مزید گہرائی تک کیا جا سکتا ہے۔

  16. ٹرمپ کی ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ بحال کرنے کی دھمکی

    امریکہ، ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ ناکہ بندی 17 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت ختم کی گئی تھی۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہو سکتا ہے ہم ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ صرف ایران کے لیے ہوگی، باقی تمام ممالک جو چاہیں کر سکیں گے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران موقع ملنے پر سمندری بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، تاہم امریکہ کے پاس ایسی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے مائن سویپرز موجود ہیں۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران بعض رکن ممالک نے خطے میں مائن سویپرز بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔

  17. کیا ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات سے امید کھو چکے ہیں؟, بی بی سی کے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

    کئی ہفتوں تک وہ اس بات پر پُرامید دکھائی دیتے رہے کہ وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور بالآخر کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ تنازع شاید ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    ان کی وہ سابقہ امید پسندی اب خاصی مدھم دکھائی دیتی ہے، اور ٹرمپ نے اس امکان کو بھی کھلا چھوڑ دیا ہے کہ ایران کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والے نئے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے، جس کا آغاز ممکنہ طور پر آج رات سے ہو۔

    یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلینسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’دیکھتے ہیں کہ یہ سب کیسے آگے بڑھتا ہے۔ میں ان سے خوش نہیں ہوں۔‘

    ٹرمپ کو اندرونِ ملک بھی سیاسی چیلنج درپیش

    مذاکرات کی ممکنہ ناکامی اور جنگ بندی کے خاتمے کا امکان ٹرمپ کو داخلی سیاست میں بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

    ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے بعض ارکان شروع ہی سے اس جنگ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

    کچھ قانون سازوں نے کھل کر یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے سے امریکہ کو آخر کیا حاصل ہوا، اور آیا تہران پر یہ اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دے گا یا نہیں۔

    واشنگٹن میں بعض مبصرین اور کانگریس کے ارکان کے نزدیک اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت سمجھا جائے گا کہ ان کے خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔

  18. امریکہ آج رات دوبارہ ایران پر سخت حملہ کرے گا: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ رات اُنھیں بہت سخت نشانہ بنایا، بہت ہی سخت۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’شاید آج رات دوبارہ بھی سخت حملہ کرے گا‘۔ٹرمپ کے بقول، ’میں نے انھیں تھوڑی سی پیشگی وارننگ دی تھی، ہم آج رات پھر اُن پر سخت حملہ کرنے جا رہے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہو بھی سکے گا یا نہیں۔

    جنگ بندی کے ’ختم‘ ہونے سے متعلق اپنے بیان کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مکمل جنگ کا آغاز ہے، تو ٹرمپ نے اس کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔

    تاہم انھوں نے ایران پر معاہدے کی روزانہ بنیاد پر خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ہر روز اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمارے معاہدے کے تحت وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکیں گے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کوئی معاہدہ ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ ممکن ہے ہم بغیر کسی معاہدے کے ہی یہ کام کر لیں، کیونکہ سچ کہوں تو ایسا کرنا زیادہ آسان ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے ’خوش نہیں‘ ہیں اور ایک بار پھر امریکی مؤقف دہرایا کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا سارا معاملہ حکومت کی تبدیلی سے متعلق نہیں ہے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے ’کافی پیش رفت‘ کی ہے۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے جیسا بااثر اور طاقتور فریق نہیں رہا۔

    اپنی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی قیادت کے بارے میں اپنا سابقہ تبصرہ دہرایا اور انھیں ’سنکی‘ قرار دیا۔

  19. احمد آباد بم دھماکہ کیس میں 38 ملزمان کی سزائے موت برقرار، جمعیت علما کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان, مہتاب عالم، بی بی سی اردو، دہلی

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ نے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکہ کیس میں 38 ملزمان کو پھانسی اور 11 ملزمان کو عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو منگل کو سنایا گیا۔

    خیال رہے کہ جولائی 2008 میں ریاست میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں 56 افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں کل 78 افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا، جن میں سے 49 کو ایک خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو ملزمان کی جانب سے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، اور عدالت نے اب ان سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔

    عدالت نے ہلاک ہونے والے 56 افراد کے ہر ایک کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور زخمی متاثرین میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے دینے کا حکم بھی دیا ہے۔

    گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سانگھوی نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے تاریخی قرار دیتے ہوئے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کے خلاف ’زیرو مرسی‘ کی ایک مثال بتایا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’آج گجرات ہائی کورٹ نے انڈیا کے مضبوط ترین اور تاریخی فیصلوں میں سے ایک فیصلہ سنایا ہے۔‘

    کیس کے متاثرین کے اہل خانہ نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ 26 سالہ یش ویاس، جنھوں نے بم دھماکوں میں اپنے والد اور بڑے بھائی کو کھو دیا تھا، کا کہنا ہے کہ فیصلہ مناسب ہے۔ روزنامہ دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرے والد، میرے بھائی اور کئی دوسرے لوگ ان دھماکوں میں مارے گئے تھے۔‘ ان کے والد ہسپتال میں ملازم تھے اور کام پر موجود تھے جب وہ ہلاک ہوئے۔

    ایک دوسرے متاثرہ خاندان کے فرد وجے مودی نے اخبار کو بتایا کہ ’چاہے دیر ہوئی ہو، لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب انصاف مل گیا ہے۔‘ وجے کی والدہ، جو اس وقت 55 سال کی تھیں، اس واقعے میں زخمی ہو گئی تھیں اور 2016 میں فوت ہو گئی تھیں۔

    دوسری جانب اس معاملے میں ملزمان کی طرف سے پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی گروپ) کی قانونی امداد کمیٹی نے اسے ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ قرار دیا ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کل 49 ملزمان میں سے جمعیۃ علما مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علما احمد آباد (گجرات) کے تعاون سے 39 ملزمان کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

    تنظیم کے پریس سیکریٹری فضل الرحمن قاسمی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی نے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ ہے۔

    جمعیت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائے گی اور ملزمان کو پھانسی کے تختے سے بچانے کے لیے ملک کے نامور فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کرے گی اور ان کے مقدمات مضبوطی کے ساتھ لڑے گی۔ ’ہمیں پورا یقین ہے کہ اعلیٰ عدالت سے ان نوجوانوں کو مکمل انصاف ملے گا۔‘

    جمعیت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایسے متعدد معاملات ہیں جن میں نچلی عدالتوں نے سزائیں سنائیں، مگر جب وہی مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں گئے تو مکمل انصاف ہوا۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی مثال اکشردھام مندر حملہ کیس ہے، جس میں نچلی عدالت نے مفتی عبدالقیوم سمیت تین افراد کو پھانسی اور چار افراد کو عمر قید کی سزا دی تھی۔ یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے ان سب کو نہ صرف باعزت بری کر دیا بلکہ بے گناہوں کو دہشت گردی کے الزام میں ملوث کرنے پر گجرات پولیس کی سخت سرزنش بھی کی تھی۔

    غور طلب ہے کہ مجرم قرار دیے گئے افراد کا تعلق گجرات، اتر پردیش، کرناٹک، کیرالا، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، بہار اور دہلی سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طریقے سے دھماکہ خیز مواد جمع کیا تھا اور پھر بم دھماکے کیے، جن میں 56 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔

    اس معاملے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان نے 2002 کے گجرات فسادات کا ’انتقام‘ لینے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے لیے سلسلہ وار دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ 2022 میں عدالت نے 78 میں سے 28 ملزمان کو بری کر دیا تھا، جبکہ اس مقدمے میں ایک ملزم نے سرکاری گواہ بننے کا فیصلہ کیا تھا۔

  20. ایران کی بندرگاہ سیریک پر حملہ، چار افراد زخمی

    ایران کے جنوبی علاقے میں واقع سٹریٹجک بندرگاہ سیریک پر رات گئے ہونے والے ایک فوجی حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے جبکہ بندرگاہ کے بحری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ حملہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں رات بھر جاری رہنے والی وسیع تر فوجی کارروائیوں کا حصہ تھا۔

    ارنا نے صوبہ ہرمزگان کے مشرقی حصے میں بندرگاہوں اور بحری امور کے سربراہ حمیدرضا محمدحسینی تختی کے حوالے سے بتایا کہ حملہ بندرگاہ کے حوض، پورٹ بیسن، کے اندر دو مراحل میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں بندرگاہ کی ایک مرکزی تیرتی جیٹی، فلوٹنگ پیئر، کو شدید نقصان پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق مقامی تجارتی کشتیاں اور قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز بھی حملے کی زد میں آئے۔

    محمد حسینی تختی نے بتایا کہ ایک شخص شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر میناب کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ تین دیگر افراد کو معمولی زخم آئے جنہیں موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ہرمزگان کے مختلف مقامات، جن میں بندر عباس اور جزیرہ قشم شامل ہیں، میں کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہیں۔

    ارنا کے مطابق حملے کے باعث بندرگاہ سیریک کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، تاہم قریبی شپنگ مراکز، جن میں جاسک اور تیاب کی بندرگاہیں شامل ہیں، جو سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت بدستور فعال ہیں۔