آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نام اور حلیہ بدل کر ممبئی میں اداکار بن جانے والا مفرور قاتل 12 برس بعد گرفتار کیسے ہوا؟
- مصنف, بھارگَو پاریکھ
- عہدہ, بی بی سی گجراتی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
احمد آباد کرائم برانچ نے حال ہی میں ایک ایسے ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جو 12 سال پہلے قتل کے ایک مقدمے میں پیرول ملنے کے بعد فرار ہو گئے تھے اور بعد میں وہ ایک اداکار بن گئے۔
پولیس کے مطابق، ہیمنت مودی پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل تھے جنھیں 2008 میں قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ چھ سال بعد پیرول ملنے پر وہ فرار ہو گئے۔ وہ ممبئی چلے گئے اور اداکار بن گئے اور کئی فلموں، ٹی وی سیریلز اور ویب سیریز میں کام کرتے رہے۔
اب جب وہ احمد آباد میں ایک سیریل کی شوٹنگ کر رہے تھے تو پولیس نے خاص ترکیب لڑا کر انھیں گرفتار کر لیا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے بی بی سی گجراتی نے کرائم برانچ کے افسران اور ہیمنت مودی کے جاننے والوں سے بات کی۔
اس سے یہ بات سامنے آئی کہ اتنے سالوں سے مفرور رہنے والا یہ ملزم آخرکار پولیس کے شکنجے میں کیسے آیا۔
پورا معاملہ کیا تھا؟
احمد آباد کرائم پولیس انسپکٹر پی ایم دھاکڑا نے کہا کہ ’جب ہم سیریل ’موٹی بنی نانی بہو‘ میں کام کرنے والے ایک اداکار کو گرفتار کرنے گئے تو اس کی اداکاری اتنی شاندار تھی کہ انھیں پہچاننا مشکل تھا۔ لیکن ان کی گرفتاری کے وقت درج کیے گئے جسم پر موجود نشانات سے موازنہ کرنے کے بعد ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔
آخرکار انھوں نے اعتراف کر لیا کہ وہی ہیمنت مودی ہیں جو 12 سال سے پولیس سے فرار تھے اور بعد میں اداکاری کے شعبے میں قدم جما لیے تھے۔
تفصیلات کے مطابق قتل سے پہلے ہیمنت مودی احمد آباد کے نارودا علاقے کے سائج پور بوغہ کے علاقے ’داساکی چال‘ میں رہتے تھے۔ 12 جون 2005 کو اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر انھوں نے اپنے بھائی اور دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے پڑوسی کے دوست نریندر تامبلے عرف ننو کا قتل کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چونکہ ہیمنت مودی خود ایک وکیل تھے، اس لیے انھوں نے اپنے ساتھ گرفتار کیے گئے سات افراد کا مقدمہ بھی لڑا۔ لیکن سنہ 2008 میں تین سال تک چلنے والی سماعت کے بعد عدالت نے ہیمنت مودی سمیت تمام سات افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
وکیل ہونے کے ناتے جیل مینوئل سے واقف ہیمنت مودی نے اس وقت کے جیلر کیشو کمار کے خلاف درخواست دائر کی اور شکایت کی کہ وہ ڈپریشن میں ہیں۔ بعد میں انھیں احمد آباد کی سابرمتی جیل سے مہیسانا جیل منتقل کر دیا گیا۔
عدالت کے فیصلے کے چھ سال بعد مہیسانا جیل میں قید ہیمنت مودی کو گجرات ہائی کورٹ سے 30 دن کی پیرول ملی۔ پیرول کے بعد وہ فرار ہو گئے اور ایک اداکار کے طور پر اپنا کریئر بنانے میں مگن ہو گئے۔
پولیس کا کیا کہنا ہے؟
انسپکٹر پی ایم دھاکڑا نے بتایا کہ ہیمنت پیرول ملنے کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ کچھ وقت تک مختلف جگہوں پر رہنے کے بعد وہ اداکاری کے شعبے میں موقع تلاش کرنے کے لیے ممبئی چلے گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں اسے ایک معروف اداکار کے ساتھ سائیڈ رول ملنے لگے، انھیں ڈراموں میں کام ملنے لگا۔ اس دوران انھوں نے اپنا نام بدل کر سپنیل مودی رکھ لیا۔ انھوں نے اپنا ہیئر سٹائل بھی بدل لیا۔ انھوں نے فلموں، ٹی وی سیریلز اور ویب سیریز میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ساؤتھ فلموں کے ساتھ ساتھ انھوں نے گجراتی فلموں میں بھی کام کیا، لیکن کسی نے انھیں پہچانا نہیں، اس لیے ان کا حوصلہ بڑھتا گیا۔ اس طرح وہ گجراتی فلموں کے ساتھ ساتھ سیریلز میں بھی سائیڈ رول کرنے لگے۔‘
پولیس کے مطابق، احمد آباد واپس آنے کے بعد انھوں نے شہر کے کوٹ علاقے میں ایک مکان کرائے پر لیا اور سیریل ’موٹی بنی نانی بہو‘ میں کام کرنے لگا۔
پولیس کے مطابق، جب بھی ہیمنت احمد آباد آتے تھے تو اپنے آس پاس کے لوگوں کو بتاتے تھے کہ وہ ایک بڑے اداکار ہیں۔ لیکن علاقے کے ایک سماجی کارکن کو ان کی سرگرمیوں پر شبہ ہوا، کیونکہ ہیمنت نے اپنا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات اپنے مکان مالک کو نہیں دیے۔
وہاں کے ایک اور وکیل نے سماجی کارکن کو بتایا کہ ہیمنت ایک ایسے مفرور ملزم جیسے لگتے ہیں جو پہلے فرار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد یہ معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔
اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے ہیمنت پر نظر رکھی اور ایک دن جب وہ سیریل کی شوٹنگ مکمل کر کے گھر واپس آ رہے تھے تو انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ پوچھ گچھ کے بعد انھوں نے سب کچھ تسلیم کر لیا۔
پولیس نے کہا کہ ’انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر فلموں اور ڈراموں کے لیے اپنا نام تبدیل کیا تھا، کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ اگر ان کا اصل نام سکرین پر دکھائی دے گا تو اس کے پکڑے جانے کا خدشہ ہوگا۔‘
’ہمیشہ ممبئی میں بڑا اداکار بننے کی بات کرتے‘
بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے گجراتی فلموں کے معروف سنیماٹوگرافر رسک تریویدی نے کہا کہ ’جب میں نے ممبئی کے ایک اداکار کے ساتھ ایک فلم بنائی تھی تو یہ سپنیل میرے پاس فلم میں کام کرنے آئے تھے۔ لیکن میں نے انھیں کام نہیں دیا کیونکہ مجھے ان کی اداکاری پسند نہیں آئی تھی۔‘
ان کے مطابق ’مجھے ان کا چہرہ یاد ہے کیونکہ انھوں نے اس وقت میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ممبئی میں سائیڈ اداکار کا کردار کرتے ہیں۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں۔‘
منیش پٹیل پہلے سائج پور بوغہ میں ’داساکی چال‘ میں رہتے تھے اور سنہ 2018 سے نارَن پورہ میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 2005 میں ہونے والے جھگڑے سے پہلے ہیمنت مودی سب کو قانونی نوٹس دیتے تھے اور لوگوں کو دباؤ میں رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ قتل کے بعد سے اس خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘
بی بی سی گجراتی نے ایک مقامی صحافی کی مدد سے احمد آباد کے کوٹ نامی علاقے میں ایک سیلون کے ملازم اقبال سے بھی بات کی، جہاں ہیمنت رہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب وہ یہاں آتے تھے تو اپنی کریم، ہیئر جیل وغیرہ خود لاتے تھے اور ہمیشہ ممبئی میں بڑا اداکار بننے کی بات کرتے تھے۔ وہ اپنی نئی فلم کے لیے کوٹ نامی علاقے میں رہ کر وہاں کے ماحول کو سمجھنے کی بات کرتے تھے، اس لیے ہم نے اس بارے میں زیادہ سوال نہیں کیے۔‘