مذاکراتی وفود کے طیاروں کی براہ راست ٹریکنگ اور ’میناب 168‘ کی نشستوں پر رکھے سکول بیگ اور بچوں کی وائرل تصاویر

،تصویر کا ذریعہ@mb_ghalibaf
- مصنف, اسماعیل شیخ
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں شیڈول مذاکرات کے لیے تہران کا وفد سنیچر کی علی الصبح پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر پہنچا تو وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں کہ آیا تہران مذاکرات کا حصہ بنے گا بھی یا نہیں۔
اس قیاس آرائیوں کی بنیادی وجہ تہران کی جانب سے مذاکرات کے لیے دی گئی چند ’پیشگی شرائط‘ تھیں۔
پاکستان میں لینڈنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ان مذاکرات میں ایران کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر شیئر کی جو کافی وائرل ہوئی۔
یہ تصویر اس طیارے میں لی گئی ہے جو ایرانی وفد کو لے کر رالپنڈی کے نور خان ایئربیس پہنچا تھا۔
اس تصویر میں طیارے کی نشستوں پر چار بچوں کی تصاویر رکھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ہر تصویر سکول بیگ کے اوپر رکھی گئی ہے اور ساتھ ہی ہر سیٹ پر سفید رنگ کا ایک پھول بھی رکھا ہوا ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ میں اس تصاویر کے ساتھ لکھا کہ ’اس پرواز میں میرے ساتھی۔‘
بی بی سی فارسی نے اس وفد میں شامل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی بھی طیارے میں بچوں کی تصاویر کے ساتھ لی گئی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@s_a_araghchi
ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام ’میناب 168‘ رکھا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ایرانی حکام کے مطابق ’میناب‘ شہر میں بچوں کا ایک سکول ’شحرہ طیبہ‘ 28 فروری کو ہونے والے ایک میزائل حملے میں تباہ ہوا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس واقعے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کثیر تعداد بچوں کی تھی۔
قالیباف اور عباس عراقچی کی شیئر کی گئی تصاویر بظاہر ان ہی میں سے چار بچوں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کہہ چکے ہیں کہ میباب واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق دو ایرانی سرکاری طیارے ’ایران فور‘ اور ’ایران فائیو‘ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے تھے۔
ان میں سے’ایران فور‘ نے شمالی ایران کے شہر گرگان سے پرواز بھری تھی۔ عام طور پر ایرانی سرکاری طیارے تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ سے پرواز کرتے ہیں تاہم حالیہ جنگ کے دوران اس ہوائی اڈے کو کئی بار نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں طیارے ’ایران فور‘ اور ’ایران فائیو‘ افغانستان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے پاکستان پہنچے تھے۔
ان طیاروں کی پرواز کے دوران ہزاروں افراد نے مختلف فلائیٹ ٹریکنگ سائٹس کے ذریعے اس طیاروں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔
ایکس پر سینکڑوں صارفین نے ’فلائٹ ریڈار 24‘ سے حاصل کیے گئے ان طیاروں کی ٹریکنگ کے سکرین شاٹ شیئر کیے تھے اور ریئل ٹائم میں ان کی پوزیشن کے بارے میں اطلاعات دی جا رہی تھیں۔
اس کی بنیادی وجہ تو ان مذاکرات میں دنیا کی دلچسپی ہے۔
ایرانی وفد ہی کی طرح جب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد پاکستان کے لیے روانہ ہوا تو اُن کے طیارے کو بھی ہزاروں افراد ٹریک کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہFlightRadar24
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اوپن سورس انفارمیشن کے ذریعے امریکہ کے سرکاری طیاروں پر نظر رکھنے والے ایکس اکاؤنٹ ’یو ایس گورنمنٹ جیٹس‘ کے مطابق پاکستان کے نور خان ایئر بیس آنے کے لیے امریکہ سے تین طیاروں نے جمعہ کے رات اڑان بھری تھی۔
’یو ایس گورنمنٹ جیٹس‘ کے مطابق ’ایس اے ایم 091‘ نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ ہے جبکہ ’این 471‘ یو ایس میں ممکنہ طور پر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر موجود ہیں۔ تاہم فلائٹ ریڈار 24 پر اس طیارے، این 471، کو ٹریک نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ تیسرا طیارہ ’ایس اے ایم 095‘ ہے۔
جے ڈی اینس کا طیارہ، جسے سرکاری سطح پر ’ایئر فورس ٹو‘ کہا جاتا ہے، نے ری فیولنگ کے لیے فرانس کے شہر پیرس میں لینڈنگ کی تھی، جو کہ شیڈول کے مطابق تھی۔
بعد ازاں یہ طیارہ پیرس کے ایئر پورٹ سے روانہ ہوا۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس کی منزل نور خان ایئر بیس ہے۔
اس طیارے پر بھی بہت سے لوگوں کی نظریں جمی رہیں۔ اور یہ مختلف فلائیٹ ٹریکنگ سائٹس پر ریئل ٹائم میں سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پروازوں میں سے ایک ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے صرف ’فلائیٹ ریڈار 24‘ پر ’ایس اے ایم 095‘ کو 32 ہزار افراد ٹریک کر رہے تھے جبکہ ’ایس اے ایم 091‘ کو اس سائیٹ پر 9144 افراد ٹریک کر رہے تھے۔
جیسے جیسے یہ امریکی طیارے پاکستانی فضائئ حدود کے قریب آتے گئے ویسے ویسے انھیں ٹریک کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
امریکی نائب صدر کے وفد میں شامل طیارے ایس اے ایم 091 اور ایس اے ایم 095 ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔



























