لائیو, 10 ہزار اہلکاروں، درجنوں جنگی طیاروں اور جہازوں کی مدد سے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا: سینٹ کام

امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ 10 ہزار سے زائد اہلکاروں، درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کامیابی سے جاری ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں پر واپس گئے ہیں۔

خلاصہ

  • لبنان کے ساتھ مذاکرات کے بعد بھی اسرائیل کے حملے جاری
  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین‘ کرنا چاہتے ہیں: نائب صدر جے ڈی وینس
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ ختم ہونے کے قریب ہے اور ایران بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہشمند ہے
  • ٹرمپ کا پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ’ایران سے اگلے دو روز میں مذاکرات ہو سکتے ہیں‘
  • دس ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام

لائیو کوریج

  1. نئے مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات نہیں‘: ایران

    ایران اور امریکہ کے جھنڈے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مزید مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات نہیں۔‘

    اس کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو دنوں میں اسلام آباد میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔

    ارنا کے مطابق، تہران اور اسلام آباد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے، تاہم کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔

    سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے، اس کے باوجود ’پاکستان ثالثی کی کوششوں کے لیے پُرعزم ہے۔‘

    ایران نے بظاہر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کا اعلان 8 اپریل کو کیا گیا تھا، اس کا مطلب ہے کہ یہ مدت 22 اپریل کو بدھ کے روز ختم ہونے والی ہے۔

  2. ’مایوس اور ناراض‘ ہوں کہ امریکہ نے جنگ شروع کی لیکن اس سے نکلنے کی حکمت عملی نہیں سوچی: برطانوی وزیر خزانہ

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز

    ،تصویر کا ذریعہEuropa Press via Getty Images

    برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز آج واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کریں گی۔

    امریکہ روانگی سے قبل ریچل ریوز نے اخبار ڈیلی مرر کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس بات پر ’بہت مایوس اور ناراض‘ ہیں کہ امریکہ نے جنگ شروع تو کر دی لیکن اس سے نکلنے کی کوئی حکمت عملی نہیں سوچی۔

    بی بی سی کے پروگرام میں حکومتی وزیر جیمز مرے سے ریچل ریوز کے سخت ریمارکس کے بارے میں سوال کیا گیا۔

    جیمز مرے کا جواب تھا: ’میرے خیال میں وزیر خزانہ اُن خیالات کی عکاسی کر رہی ہیں جو شاید برطانیہ میں بہت سے لوگ رکھتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، ہم نے جس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے باوجود ہماری معیشت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

    وزیرِ خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں برطانیہ معاشی طور پر اس تنازع سے زیادہ متاثر ہو گا۔

    دوسری جانب، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ طویل المدت عالمی سلامتی کے لیے ’تھوڑی بہت معاشی تکلیف‘ قابل قبول ہے۔

  3. آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے بحری جہاز واپس جا رہے ہیں: ٹریکنگ ڈیٹا

    اؓبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کا ٹریکنگ ڈیٹا

    ،تصویر کا ذریعہMarineTraffic

    اتوار کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پیر کو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر ناکہ بندی کا نفاذ ہو گا۔

    بی بی سی ویری فائی نے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے وقت ایران سے منسلک کم از کم چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    بعد ازاں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔ بتایا گیا کہ چھ تجارتی جہاز ’امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ میں‘ واپس چلے گئے۔

    امریکی حکام نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ منگل کے روز دو تیل بردار جہازوں کو روکا گیا، جو انھی چھ جہازوں میں شامل تھے جنہیں امریکی افواج نے واپس جانے کی ہدایت دی تھی۔

    ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، ایران سے منسلک ایک جہاز رچ سٹاری مشرق کی جانب سفر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم جب وہ خلیجِ عمان پہنچا تو بظاہر واپس مڑ گیا، ممکنہ طور پر امریکی افواج کی ہدایت پر۔

    بی بی سی ویری فائی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی بندرگارہ سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور جہاز، کرسٹیانا نے بھی بعد میں اپنا رخ تبدیل کیا۔

  4. لبنان کے ساتھ مذاکرات کے بعد بھی اسرائیل کے حملے جاری

    لبنان پر اسرائیلی حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تین دہائیوں کے بعد واشنگٹن میں لبنان سے پہلی سفارتی بات چیت کے اگلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں مزید حملے کیے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام غیر ریاستی دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ اشارہ حزب اللہ کی جانب ہے، جو ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران ’حزب اللہ کے جنگجوؤں اور عسکری انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ’حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔‘

    گذشتہ روز واشنگٹن میں اسرائیل لبنان مذاکرات کے حوالے سے امریکی بیان میں کہا گیا کہ امریکہ ’دونوں ممالک میں مزید مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔‘

    ساتھ ہی لبنان کی حکومت کے اس منصوبے کی بھی حمایت کی گئی جس کے تحت ایران کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری بحال کی جائے۔

  5. وزیر اعظم شہباز شریف آج سعودی عرب جائیں گے

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

    ،تصویر کا ذریعہRoyal Court of Saudi Arabia/Anadolu Agency via Getty Images

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف آج سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے۔

    بیان کے مطابق اعلیٰ سطح وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ اسلام آباد سے جدہ جائے گا۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے بعد قطر اور ترکی کا دورہ بھی کریں گے۔ تینوں ممالک کے یہ دورے 15 اپریل سے لے کر 18 اپریل تک جاری رہیں گے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دوروں میں وزیر اعظم شہباز شریف دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور دو طرفہ تعاون کے علاوہ علاقائی امن و سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں وزیر اعظم شہباز شریف انتالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کر کے پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

    جبکہ وزیر اعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوغان اور دیگر اہم عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر اعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی سمیت دیگر سینئر حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ ہوں گے۔

  6. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، دو کاروباری دنوں میں 10 ہزار پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    آج بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 5005 پوائنٹس تک کے اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی سطح سے اوپر چلا گیا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی مارکیٹ انڈیکس میں پانچ ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس طرح مجموعی طور پر دو دنوں میں انڈیکس میں دس ہزار پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اس کہ وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ پاکستان میں دوبارہ مذکرات اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ دینے کے اعلانات ہیں۔

    تجزیہ کار شہریار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر کے اعلان کے بعد پاکستان دوبارہ عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے جس پر مارکیٹ نے مثبت رد عمل دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی صدر کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمت بھی کم ہوئی ہے جو مارکیٹ کے لیے مثبت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ دینے کے یقین دہانی نے مارکیٹ میں کاروبار پر بہت زیادہ مثبت اثر مرتب کیا۔

  7. امن مذاکرات کی امیدوں کے باعث تیل کی قیمتیں مستحکم

    امریکہ اور ایران میں نئے امن مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں جس کے باعث ایشیا میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات ’آئندہ دو روز میں‘ دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے کسی اجلاس کے بارے میں اسے تاحال ’کوئی معلومات نہیں‘ ہیں۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 0.3 فیصد اضافے سے 95 ڈالر فی بیرل سے کچھ اوپر رہی۔

    توانائی کی قیمتوں میں کمی منگل کے روز اس وقت آئی جب ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے کسی معاہدے کی امید میں وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

    آج بدھ کے روز ایشیا کی بڑی منڈیوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے، جاپان کا نکئی 225 انڈیکس تقریباً ایک فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایکسچینج تین فیصد بڑھا۔

  8. ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین‘ کرنا چاہتے ہیں، مذاکرات جاری رکھیں گے: نائب صدر جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکہ میں قائم ادارے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام ایک گفتگو میں جے ڈی وینس نے ایران امریکہ امن مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔

    امریکی نائب صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز سمجھوتہ اس لیے نہ ہو سکا کیوں کہ ’ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو اور وہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کر رہا ہو۔‘

    امریکی نائب صدر کا کہنا تھا: ’اگر ایران وعدہ کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران معاشی طور پر خوشحال ہو۔‘

    ’یہ ہے وہ پیشکش جو امریکی صدر (ایران کو) کر رہے ہیں، اور اسے ممکن بنانے کے لیے ہم مذاکرات جاری رکھیں گے۔‘

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ان سے کہا تھا کہ پاکستان جا کر اچھی نیت سے ایران کے ساتھ مذاکرات کریں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’امریکہ اور ایران میں بہت بد اعتمادی موجود ہے جو ایک رات میں ختم نہیں ہو سکتی۔‘

    اس کے باوجود امریکی نائب صدر دونوں ممالک کے درمیان ہوئی پیشرفت سے مطمئن نظر ائے۔ ان کا کہنا تھا: ’اچھی بات یہ ہے کہ جنگ بندی جاری ہے‘ اور ’جس جگہ ہم ہیں (یعنی جو پیشرفت ہوئی) اس کے بارے میں ہم اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

  9. 10 ہزار اہلکاروں اور درجنوں جنگی جہازوں کی مدد سے امریکہ نے سمندر کے راستے ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے: سینٹ کام

    امریکی طیارہ بردار جہاز پر موجود جنگی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

    امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ’مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بحری برتری برقرار ہے۔‘

    سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’ایران کی اندازاً 90 فیصد معیشت کا انحصار سمندر کے راستے بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی فوج نے سمندر کے ذریعے ایران میں آنے اور ایران سے جانے والی تمام معاشی تجارت مکمل روک دی ہے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق 10 ہزار سے زائد امریکی اہلکار درجنوں جنگی جہازوں اور طیاروں کی مدد سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل کرا رہے ہیں۔ پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہ کر سکا، جبکہ چھ تجارتی جہاز امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیجِ عمان میں واقع کسی ایرانی بندرگاہ میں واپس چلے گئے۔

    سینٹ کام کی جاری کردہ مزید تفصیلات کے مطابق امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز اُن اثاثوں میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرا رہے ہیں۔ ایک عام ڈیسٹرائر پر 300 سے زائد بحری اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جو جارحانہ اور دفاعی سمندری کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ درجے کی تربیت رکھتے ہیں۔

    ایکس پر جاری سینٹ کام کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ہر ملک کے جہاز پر ناکہ بندی کا نفاذ بلا امتیاز ہو گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز جن کی منزل یا روانگی کا مقام ایران نہیں ہے، انھیں نہیں روکا جائے گا۔

    امریکی سینٹ کام کی طرف سے جاری تفصیل، جس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے تعینات کیے گئے وسائل کا بتایا گیا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہU.S. CENTCOM

  10. میرے خیال میں ایران جنگ ختم ہونے کے قریب ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    یہ بات انھوں نے صحافی ماریا بارٹیرومو کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی ہے، جو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔

    فاکس نیوز کی جانب سے اس انٹرویو کے کچھ حصے ابھی جاری کیے گئے ہیں جبکہ مکمل انٹرویو امریکی وقت کے مطابق شام چھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح نو بجے) نشر کیا جائے گا۔

    انٹرویو کا جو حصہ فاکس نیوز کے ایکس ہینڈل سے جاری کیا گیا ہے اس میں ماریا بارٹیرومو امریکی صدر سے سوال کرتی ہیں کہ کیا یہ جنگ ختم ہو چکی ہے؟ جواب میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں یہ جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اگر میں نے ابھی اپنا داؤ کھیل دیا‘ تو ایران کو اپنے ملک کی تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے، اور ’ابھی ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔‘

    انٹرویو کے ابھی تک دستیاب حصے میں تو ٹرمپ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ ’ابھی اپنا داؤ کھیلنے‘ سے ان کی کیا مراد ہے، تاہم اس سے پہلے وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے اور ایران کو ’پتھر کے دور میں‘ واپس دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا: ’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، میرا خیال ہے وہ (ایران) بہت شدت سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ اگر وہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران جوہری ہتھیار بنا چکا ہوتا۔

  11. امریکی ناکہ بندی کے باوجود دو ایرانی جہاز بندرگاہ سے روانہ, الیكس مرے، بی بی سی ویریفائی

    بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کیے گئے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں سے جہاز روانہ ہو رہے ہیں۔

    بظاہر 13 اپریل کو کارگو جہاز اشکان 3 ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا تھا۔ چابہار کی بندرگاہ آبنائے ہرمز سے سینکڑوں کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہ جہاز اس وقت پاکستان کے قریب مشرق کی جانب سفر کر رہا ہے۔

    ایک اور کنٹینر شپ شابدیث بھی 13 اپریل کو چابہار بندرگاہ کے قریب سے بغیر سامان لادے روانہ ہوا۔ امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد اس نے بھی مشرق کی سمت سفر شروع کیا اور اب انڈیا کے قریب ہے۔ یہ جہاز اپنی منزل چین کے شہر ژوہائی کو ظاہر کر رہا ہے۔

    ناکہ بندی کے آغاز کے بعد ان دونوں جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کی۔ دونوں جہاز ایرانی پرچم تلے سفر کر رہے ہیں۔

  12. امریکہ اور اسرائیل سے بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی، مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا: لبنانی سفیر

    امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی ابتدائی بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی۔

    منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر ’مکمل عمل درآمد کی فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد یہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں اپنی مسلح موجودگی ختم کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے تھے۔

    ندا حمادہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے لبنان کی ’تمام لبنانی علاقوں پر مکمل خودمختاری‘ اور تنازع کے باعث پیدا ہونے والے ’شدید انسانی بحران‘ میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    لبنانی سفیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نمائندے بھی شریک تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں آج ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    جبکہ اسرائیلی سفیر کا دعویٰ تھا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔

    لبنان اسرائیل مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی: امریکی محکمہ خزانہ

    امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد کردہ تیل کی پابندیوں میں کی گئی عارضی نرمی میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ سمندر میں پھنسے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت کے لیے جو قلیل مدتی اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا اس میں توسیع نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجازت 19 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ برقرار رکھنا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک اور پیغام میں امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جو ’ایران کی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

  14. ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کی امید، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

    منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آئی جسے تجزیہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن معاہدے کے امکان سے جوڑتے ہیں۔

    عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت ساڑھے چار فیصد کم ہو کر فی بیرل 94.87 ڈالر کی نچلی سطح تک آ گئی۔ تاہم بعد ازاں اس میں معمولی بحالی بھی دیکھی گئی۔

    سرمایہ کاری کی تجاویز دینے والی کمپنی کوئلٹر سے وابستہ لنڈزی جیمز کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں نے منڈیوں میں بہتری لانے میں مدد دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی ایسے اشارے ملے ہیں کہ تہران امریکی ناکہ بندی کو آزمانے کے بجائے فوجی تصادم سے بچنے کے لیے تیل کی ترسیل عارضی طور پر روکنے کو ترجیح دے گا۔

    تیل کی قیمتوں کا گراف
  15. تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے: ایرانی ذرائع ابلاغ

    ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    تہران کے ضلع 10 کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد بالیدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غدار اور غیر محبِ وطن عناصر‘ نے ایک ’معمولی دھماکہ‘ کیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس دھماکے کے پیچھے کون ملوث ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر میں صورتِ حال ’قابو میں‘ ہے۔

    اس ویڈیو پیغام کے بعد پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ایک علیحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ دھماکہ ’مائع گیس سے بنائے گئے دو دیسی ساختہ دھماکہ خیز پیکیجز‘ کی وجہ سے ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو گاڑیوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

  16. دنیا ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جا رہی ہے، چینی صدر شی جن پنگ

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر’جنگل کے قانون‘ کی طرف لوٹ رہی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے یہ بات چین کے دورے پر آئے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے گفتگو کے دوران کہی۔

    بظاہر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا ’انتشار‘ کا شکار ہے اور ’قانون اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان رسہ کشی‘ جاری ہے۔

    ملاقات کے دوران صدر شی نے سپین کے ساتھ تعاون مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ دنیا کو ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جانے سے روکا جا سکے اور ’بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام‘ کا دفاع کیا جا سکے۔

    چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اور ایران کے درمیان مذاکرات ’اگلے دو دنوں میں‘ ہو سکتے ہیں، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’بہت اچھا کام‘ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اخبار کو بتایا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جا سکتے ہیں۔‘
    • پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ’بحری ناکہ بندی قائم کرنے کا غیر قانونی، اشتعال انگیز اور غیر تعمیری اقدام ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔‘
    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہا ہے تاکہ ہرجانے کے معاملے کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکے۔
    • فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
    • اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ فوجی ساز و سامان کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق کے تعاون کے اس معاہدے میں ہر پانچ سال بعد خودکار طور پر تجدید ہو جایا کرتی تھی، تاہم اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ویرو نا میں ایک تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر معاہدے کی تجدید روکنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس صورتحال کا حوالہ دے رہی ہیں۔‘
    • پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ترکی میں 17 اپریل کو ہو گی
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔