امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پانچ ممکنہ بڑے اختلافی نکات کیا ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ Reuters
- مصنف, پال ایڈم
- عہدہ, نامہ نگار برائے سفارتی امور
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے مقام پر تمام تیاریاں مکمل ہیں، سکیورٹی اہلکار اپنے تعیناتی کے مقام پر چوکس ہیں۔ داخلی سڑک کے کناروں کو پیلے اور سیاہ رنگ سے تازہ پینٹ کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں اپنے مہمانوں کے استقبال کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے میزبان کی حیثیت سے پاکستان کے سرکاری حکام کا لہجہ پُرامید ہے جبکہ ان کی گفتگو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بہت سے دیگر ممالک کے برعکس انھیں فریقین کا اعتماد حاصل ہے۔
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس بھی پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں۔
انھوں نے امریکہ سے روانگی سے قبل کہا تھا کہ ’اگر ایران نیک نیتی سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تو ہم بھی یقیناً دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔‘
لیکن ان کے بیان میں ایک تنبیہ بھی چھپی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر وہ ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے، تو وہ جان لیں کہ مذاکراتی ٹیم زیادہ لچک نہیں دکھائے گی۔‘
یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان مذاکرات میں آگے ایک پورے پہاڑ جتنی رکاوٹیں موجود ہیں۔
آئیے ان رکاوٹوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایران کے لبنانی اتحادی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیاں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی انھیں متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔‘
مسعود پزشکیان کے مطابق ’ہماری انگلیاں اب بھی ٹریگر پر ہیں۔ ایران اپنے لبنانی بھائیوں اور بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کے معاملے میں ’کوئی جنگ بندی نہیں۔‘ تاہم بیروت کے جنوبی علاقوں کے رہائشیوں کو بار بار انخلا کی وارننگ دینے کے باوجود اسرائیل نے ابھی تک کوئی مزید کارروائی نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کی’ شدت میں کچھ کمی‘ ہو گی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہوں گے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کم شدت کی یہ کارروائی ایران کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔
آبنائے ہرمز

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک اور بڑا مسئلہ جو مذاکرات میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے وہ ہے اہم تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کے لیے راستہ دینے کے معاملے میں ایران کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔
انھوں نے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران پر بددیانتی کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے درمیان یہ معاہدہ نہیں ہوا تھا۔‘
اس وقت بھی سینکڑوں بحری جہاز اور اندازاً 20 ہزار ملاح خلیج کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور بہت کم جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد، ایران اب اسے باضابطہ شکل دینے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔
ایران اسے خودمختار ایرانی پانی قرار دے رہا ہے اور ایسے نئے قواعد کی بات کر رہا ہے جو یہ طے کریں گے کہ یہاں سے کون گزر سکتا ہے اور کسے اجازت نہیں ہو گی۔
جمعرات کو ایران نے دو موجودہ بحری راستوں کے شمال میں نئے ٹرانزٹ راستے بنانے کا اعلان کیا۔
شپنگ کمپنیوں کے خدشات کو سامنے رکھ کر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ نئے راستے اس لیے ضروری ہیں تاکہ ’مرکزی بحری راستے میں مختلف اقسام کی اینٹی شپ بارودی سرنگوں سے بچا جا سکے۔‘
حالیہ رپورٹس کے مطابق پچھلے چند ہفتوں میں جو چند جہاز یہاں سے گزرنے میں کامیاب ہوئے انھوں نے مبینہ طور پر 20 لاکھ ڈالر (15 لاکھ پاؤنڈ) ٹیکس ادا کیا ہے۔
ان رپورٹس کے سامنے آنے پر صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کو ’ٹینکرز سے فیس نہیں لینی چاہیے۔‘
جوہری تنازع
سب سے بڑا اور یقینی طور پر سب سے پرانا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کا ہے۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ اس لیے بھی شروع کر رہے ہیں تاکہ ایران کا کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کیا جانا یقینی بنایا جا سکے۔‘
دوسری جانب ایران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے کبھی بم بنانے کی کوشش نہیں کی تاہم اس دعوے پر زیادہ تر مغربی حکومتیں شدید شکوک رکھتی ہیں۔
ایران کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دستخط کنندہ ہونے کے باعث اسے شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایران کی 10 نکاتی تجویز جسے ٹرمپ نے ’مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد‘ قرار دیا ہے اس میں اس کے افزودگی کے حق کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدگی کا مطالبہ شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اپنے 15 نکاتی منصوبے میں یہ مطالبہ شامل ہے کہ ایران ’اپنی سرزمین پر ہر قسم کی یورینیم کی افزودگی ختم کرے گا۔‘
رواں ہفتے کے شروع میں جب اس بارے میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے پوچھا گیا تو انھوں نے صرف یہ کہا کہ ایران کے پاس’کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکے گا اور نہ ہی ان تک پہنچنے کی صلاحیت۔‘
بین الاقوامی مذاکرات کاروں کو 2015 کے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) تک پہنچنے میں برسوں لگے، جس نے اس پیچیدہ مسئلے کو انتہائی تفصیل سے حل کیا تھا۔
تو کیا فریقین نئے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں؟
ایران کے علاقائی اتحادی
ایران کے خطے میں موجود اتحادیوں اور پراکسی گروہوں نے تہران کو خطے میں خاص اثر و رسوخ دیا ہے، ان میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، غزہ میں حماس اور عراق میں مختلف ملیشیاؤں کے گروہ شامل ہیں۔
انھی کے ذریعے ایران اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے طویل تنازعات میں وہ حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے جسے اکثر ’فاروَرڈ ڈیفنس‘ کہا جاتا ہے۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے مزاحمت کا محور کہلائے جانے والے اس نیٹ ورک کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔
اس کا ایک حصہ سابق شامی صدر بشارالاسد کی حکومت تھی تاہم اس حکومت کا وجود اب ختم ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل’محورِ شر‘ قرار دیے جانے والے اس پورے ڈھانچے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتا ہے۔
ایسے وقت میں جب ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے بہت سے ایرانی چاہتے ہیں کہ حکومت اس تمام مہم جوئی پر کم اور عوام کی زندگی بہتر بنانے پر زیادہ خرچ کرے۔
تاہم ابھی تک اس بات کے واضح آثار نہیں ہیں کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے۔
پابندیوں میں نرمی
ایران کئی دہائیوں سے سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر وہ امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جمعے کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے تقریباً 120 ارب ڈالر (89 ارب پاؤنڈ) کے منجمد اثاثے بحال کیے جانے چاہییں۔
ان کے مطابق یہ دو پہلے سے طے شدہ اقدامات میں سے ایک ہے جن میں دوسرا لبنان میں جنگ بندی سے متعلق ہے۔
تاہم سات اپریل کو پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان میں منجمد اثاثوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
یہ واضح نہیں کہ قالیباف کس معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔ بظاہر اس کا امکان کم ہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ محض مذاکرات کا آغاز کرنے کے لیے اتنی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہو۔


























