آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوگل گلاس کی ناکامی کے بعد ایک اور کوشش: اس بار گوگل کے سمارٹ چشموں میں کیا مختلف ہے؟
- مصنف, کالی ہیز
- عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
- مصنف, للی جمالی
- عہدہ, شمالی امریکہ کی نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
- مقام, ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
گوگل کلاس کی معروف ناکامی کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد گوگل سمارٹ چشمے لانے کی ایک اور کوشش کر رہا ہے۔
یہ چشمے موسم سرما میں کسی وقت فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ ان چشموں کے فریم میں ایک چھوٹا کیمرہ اور بازوؤں میں چھوٹے سپیکرز ہوں گے۔ ان کے ذریعے صارف گوگل کے مصنوعی ذہنات کے پروگرام جیمینائی سے بات چیت کر سکے گا۔
گوگل نے منگل کو اپنی سالانہ ڈیویلپر کانفرنس کے دوران پہلی بار ان چشموں کی رونمائی کی۔ ایک چشمے کا ڈیزائن واربی پارکر نے بنایا ہے اور دوسرے کا جینٹل مانسٹر نے۔
گوگل گلاس سنہ 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا لیکن سنہ 2015 میں جب یہ برطانیہ میں جاری کیا گیا، تو اجرا کے سات ماہ بعد ہی قیمت اور راز داری سے متعلق رد عمل کے باعث اسے واپس لے لیا گیا۔
منگل کو تقریب سے خطاب میں گوگل کے ایک ایگزیکٹو شہرام ازادی نے کہا کہ نئے سمارٹ چشمے پہننے والے کا ’ہاتھ آزاد اور سر اونچا‘ کریں گے۔
گوگل کے مطابق یہ چشمہ اینڈرائڈ اور ایپل، دونوں طرح کی ڈیوائسز کے ساتھ کام کرے گا۔
ازادی نے مزید کہا: ’انھیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ آپ سارا دن جیمینائی سے مدد لے سکیں گے، مصنوعی ذہانت کا یہ سافٹ ویئر کسی سکرین پر ڈسپلے کے بجائے آپ کے کان میں بات کرے گا۔‘
اگرچہ کمپنی چشموں کے ایسے ورژن پر بھی کام کر رہی ہے جس میں لینس کے اندر ڈسپلے ہو گا، جو چشمہ پہننے والے کو لکھا ہوا متن اور معلومات دکھائے گا، یعنی صرف آڈیو تک محدود نہیں ہو گا، تاہم فی الحال ایسے چشمے جاری کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا میں منعقید کی گئی تقریب میں ازادی نے کہا کہ لینس میں ڈسپلے والے چشموں کے بارے میں مزید معلومات اس سال کے آخر میں سامنے آئیں گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ڈیویلپرز پہلے ہی ان چشموں کے لیے ایپلی کیشنز پر کام کر رہے ہیں۔
راز داری کے خدشات
گوگل کی اس ’ذہین‘ عینک کی بنیادی خصوصیات بظاہر ان چشموں سے ملتی جلتی ہیں جو میٹا نے پیش کیے ہیں۔ میٹا کے چشموں میں بھی ایک چھوٹا کیمرہ اور سپیکر ہیں، اور ان میں بھی میٹا کے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے۔
میٹا نے سنہ 2021 میں سمارٹ چشموں کی فروخت شروع کی، اور گذشتہ برس ستمبر میں رے بین اور اوکلی برانڈز کے اشتراک سے اے آئی صلاحیتوں کے حامل گلاسز کی ایک نئی رینج متعارف کروائی تھی۔ یہ گلاسز لکھی تحاریر کا ترجمہ یا صارف جن مناظر کو دیکھ رہا ہو ان کے متعلق سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے حامل یہ چشمے بالخصوص نابینا یا جزوی طور پر بصارت سے محروم افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق میٹا کے رے بین چشمے پہلے ہی 70 لاکھ کی تعداد میں فروخت ہو چکے ہیں۔
تاہم، راز داری کے جن خدشات کا سامنا ایک دہائی سے زیادہ پہلے گوگل گلاس کو ہوا تھا، انھی خدشات کا سامنا میٹا کے چشموں کو بھی ہے۔
عوامی اور نجی مقامات پر لوگوں کو آگاہ کیے بغیر ان کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔ یہ کام اکثر وہ لوگ کر رہے ہیں جنھوں نے میٹا کے چشمے پہن رکھے ہوتے ہیں۔ اور ویڈیوز بنائے جانے کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ آن لائن شائع کر دی جاتی ہیں۔
سنیپ (ایک ٹیکنالوجی کمپنی جس نے سنیپ چیٹ نامی سوشل میڈیا ایپلی کیشن بنائی ہے) سے بھی توقع ہے کہ وہ اس سال اپنے سمارٹ چشموں کا نیا ورژن جاری کرے گی، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایپل بھی ایسے چشمے لانے پر کام کر رہا ہے۔
نئے کاروبار کو سرمایہ فراہم کرنے والی وینچر کیپیٹل فرم گلوبل 500 سے وابستہ سرمایہ کار کرسٹین سائی نے کہا کہ چشموں کے شعبے میں گوگل کی دوبارہ آمد ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ صارفین کے لیے اچھا ہے۔ اور یہ ابتدائی مرحلے کے ان سٹارٹ اپس کے لیے بھی اچھا ہے جہاں ہم سرمایہ کاری کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ مزید صلاحیتیں حاصل کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سمارٹ فون کے بعد اب سمارٹ چشمے مقبول ہو رہے ہیں۔
ڈیویلپر انیل شاہ نے کہا کہ سمارٹ چشمے ان بہت سی خدمات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو گوگل پہلے ہی فراہم کرتا ہے، جیسے گوگل میپس اور گوگل وائس۔
انھوں نے کہا: ’یہ ان کی مصنوعات کی فہرست میں ایک عمدہ اضافہ ہے۔‘