’پی سی بی سربراہ نے اپنی ٹورنامنٹ پالیسی کی نفی کر دی‘: محسن نقوی کا وہ بیان جس پر انھیں انڈیا اور پاکستان میں تنقید کا سامنا ہے

محسن نقوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 5 منٹ

ان دنوں انڈیا اور پاکستان میں ٹی 20 لیگز یعنی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کھیلے جا رہے ہیں لیکن دونوں لیگز میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ آئی پی ایل کے میچز میں جہاں سٹیڈیم ناظرین سے کھچا کھچ بھرے نظر آ رہے ہیں وہیں پی ایس ایل میں سٹیڈیمز خالی ہیں۔

ایسے میں حال ہی میں نیشنل سٹیڈیم کراچی میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اس بابت سوال کیا گیا تو ان کا جواب سن کر سوشل میڈیا صارفین نے محسن نقوی کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں میں انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے صارفین شامل تھے۔

مقامی میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ انڈیا اور پاکستان کی صورت حال مختلف ہے جہاں انڈیا کو ایندھن کے مسائل درپیش ہیں، وہیں پاکستان اس سے محفوظ ہے۔

محسن نقوی نے اپنے بیان میں کیا کہا؟

دراصل نیشنل سٹیڈیم کراچی میں وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین سے سوال کیا گیا کہ ’لوگوں میں ایک تشویش ہے کہ اس وقت دو لیگز چل رہی ہیں۔ ہم اسے زیادہ ہائی لائٹ نہیں کرتے لیکن وہاں لوگ آ رہے ہیں تو لوگوں کو لگتا ہے کہ خطے میں بحران ہے، پھر بھی لوگ آ رہے ہیں۔ یہ بھی ایک مثال کے طور پر استعمال ہو گا۔‘

اس پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا مؤقف کچھ اور ہے۔ ’وہاں (انڈیا) پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں ہیں، ایندھن کی کمی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے ملک میں ایسا نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ جو اس مشکل وقت میں اپنے آپ کو تھوڑا منظم کر لیتا ہے، اس کے لیے آسانی ہو جاتی ہے۔‘

محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کی آج کافی دن کے بعد پی ایس ایل کے ٹیم اونرز اور ٹیم کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ہے۔ کراچی والوں نے بھی کافی لوگوں نے کہا ہے، تو میں آنے والے دنوں میں دوبارہ وزیرِ اعظم صاحب سے مل کر درخواست کروں گا کہ کیا امکانات ہیں۔‘

’لیکن آپ کو دیکھنا چاہیے کہ ایک طرف دنیا میں کیا حالات ہیں، تیل کا کیا بحران ہے، ان سب کو دیکھ کر کوئی درمیانی فیصلہ کرتے ہیں لیکن میں وزیرِ اعظم صاحب سے ضرور درخواست کروں گا۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ کے آخر میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کا 11واں سیزن 26 مارچ سے شروع ہو گا تاہم خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث اس بار میچز صرف دو شہروں میں ہوں گے اور شائقین میچز دیکھنے سٹیڈیم بھی نہیں آ سکیں گے جبکہ افتتاحی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پتا نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کب تک چلتی ہے اور مشاورت کے دوران ہمیں پی ایس ایل کے دوران نقل و حمل کم رکھنے کو کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی اس جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ایندھن کی کمی سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات متعارف کروائے ہیں، جس میں نقل و حمل میں کمی بھی شامل ہے۔

گیس کے لیے لمبی قطاریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمشرق وسطی میں جاری بحران کی وجہ سے انڈیا میں بے چینی ضرور دیکھی جا رہی ہے

کیا انڈیا کو واقعی ایندھن بحران کا سامنا ہے؟

انڈین میڈیا ہاؤس ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں ایندھن کی قیمتیں اپریل 2026 تک مستحکم رہیں، جس میں سپلائی میں رکاوٹ یا لمبی قطاروں کی کوئی اطلاع نہیں۔

لیکن دوسری ہی جانب مشرق وسطی میں جاری بحران کی وجہ سے انڈیا میں بے چینی ضرور دیکھی جا رہی ہے۔ لوگ کھانا پکانے کے ایندھن (ایل پی جی) کی کمی کی وجہ سے شہر چھوڑ کر دیہات کا رخ کر رہے ہیں جبکہ گیس کی سپلائی کی کمی کی وجہ سے بہت سے ریستوران بند ہو رہے ہیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ تو ہوا لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔

ادھر ’دی ہندو‘ نے انڈین حکومت کے حوالے سے 27 مارچ کو ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انڈیا کے پاس 60 دن کا تیل اور گیس موجود ہے اور کسی قسم کی راشننگ نہیں کی جا رہی۔

آئی پی ایل کے میچوں میں زبردست رش ںظر آ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہDeccanChronicle/X

،تصویر کا کیپشنآئی پی ایل کے میچوں میں زبردست رش ںظر آ رہا ہے

سوشل میڈیا پر ردعمل

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بہت سے انڈین صارفین نے انڈیا میں ایندھن کے بحران کے بارے میں محسن نقوی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔ انھوں نے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل میں ہونے والے حالیہ اضافے کا ذکر کیا جو ابتدا میں 40 فیصد سے لے کر 55 فیصد تھا جس میں بعد میں تخفیف کی گئی۔

نہ صرف انڈین صارفین نے محسن نقوی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پاکستان کے بعض صارفین نے بھی ان کے بیان میں تضاد کی نشاندہی کی۔

گلی پوائنٹ نامی ایکس ہینڈل نے اس کے متعلق لکھا: ’محسن نقوی نے پاکستان میں ایندھن کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایس ایل میں تماشائیوں کی موجودگی منسوخ کر دی، پھر یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ انڈیا میں پیٹرول کے لیے طویل قطاریں ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں۔‘

’پی سی بی کے سربراہ نے ایک ہی سانس میں اپنی ہی ٹورنامنٹ پالیسی کی نفی کر دی۔ یہ حکمتِ عملی نہیں بلکہ قیادت کی کنفیوژن ہے۔‘

عبد اللہ نامی ایک صارف نے محسن نقوی کے بیان کو نقل کرتے ہوئے اس ’شاکنگ‘ قرار دیا جبکہ کرکیزر نامی ایک صارف نے اس موازنے کو ’فضول‘ قرار دیا۔

پی جی ٹروتھ ٹیلر نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ لوگ اگلے دس سال تک حکومت کرتے رہیں گے۔ وہ قوم کو چورن دیتے ہیں اور قوم انھیں ہضم کر لیتی ہے۔‘