بدر مفاہمتی یادداشت: پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کی دفاعی طاقت اور انڈیا میں تشویش

ترکی
    • مصنف, اسماعیل شیخ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

بدھ کے روز پاکستان۔ ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعتوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت کو مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ایک جانب جہاں یہ سوال ہو رہا ہے کہ اس نئے اتحاد کی اہمیت کیا ہے اور اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا وہیں انڈیا میں بھی اس بارے میں بات چیت ہو رہی ہے۔

قطر کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تعاون بڑھانے اور سٹریٹیجک شراکت داریوں کو فروغ دینے کے عزم کے تحت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 'بدر' کے نام سے ایک کثیرالجہتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

بیان کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت پر قطر، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکی کی وزارتِ دفاع، پاکستان کے ادارہ برائے دفاعی پیداوار اور ترکی کے صدارتی محکمہ برائے دفاعی صنعتوں نے دستخط کیے۔

اس تقریب میں قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، ترکی کے وزیرِ دفاع یاشر گولر، انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع برائے لاجسٹکس، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی امور مارشل یوسف جوہری، اور ترکی کے ادارۂ دفاعی صنعت (ایس ایس بی) کے سربراہ پروفیسر ہالوک گورگون نے شرکت کی۔

’مفاہمتی یادداشت کا مقصد دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا، چاروں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، اور تکنیکی دفاعی تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو بڑھانا ہے۔ اس کے ذریعے جدید دفاعی تقاضوں سے ہم آہنگ حل اور صنعتوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔‘

قطری وزارتِ دفاع کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت دستخط کرنے والے ممالک کے لیے معاشی لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دفاعی پیداوار کے شعبے میں ہر ملک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعاون، اشتراک اور دفاعی صنعت کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے گا، تاکہ اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کی جا سکیں۔

Badr MoU

’پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو اہمیت دیتا ہے‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اس حوالے سے جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دفاعی صنعتوں کی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود انحصاری، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کرنے کا خواہاں ہے، اور یہ تمام اقدامات متعلقہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین و ضوابط کے مطابق ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا مقصود ہے۔

Badr MoU

پاکستان، قطر، ترکی اور انڈونیشیا کی عسکری طاقت

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میں تقریباً چھ لاکھ 60 ہزار فعال اہلکار ہیں جبکہ ترکی میں یہ تعداد چار لاکھ 81 ہزار اور انڈونیشیا میں چار لاکھ سے زائد مسلح افواج کے اہلکار فعال ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت میں شامل چوتھے ملک قطر میں مسلح افواج کے فعال اہلکاروں کی تعداد دیگر تین ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے اور محض 26 ہزار 550 اہلکار اس وقت فعال ہیں۔

سویڈن میں قائم سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کے ڈیٹا کے مطابق 025 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر اور ترکی کے 30 ارب ڈالر رہے۔ دنیا میں سب سے بڑے دفاعی بجٹ والے ممالک کی فہرست میں ترکی 18ویں نمبر پر جبکہ پاکستان 31ویں نمبر پر ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت میں شامل تیسرے ملک انڈونیشیا نے 2025 میں 15 ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے جو کہ 2024 کے مقابلے میں تقریباً 26 فیصد زیادہ ہے۔

سپری پر قطر کے دفاعی بجٹ کے 2022 کے بعد کے برسوں کے اعدادوشمار دستیاب نہیں۔

اس بات کے قطع نظر کہ قطر کے فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد محض 26 ہزار 500 ہیں، سپری کے ڈیٹا کے مطابق 2022 میں قطر کا دفاعی بجٹ 15.4 ارب ڈالرز تھا۔

JF17

ان ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدے

دوحہ میں دستخط ہونے والے مفاہمتی یادداشت میں شامل ممالک کے درمیان پہلے سے ہی متعدد دفاعی تعاون کے منصوبے جاری ہیں۔

ترکی اور پاکستان پہلے ہی 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا حصہ ہیں جس میں تیسرا فریق سعودی عرب ہے۔

دفاعی پیداوار کے لحاظ سے ترکی ان چاروں ممالک میں بظاہر سب سے آگے دکھائی دیتا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیو (سپری) کے مطابق، گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ترکی کی دفاعی برآمدات میں 122 فیصد اضافے کے بعد دنیا کا گیارہواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی صنعت کے تعاون کی ایک مثال پاکستان بحریہ کے لیے ملجم بابر کلاس کارویٹ منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کے تحت چار کارویٹس تیار کیے جانے ہیں جن میں سے پہلی دو جہاز استنبول میں جبکہ باقی دو کراچی شپ یارڈ میں تیار کی گئیں۔

ترک میڈیا کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف کراچی شپ یارڈ کے پیداواری ڈھانچے کو جدید بنایا گیا بلکہ جہازوں کی تیاری سے متعلق انجینیئرنگ صلاحیتیں منتقل کی گئیں۔

Turkey drone
،تصویر کا کیپشنترکی کا تیار کردہ بیرکتار ڈرون

ترکی اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعت کے تعاون کی نمایاں مثال کپلان ایم ٹی ٹینک کی تیاری کا منصوبہ ہے۔

کپلان ایم ٹی کو ترک دفاعی کمپنی ایف این ایس ایس اور انڈونیشیا کی پی ٹی پنڈاد نے مشترکہ طور پر ڈیزائن اور تیار کیا۔

اس کے علاوہ ترکی اور قطر کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی شراکت داری موجود ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق انقرہ پہلے ہی قطری مسلح افواج مسلح ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور تیز رفتار حملہ آور بحری کشتیاں فراہم کر رہا ہے۔

دوسری جانب رواں برس کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان متعدد ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں بالخصوص پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کردہ جے ایف-17 تھنڈر کی فروخت پر بات چیت کر رہا ہے۔ ممکنہ طور پر جن ممالک نے پاکستان سے جے ایف-17 کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی ان میں انڈونیشیا بھی شامل ہے۔

جنوری میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے بی بی سی اردو کے روحان احمد کو تصدیق کی تھی کہ جے ایف-17 تھنڈر کی فروخت کے معاہدے پر متعدد ممالک سے ’مذاکرات‘ ہو رہے ہیں۔

تاہم بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کسی بھی ملک کا نام لینے سے اجتناب برتا اور کہا: ’یہ محفوظ رکھے جانے والے راز ہیں، میں کسی ملک کا نام نہیں لے سکتا کہ ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات کس سطح پر ہیں۔‘

A view from the launching of the first ship Akhisar and the second ship Kochisar as part of the Turkish Navy's Offshore Patrol Ships Project (ADKG), and the delivery ceremony of PNS Babur

اس مفاہمتی یادداشت کا کیا مطلب ہے؟

مشرق وسطی میں جاری تنازعات اور پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آیا مفاہمتی یادداشت اس ہی طرز کا معاہدہ ہے۔

اس متعلق انقرہ میں مقیم فری لانس صحافی لیونت کمال لکھتے ہیں کہ یہ یادداشت کسی بھی لحاظ سے مکہ معاہدے سے مشابہت نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ یہ دونوں معاہدے ایک دوسرے کی تکمیل کریں گے، تو اس بارے میں ابھی کچھ کہنا بہت قبل از وقت ہے۔‘

کمال کہتے ہیں خلیجی خطے کی اپنی سیاسی حرکیات اور ترجیحات ہیں۔ ’اس سیاسی نقشے میں ایسی کئی حد بندیاں اور خطوط موجود ہیں جن پر بیرونی فریقوں کے لیے محض معاہدوں اور اتحادوں کے ذریعے اثر انداز ہونا آسان نہیں۔‘

اٹلانٹک کونسل سے منسلک عمر صمد لکھتے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدے کے محض چند ہفتوں کے ہونی والی مفاہمتی یادداشت مسلم دنیا میں ابھرنے والے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ان اقدامات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کئی سنی اکثریتی ریاستیں کشیدگی اور غیر یقینی کے اس صورتحال میں اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی ’مسلم نیٹو‘ کے قیام کی ابتدا نہیں ہے نہ ہی یہ کسی سخت گیر جغرافیائی سیاسی اتحاد کی تشکیل کی کوشش ہے۔

’یہ مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے، ہم خیال شراکت داروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے اور بیرونی طاقتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنے کی ایک عملی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔‘

انڈیا میں بدر مفاہمتی یادداشت اور پاکستان کے بارے میں کیا بحث ہو رہی ہے؟

بدر مفاہمتی یادداشت میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے انڈیا میں کافی بحث دیکھنے میں آ رہی ہے اور کئی صارفین اسے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، جس میں پاکستان اور ترکی کے علاوہ سعودی عرب بھی شامل ہے، کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

اس ہی تناظر میں رتیش جین نامی ایکس صارف لکھتے ہیں کہ بظاہر سعودی اپنے ملک کا دفاع خود کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے ممالک سے فائدہ اٹھائے گا جنھیں وہ فوجی خدمات بطور سروس فراہم کرے گا۔ ’آنے والے برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمد بن جائے گی۔‘

جیو پولیٹیکل امور کے ماہر انکُر اگروال ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان یقیناً فوجی خدمات بطور سروس فراہم کرے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ [انڈین وزیرِ اعظم] ’مودی نے پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا۔‘

اگروال کے مطابق ’آپریشن سندور‘ کے جواب میں پاکستان کی مضبوط کارکردگی اور بیانیے نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

نکیت سونی ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’بدر مفاہمتی یادداشت کے تحت ترکی، پاکستان، قطر اور انڈونیشیا دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس سے انڈیا کو لاحق ممکنہ خدشات واضح ہیں جن میں پاکستان کے دفاعی تعلقات کا مزید مضبوط ہونا اور ترکی کی جانب سے پاکستان کو زیادہ فوجی معاونت ملنے کا امکان شامل ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ طور پر ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں کی تیاری کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہِں کہ یہ اتحاد انڈیا مخالف ہو۔ ’اصل سوال یہ ہے کہ اس تعاون کے نتیجے میں کون سی نئی فوجی صلاحیتیں سامنے آتی ہیں اور وہ خطے میں طاقت کے توازن کو کس حد تک متاثر کرتی ہیں۔‘